منگل,  24 مارچ 2026ء

کالم

قومی ترانے پہ تن کر کھڑا نہ ہونا / قومی پرچم کو سلوٹ اور قومی ترانے پر کھڑا ہونا بدعت ہے؟

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ اب آپ اپنا قومی ترانہ سنیں گے آپ پر لازم ہے کہ اس کے احترام میں خاموش اور با ادب کھڑے ہو جائیں سینما کے پردہ سیمیں پر قومی پرچم کے احترام کی ہدایات پڑھ کر ہال میں تمام تماشائی کھڑے ہو جاتے تھے۔

کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ/ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ابراہیم رئیسی/ اسماعیل ہانیہ/ حسن نصر اللہ اور اس کے بعد ان کی اعلی قیادت، اسرائیل نے ایک ایک کر کے سب خدا کے حضور بھیج دی وہ کہہ رہا تھا کہ پاکستان کی باری کبھی نہیں آئے گی کیونکہ پاکستان ،اسلام کے نام

مولانا کا کردار

شہریاریاں۔۔۔تحریر: شہریار خان مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے آئینی ترامیمی پیکج کی ایسی کی تیسی کر دی۔۔ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں بلکہ قہقہے صرف اور صرف مولانا فضل الرحمن کی مرہون منت ہیں مگر اب تک بانی پی ٹی آئی

یا رحمت اللعالمین ہمیں معاف کیجئے

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ محمد کا جہاں پر آستاں ہے وہی ٹکڑا زمین کا آسماں ہے اس مرتبہ بھی حسب روایت حضور کا یوم ولادت، مذہبی جوش و جذبے اور دارالخلافہ میں 31 توپوں جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں21/21 توپوں کی سلامی سے منایا گیا میرے ایک دوست ہیں

اواتارمووی لگ بھگ تین بلین ڈالر بزنس /پاکستانی قرض ایک بلین ڈالر

سید شہریار احمد  ایڈوکیٹ ہائی کورٹ پاکستانی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ سے گزارش ہے کہ ہالی وڈ ڈائریکٹر جیمس کیمرون سے رابطہ کریں اس سے ایک مووی بنوائیں اور ائ ایم ایف کی غلامی سے چھٹکارا پائیں 25 کروڑ عوام کی دعاؤں /اللہ کی مہربانی/ وفاقی حکومت اور کابینہ کی شبانہ

شادی ایک سماجی رسم / اکثر رسمیں تباہ کن ہوتی ہیں

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کسی مرد کو پھانسی پر لٹکانے کے اور بھی آسان اور سہل طریقے ہو سکتے ہیں جس میں پل بھر میں انسان کی موت واقع ہو جائے پھر یہ شادی کروا کر عمر بھر پل پل مارنے سے کیا حاصل ؟ میں جب بھی

ناقابل فتح شکست /آئیں کرکٹ پہ فاتحہ پڑھ کے اسے سپرد خاک کریں

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ 1998 میں پاکستان نے جب ایٹمی دھماکے کیے تو اس وقت پی ٹی وی نے ایک بیانیہ دیا ناقابل شکست فتح اب میرے جیسا جاہل آدمی تو یہ سمجھتا ہے کہ فتح تو ناقابل شکست ہی ہوتی ہے۔ فتح تو فتح ہوتی ہے۔ شکست

خوشیوں سے شعوری فرار/ رقیق القلب نسلیں

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ آج میں رقص کروں گا کیونکہ ابھی میں زندہ ہوں 1400 سالوں سے ہماری پرورش،خوشی ،زندگی کی لذتوں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے خلاف ہوئی ہے۔ ہمیں رقص کرنے/ بانسری بجانے/ گانے سے اجتناب کا کہا گیا ہے۔ بلکہ اسے

بلوچستان پر حملے /اب گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے تو پیس دو

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کبھی مجھے ناراض بلوچوں کی ،ریاست سے شکایات سے اتفاق رہا ہے لیکن اب جو کام انہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے شروع کر رکھا ہے جس میں بھارت اور افغانستان کی پشت پناہی حاصل ہے میں اس کی شدید ترین الفاظ میں

انتہائی معصوم قوم

شہریاریاں۔۔۔ شہریار خان پاکستانیوں کو اگر معصوم کہا جائے تو کچھ غلط نہیں ہو گا۔۔یہ وہ معصوم قوم ہے جسے آسانی کے ساتھ بار بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ یہ مومنین کی اس نسل سے ہیں جسے ایک سوراخ سے دو نہیں کئی مرتبہ بھی ڈسا جا سکتا ہے