کشمیری خواتین بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں۔افضل خان

مانچسٹر (نمائندہ خصوصی )خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر شیڈو ڈپٹی لیڈر ویسٹمنسڑہاوس آف پارلیمنٹ افضل خان نے وائٹ ربن یوکے کے عہد پر دستخط کیے۔انھوں نے کہا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں عذر یا خاموش نہیں رہیں گے۔ لیبر پارٹی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی وبا کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
افضل خان نے کہا کے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کرونا کی عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، مگر ہمارے ہاں خواتین پر جتنا بھی ظلم ہو، ہم اسے ہمیشہ ہلکا ہی لیا جاتا ہے، ایک طرف تو عالمی ایوانوں میں خواتین کے حق میں بلند و بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں تو دوسری جانب کشمیری خواتین بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں اور یہ کے عالمی برادری کا دہرا معیار۔

کشمیر کی بیٹیاں بھارتی ظلم و ستم کا شکار ہیں خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے عالمی دن پر بھی کشمیری خواتین مسیحائی کی منتظر ہیں۔ جنت نظیر وادی پر ناجائز بھارتی تسلط کے باعث خوف، دہشت، عدم تحفظ، ظلم و تشدد، سوگ اوراذیت کا شکار کشمیری خواتین کا ہر دن جبر کے سائے میں گزرتا ہے۔ کسی کو بیٹے کی شہادت کا غم مارتا ہے، تو کوئی شوہر کی شہادت کی خبر سن کر بے موت مر جاتی ہے۔ کسی بہن کا بھائی قابض فورسز کی سفاکیت کا شکار ہوتا ہے، تو کسی مظلوم پر خود بھارتی درندے آ جھپٹتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں