جمعرات,  26 فروری 2026ء
سرکاری سکولوں کی نجکاری: تعلیمی انقلاب یا ریاست کا اپنی ذمہ داریوں سے فرار؟

کمرسر کے افق سے
تحریر: محمد مدثر حسین خٹک
(ای میل: mudasserhussain890@gmail.com)

کسی بھی باشعور اور مہذب معاشرے میں تعلیم کو کبھی کاروبار نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ریاست کی وہ بنیادی اور اولین ذمہ داری ہوتی ہے جس پر قوموں کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A بھی اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ پانچ سے سولہ سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ مگر بدقسمتی سے، ہمارے ہاں تعلیم کے شعبے کو تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے ہزاروں سرکاری سکولوں کو آؤٹ سورس (Outsource) کرنے یا نجی شعبے (NGOs اور پرائیویٹ پارٹنرز) کے حوالے کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اس نے ملک بھر کے تعلیمی حلقوں، اساتذہ اور غریب والدین میں ایک گہری تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حکومتِ وقت اسے “پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ” اور تعلیمی نظام کی بہتری کا نام دے رہی ہے، جبکہ اساتذہ اور سول سوسائٹی اسے سیدھی سادی “نجکاری” (Privatization) اور ریاست کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے فرار قرار دے رہے ہیں۔

اگر ہم تصویر کے ایک رُخ کو دیکھیں تو حکومتِ پنجاب کا یہ استدلال ہے کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی عدم دستیابی، گھوسٹ سکولوں کی بھرمار، گرتا ہوا تعلیمی معیار، اور بجٹ کا ضیاع وہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر حکومت یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ نجی شعبے کی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، بلکہ اساتذہ اور طلباء کی حاضری کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ حکومت کی اس بات میں وزن ہے کہ کئی سرکاری سکولوں میں اساتذہ بھاری تنخواہیں لینے کے باوجود وہ نتائج نہیں دے رہے جو پرائیویٹ سکولوں کے معمولی تنخواہ دار اساتذہ دے رہے ہیں۔

لیکن تصویر کا دوسرا اور بھیانک رُخ وہ ہے جس سے غریب عوام اور لاکھوں سرکاری اساتذہ خوفزدہ ہیں۔ سرکاری سکول غریب، مزدور اور کسان کے بچوں کی آخری امید ہیں۔ جب یہ سکول پرائیویٹ سیکٹر یا این جی اوز کے حوالے کیے جائیں گے، تو کیا اس بات کی کوئی گارنٹی ہے کہ مستقبل میں یہ نجی ادارے فیسوں، فنڈز یا دیگر اخراجات کی مد میں غریب والدین کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈالیں گے؟ نجی شعبہ ہمیشہ منافع (Profit) کے اصول پر کام کرتا ہے۔ وہ کوئی فلاحی ادارہ نہیں ہوتا۔ ابتداء میں شاید فیس نہ لی جائے، لیکن آہستہ آہستہ مختلف چارجز کی مد میں تعلیم کو اتنا مہنگا کر دیا جائے گا کہ غریب کا بچہ سکول جانے کی بجائے ورکشاپس یا ہوٹلوں پر کام کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

بطور کالم نگار، جب میں اس پالیسی کا موازنہ اپنے آبائی اور پسماندہ علاقے تحصیل عیسیٰ خیل، ٹولہ بھنگی خیل اور کمرسر (UC-12) جیسے علاقوں سے کرتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ شہروں میں تو شاید کوئی پرائیویٹ پارٹنر منافع بخش سمجھ کر سکول چلا لے، لیکن میانوالی اور کمرسر کے ان دور افتادہ، دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں کون سی NGO یا نجی ادارہ آئے گا؟ یہاں پہلے ہی ہائی سکول اور کالجز کا فقدان ہے۔ اگر موجودہ پرائمری اور مڈل سکولوں کو بھی تجربات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تو ان علاقوں کے ہزاروں غریب طلباء کا مستقبل تاریک ترین ہو جائے گا۔ اساتذہ کے خدشات بھی اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ وہ اساتذہ جنہوں نے پبلک سروس کمیشن (PPSC)اور این ٹی ایس (NTS)کے مشکل ترین امتحانات پاس کر کے میرٹ پر نوکریاں حاصل کیں، آج وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کی ملازمتوں کا تحفظ اور ان کی عزتِ نفس داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

تعلیمی نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں، اس سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن اصلاحات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری ہی کسی اور کے کاندھوں پر ڈال دے۔ حکومتِ پنجاب اور وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ آؤٹ سورسنگ کی اس پالیسی پر نظرِ ثانی کریں۔ اگر سکولوں کی حالت زار بہتر بنانی ہے تو محکمہ تعلیم کے مانیٹرنگ سسٹم (Monitoring System) کو جدید اور سخت کیا جائے۔ جو اساتذہ کام نہیں کرتے، ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے، اور جو اسکول سہولیات سے محروم ہیں، وہاں فنڈز فراہم کیے جائیں۔ تعلیم کو کاروباری مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑنا کسی صورت بھی دانشمندی نہیں، کیونکہ جب تعلیم بکنے لگتی ہے تو قومیں بک جاتی ہیں۔

مزید خبریں