اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں پسند کی شادی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ہے۔
عدالت نے لڑکی کے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ مبینہ جعلی نکاح کے حوالے سے متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔
لڑکی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ “مجھے اغوا نہیں کیا گیا، میں نے مرضی سے شادی کی ہے۔”
بیوی کو گھورنا،طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی،گالی دینا جرم قرار
لڑکی کے والدین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی کی عمر 12 سال ہے اور کم سن بچی کا نکاح قانونی طور پر ممکن نہیں۔
جسٹس حسن رضوی نے سماعت کے دوران کہا کہ لڑکی 12 سال کی کسی طرح نہیں لگتی اور اس نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان بھی دیا ہے۔
جسٹس حسن رضوی کا کہنا تھا کہ لڑکی کہہ رہی ہےوہ اغوانہیں ہوئی، خود کو بالغ بتا رہی ہے اور لڑکی کی شادی کو 6 ماہ ہو چکے ہیں











