هفته,  13 جولائی 2024ء
کرنلییاں۔۔۔ریٹائرمنٹ بری بلا ہے۔۔۔!!

✍️ لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان، ریٹائرڈ

شادی کے میٹھے میٹھے لڈو تو ماشاءاللہ تمام ہی ریٹائرڈ فوجی کئی دہائیوں پہلے ہی کھا چکے ہیں۔ بلکہ کچھ حضرات نے تو ایک سے زائد بھی کھا لیے ہیں۔ کئی ایک کو تو خاصی بد ہضمی بھی ہو چکی ہے۔ لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں اب ریٹائرمنٹ کے نمکین لڈو کھا کر زندگی کو کچھ کھٹا کچھ میٹھا بنا لیں۔۔۔

جب ہم فوج کی پچیس سالہ نوکری سے ریٹائر ہوئے تو پہلا ہفتہ ایسے گزرا جیسے بطور کیڈٹ یا لیفٹیننٹ کچھ دنوں کی چھٹی پہ گھر آتے تو خوب آؤ بھگت ہوا کرتی۔ ہمارے اعزاز میں انواع اقسام کے کھانے بنتے، گھر سے باہر کے کاموں کے لیے ہمیشہ مجھ سے بڑے یا چھوٹے بھائیوں کو ہی کہا جاتا، یعنی ہمارے خوب ناز اور نخرے اٹھائے جاتے۔ بس یوں کہہ لیجیے کہ موجاں ایں موجاں۔۔۔

البتہ ریٹائرمنٹ کے اگلے ہی ہفتے مجھے اپنے ایک سینیئر افسر کی کہانی یاد آ گئی۔ جو 23 سالہ مدت ملازمت پوری کر کے خوشی خوشی گھر گئے کہ اب زندگی میں سکون ہی سکون ہو گا۔۔۔۔مشکل سے ابھی دس دن بھی نہ گزرے تھے کہ وہ میجر صاحب ہمیں صبح صبح ہی دفتر میں دکھائی دیئے۔ اور پھر وہ دوپہر کے کھانے تک ادھر ہی رہے۔ یونٹ میں ان کی حاضری کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک انھوں نے اپنے لیے نو سے پانچ بجے والی ایک ملازمت ڈھونڈ نہیں لی۔ لیفٹین ہونے کے ناطے میری تو جرآت ہی نہ ہوئی کہ میں ان سے پوچھ سکوں کہ آخر وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر میں ہی آرام کیوں نہیں کرتے مگر ہمارے کانوں نے ان کی دکھ بھری داستان اس وقت سن لی جب وہ عصرِ حاضر کے شادی زدہ، معاف کیجئے گا شادی شدہ افسران کو اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے۔ ان کے مطابق ریٹائرمنٹ ان کی نہیں بلکہ ان کی بیگم کی ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ خاتونِ خانہ نے صبح بچوں کو سکول کے لیے تیار کرنے ان کو سکول چھوڑنے اور واپس لینے سے ریٹائرمنٹ لے لی اور یہ سارے کام میجر صاحب کے سپرد کر دیئے۔

میجر صاحب نے مزید بتایا کہ یہ ساری ڈیوٹیاں سر انجام دینے کہ بعد وہ اپنے کمرے میں آرام کی غرض سے بیٹھتے ہی تھے کہ بیگم صاحبہ حکم صادر فرما دیتیں کہ آپ کہیں اور جا کر بیٹھیں یہاں کی صفائی ہونے والی ہے۔ بقول ان کے وہ جس کمرے میں بھی ہوتے گویا صفائی وہیں کی ضروری ٹھہرتی۔ میں اس وقت اس بات پہ بہت حیران ہوا کہ میجر صاحب پہلے سے ہی کسی صاف ہو جانے والے کمرے میں کیوں نہیں بیٹھ جاتے۔ مگر چھڑا چھانٹ لیفٹین اس وقت بیگمات کا یہ فلسفہ بھلا کیسے سمجھ سکتا تھا کہ شوہر کے کسی بھی کمرے میں محض بیٹھنے سے بھی اس کی صفائی میں کمی واقع ہونا گویا لازم ہوتا ہے۔۔۔

