اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) سی پی جی ایس نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اہم بیان جاری کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ایران کی توانائی تنصیبات پر مجوزہ فوجی حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
سی پی جی ایس کے مطابق یہ فیصلہ کشیدگی میں کمی کی جانب ایک مثبت قدم ہے اور اس سے سفارتی بات چیت کے لیے ایک اہم موقع پیدا ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز دونوں فریقین کو خطے میں عدم استحکام اور شہری مشکلات سے بچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ادارے نے فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے کو ایک دانشمندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے، بشرطیکہ تمام فریقین اپنے وعدوں کا احترام کریں، باہمی اعتماد بحال کریں اور امن کو حقیقی موقع دیں۔
ایران نے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز مکمل نہ کھولی تو سخت کارروائی ہوگی، ٹرمپ کی دھمکی
سی پی جی ایس نے امریکا، ایران اور خطے کے دیگر متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اس وقفے کو بامعنی مذاکرات کے لیے استعمال کریں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جامع، منصفانہ اور پائیدار امن حاصل کیا جا سکے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کسی بھی ممکنہ حل میں طویل مدتی استحکام، توانائی کے تحفظ، شہری تنصیبات کے تحفظ اور قومی خودمختاری کا احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آخر میں ادارے نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسلسل اور تعمیری مکالمہ، باہمی احترام اور اعتماد سازی کے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ سفارتکاری کے ذریعے امن ہی سب سے مؤثر اور ذمہ دارانہ راستہ ہے۔











