منگل,  23 جولائی 2024ء
ایس سی او،وزیراعظم کا افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ

وزیراعظم نے افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم نے کہا کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف مؤ ثر اقدامات کرے تاکہ اس کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو وزیراعظم نےکہا کہ آپ سے مخاطب ہوکر خوشی ہو رہی ہے، ایس سی او کی چیئر کی حیثیت سے قازقستان نے بہترین کردار ادا کیا، آئندہ سال 25-2024کے لیے صدر شی جن پھنگ کو ایس سی او کی چیئرمین شپ ملنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم خطے کے عوام کی سماجی ومعاشی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہے، ہمارے چیلنجز مشترکہ ہیں، ہمیں مل کر ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنا ہے۔ تنظیم خطے کے عوام کی سماجی ومعاشی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہے، ہمارے چیلنجز مشترکہ ہیں، ہمیں مل کر ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن ہمارا مشترکہ ہدف ہے، افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ بامعنی طور پر بات چیت کرنا ہوگی تاکہ وہاں کے عوام کے مسائل حل ہوں۔ خطے میں امن سلامتی کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا کردار اہم ہے، خطےکے روشن مستقبل کے لیے جغرافیائی، سیاسی محاذ آرائی سے خودکو آزاد کرنا ہوگا، ایس سی او ترقیاتی منصوبوں کے لیے متبادل فنڈنگ کا طریقہ کار وضع کرے۔

پاکستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے تجارت کی اہم گزرگاہ ہے، سی پیک کے ذریعے ایس سی او کے علاقائی رابطے کے وژن کے تحت ترقی و خوشحالی کی منزل کے حصول کی جانب گامزن ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہوگا، افغانستان میں پائیدار امن ہمارا مشترکہ ہدف ہے، افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ بامعنی طور پر بات چیت کرنا ہوگی تاکہ وہاں کے عوام کے مسائل حل ہوں، افغانستان دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے تاکہ اس کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی جائے، غزہ میں انسانیت سوز مظالم جاری ہیں ،ایس سی او فلسطین کی صورتحال پر آواز اٹھائے، پاکستان ایس سی او کو متحرک تنظیم بنانے اور اہداف کے حصول میں اپنا بھرپور کردار ادا کرےگا۔ خودمختاری ، علاقائی سالمیت اور لوگوں کے بنیادی حق خود ارادیت کے عالمی طورپر تسلیم شدہ اصولوں کے احترام کی ضرورت ہے، اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، اسلامو فوبیا اور لسانیت کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے قابل عمل فریم ورک موجود ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں تصفیہ طلب مسائل کے حل یقینی بنانے کی ضرورت ہے، ہمیں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے 20 لاکھ فسلطینیوں کو بے گھر کیا گیا ہے، پاکستان مسئلہ فلسطین کے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیادوں پر 2 ریاستی حل کا حامی ہے جس کے تحت فلسطینی ریاست کا قیام ہو اور اس کا دارالحکومت القدس ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلاموفوبیا ایک بڑا مسئلہ ہے، اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے، اسرائیل کے جنگی جرائم میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئےماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سےدنیا کو چیلنجز کا سامنا ہے، غیرملکی قبضے سے تنازعات سر اٹھارہے ہیں، تنازعات کی وجہ سے انسانیت کو مسائل کاسامنا ہے۔ پرامن بقائے باہمی کے لیے ضروری ہے کہ تنازعات کا پرامن حل ہو، سربراہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب فلسطینیوں کو مظالم کاسامناہے، غزہ میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، عالمی عدالت انصاف نے بھی اسرائیلی مظالم کا نوٹس لیا ہے، فلسطین میں فوری غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا کومعاشی اور سماجی مسائل کا سامنا رہا۔ قازقستان کے صدر کو ایس سی او کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتاہوں، آج جن دستاویزات پراتفاق رائے ہوا وہ اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے تاجکستان میں موجود وزیر اعظم شہباز شریف نے تاجک شہر آستانہ میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی تھی، اور انہیں دوبارہ روس کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیات میں روس مزید ترقی کرے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ آپ سے ملاقات کر کے اچھا لگا ہے، پاکستان کے روس کے ساتھ باہمی تعلقات ہیں، دونوں عرصہ دراز سے دوست ممالک ہیں اور ہمیں مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ دیرینہ اور کاروباری تعلقات ہیں، دونوں ملکوں کے تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں اور میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے روسی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم آپ کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور باہمی تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں جو اس وقت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں روس سے تیل کی سپلائی موصول ہوئی ہے اور ہم اس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی دورہ قازقستان میں کامیاب سفارت کاری سے عالمی رہنما بھی مسروردکھائی دیتے ہیں ,شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں موجود وزیر اعظم شہباز شریف نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی وزیراعظم نے روسی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم آپ کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور باہمی تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں جو اس وقت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان کے روس کے ساتھ دیرینہ اور کاروباری تعلقات ہیں۔

دونوں ملکوں کے تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں اور میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔شہباز شریف نے کہا کہ آپ سے ملاقات کر کے اچھا لگا ہے، پاکستان کے روس کے ساتھ باہمی تعلقات ہیں، دونوں عرصہ دراز سے دوست ممالک ہیں اور ہمیں مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی جغرافیائی سیاسی تبدیلی یا پھر دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات ہمارے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی جغرافیائی سیاسی تبدیلی یا پھر دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات ہمارے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔اس سے قبل، وزیراعظم محمد شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کے لیے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ سے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچے تھے۔زیراعظم سربراہی اجلاس کے موقع پر شریک رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی جاری ہیں۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن، ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف سے ملاقاتوں کے علاوہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین سہ فریقی بات چیت کا دور ہو گا،

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News