ویسے تو ریٹائرڈ فوجی اپنی شکل سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی کچھ نشانیاں ہیں جس سے کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کوئی ریٹائرڈ فوجی ہی ہے۔ مثال کے طور پہ وہ آپ کو تیز بارش میں باغیچے کی گھاس اور پودوں کو پانی دیتا ہوا ملے گا، سروس اسٹیشن سے تازہ تازہ سروس کرائی ہوئی گاڑی کو دوبارہ دھوتا ہوا ملے گا۔ اور میرے جیسا بےچارہ ہاتھ میں دہی، سبزی اور گوشت کے تھیلے تھامے ملے گا اور اس دوران کوئی جان پہچان والا مل جائے تو جواب سب کا ایک ہی ہوگا کہ یار فارغ بیٹھے بیٹھے بور ہو رہا تھا تو بس پھر کیا تھا لمبی واک پہ نکل کیا تیرا بھائی۔ ارے بھائی! واک پہ دہی، سبزی اور گوشت؟ ہاں یار واک سے واپسی پہ سوچا کہ کچھ خریداری بھی کر لوں۔ یہ وہی صاحب ہوتے ہیں جو سروس کے دوران بیگم کی فون کال پہ کچھ ایسے جواب دیتے ہیں:

“اجی سنیں کدھر ہیں؟”

“باس کے ساتھ آپریشنل ایریا کی ریکی کرنے جا رہا ہوں، بس ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے ہی والا ہوں۔”

“اچھا جی اکیلے اکیلے عیاشی ہو رہی ہے۔ چلیں آپریشنل ایریا سے واپسی پہ ایک درجن انڈے، ایک ڈبل روٹی، آدھا کلو دہی، ایک اچھا سا گوبھی کا پھول، ایک کلو ٹماٹر تھوڑا سا دھنیا اور ہری مرچیں لیتے آیئے گا۔ اور ہاں خدارا گلی سڑی اور مہنگی سبزی مت لائیے گا۔”

اور ناجانے کیسے وہ اللہ کا بندہ یہ سارا سامان خرید بھی لاتا ہے۔۔۔۔

بہرحال جن حاضر سروس فوجیوں کی ریٹائرمنٹ نزدیک ہے انھیں مشورہ یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔ شروع شروع میں یہ مشکل لگتی ہے پھر وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو معلوم ہو ہی جاتا ہے کہ میعاری اور سستی سبزیاں کہاں سے ملتی ہیں اور کیسے پکائی جاتی ہیں۔ دو چار دن میں بندہ برتن دھونا بھی سیکھ ہی جاتا ہے۔۔۔بس آپ نے گھبرانہ نہیں ہے۔

لیکن ایک بات تو طے ہے اور وہ یہ کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فوج سے جڑا یہ تعلق جو پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول بلکہ آئی ایس ایس بی سے بننا شروع ہوتا ہے پھر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا اور فوج کا تعلق اس کمبل کی مانند ہے جسے ہم کبھی چھوڑ ہی نہیں سکتے اور ریٹائرمنٹ کے بعد کہہ ڈالتے ہیں کہ میں تو چھوڑ رہا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا۔ البتہ آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد خاتونِ خانہ کسی بھی وقت باورچی خانے سے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر سکتی ہیں گویا آپ کی دوسری نوکری پکی۔ کچھ دوست تو اب بھی یہ والی نوکری کر رہے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی اس نوکری میں برکت عطا فرمائے اس پہ یقیناً ہماری بہنوں کی طرف سے آمین بولا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ماسک۔۔۔!!!

آخر میں میں سارے بھائیو سے کہوں گا کہ باورچی خانے کی نوکری سے بہتر ہے کہ آپ نو سے پانچ والی ہی کوئی نوکری ڈھونڈ لیں کیونکہ ریٹائرمنٹ بری بلا ہے۔ اور ہاں! اب ہم صرف ریٹائرمنٹ کے لڈو سے ہی دل بہلا سکتے ہیں کہ شادی کے لڈو کی عمریں تو اب ہمارے بچوں کی ہیں۔۔۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News