ایک سردار جی کسی محلے سے گزرتے ہوئے ایک بندے سے ٹکرا گئے، بجائے اس کے کہ وہ شرمندہ ہوتے الٹا اونچی اونچی آواز میں چیخنا شروع کر دیا۔۔ اس بندے کو دھمکیاں دینے لگے، تو مجھے جانتا نہیں، میں بہت ڈنگا ہوں۔۔
محلے کے لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے سردار جی کو گالم گلوچ سے منع کیا تو سردار جی نے ان سب کو بھی گالیاں دینی شروع کر دیں۔۔ ان میں سے ایک شخص غصے میں آ گیا اور بولا کہ بس کر نہیں تو میں تیرے منہ پر ایسا جھانپڑ رسید کروں گا کہ ہوش آ جائے گا۔۔ سردار جی اکڑ کے بولے، اگر اتنی ہمت ہے تو ہاتھ لگا کر دکھا۔۔ اس شخص نے ایسی الٹے ہاتھ کی کمائی کہ سردار جی، زمین پر گر گئے۔ سب نے سردار جی کی یہ حالت دیکھی تو ہنسنے لگے۔
سردار جی نے سب کو مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ بس پھر تو سب نے سردار جی کو ڈنڈے، سوٹے بھی پھیرے۔۔ جب سب تھک کر الگ ہوئے تو سردار جی بولے مرد کے بچے ہو تو ڈنڈے پھینک کر ہاتھوں سے مقابلہ کرو۔۔
سب نے ڈنڈے پھینکے اور تھپڑوں، مکوں اور ٹھڈوں کی بارش کر دی۔۔ سردار جی کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جس پر مکا، تھپڑ یا ٹھڈا نہ لگا ہو۔۔ ایسے میں سردار جی کی آواز گونجی اگر ہمت ہے اور تگڑے ہو تو مل کر مارنے کے بجائے اکیلے اکیلے آؤ، بس پھر ایک ایک کر کے تمام محلے نے جی بھر کے پیٹا۔۔ اب سردار جی میں حوصلہ نہیں رہا، بمشکل دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور ایک بزرگ سے بولے انہیں میرا پتا نہیں ہے، میں جب اتنا زخمی ہو جاؤں تو میں مزید خطرناک ہو جاتا ہوں۔۔ تمام محلے والے پھر سردار جی کو مارنے کے لیے لپکے۔
بزرگ سمجھدار تھے، وہ لوگوں کے ہجوم سے نکال کر سردار جی کو اپنے گھر لے گئے۔۔ مشتعل ہجوم باہر ہی کھڑا تھا۔ لوگوں نے کہا بابا جی آپ اسے کتنی دیر اندر رکھیں گے، جیسے ہی یہ باہر نکلا اس بدتمیز اور بد تہذیب شخص کو ہم پھر ماریں گے۔
بزرگ نے جاتے ہی اسے پوچھا کہ کچھ کھانا پینا ہے تو بتا دو۔۔ سردار جی نے اکڑ کے کہا کہ میں دیسی مرغ اور مٹن کے علاوہ کچھ نہیں کھاتا۔ بزرگ ہنس پڑے اور بیگم سے کہا کہ دیسی مرغ پکا دو۔۔ شام کی چائے کا وقت ہوا تو سردار جی نے کاجو، پستہ اور بادام سے بھرپور سوجی کا حلوہ مانگ لیا۔۔ بزرگوار نے دودھ ہلدی کے ساتھ سوجی کا حلوہ پیش کیا۔۔ سردار جی نے کہا آئندہ اگر دودھ لاؤ تو اس میں چھوٹی مکھی کا شہد ڈالنا۔۔ رات کا وقت ہوا تو سردار جی بکرے کی ران کا گوشت طلب کیا۔ وہ بھی مل گیا۔
اب صبح ہونے سے پہلے بزرگوار کو فکر تھی کہ اس شخص کو ناشتہ کروانا پڑے گا اور ناشتے میں بھی اسے دیسی انڈے، سلاد، اورنج جوس اور چھوٹے پائے کی فرمائش کر رکھی تھی، بزرگ اتنے اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے اس لیے انہوں نے سوچا کہ کسی طریقے سے اس سے جان چھڑا لیں، انہوں نے سردار جی سے کہا کہ تم کہو تو تمہیں کسی طرح یہاں سے بھگا دوں؟ اس رات کے اندھیرے میں یہاں سے نکلنا آسان ہو گا۔۔ سردار جی ہتھے سے اکھڑ گئے اور بولے خبردار، میں بزدل نہیں ہوں، بھاگوں گا نہیں، ڈٹ کے کھڑا ہوں، بتا دو محلے والوں کو۔۔ میں ڈرتا نہیں ہوں۔۔ اس نے بزرگ کے صحن میں کھڑے ہو کر پھر محلے والوں کو للکارنا شروع کر دیا۔ باہر سے محلے والوں کی گالیوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو سردار جی چارپائی کے نیچے گھس گئے اور بزرگ سے بولے کہ آپ میری طرف سے باہر جا کر سب کو بتا دیں۔
بزرگ باہر نکلے اور محلے والوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ پاگل انسان ہے اسے یہاں سے جانے دو۔۔ مگر محلے والوں کا کہنا تھا اسے اپنی غلطی کا احساس ہی نہیں ہے بلکہ وہ آپ سمیت ہم سب کو قصوروار سمجھ رہا ہے۔۔ اس لیے اسے نشان عبرت بنانا ضروری ہے۔۔ بزرگ واپس آ گئے، بزرگ کے چہرے پر مایوسی دیکھ کر سردار جی نے کہا میں جھکنے والا نہیں ہوں۔
ایک عجیب بات تھی کہ محلے کے تمام پختہ عمر کے مرد، خواتین اور بزرگ اس بدتمیز شخص کے سخت خلاف تھے مگر نوجوان اور بچے کہتے تھے کہ سردار جی کی زبان شاید آپ کو مناسب نہ لگی ہو مگر اس کی بات درست ہے۔۔ آپ لوگوں کو اسے مارنا نہیں چاہئے تھا۔۔ بے شک اس نے غصے میں آپ کو گالیاں دیں اور آپ کے سامان کا نقصان بھی ہوا مگر وہ شخص دل کا صاف ہے۔۔ محلے کی خواتین اور لڑکیوں کو بھی سردار جی پر ترس آ رہا تھا کہ اس بے چارے اکیلے کو بہت سے لوگوں نے مل کر پیٹا ہے۔
بہرحال دو تین روز گزرنے پر سردار جی کے کھانے پینے پر اتنے پیسے لگ گئے تھے کہ بزرگ کو اپنا بینک بیلنس ختم ہونے کی پریشانی لاحق ہو گئی۔ انہوں نے سردار جی کے سامنے اپنی پریشانی رکھی تو سردار جی نے کہا میری محلے کے سب سے طاقتور شخص سے ملاقات کروا دو، جس نے مجھے سب سے زیادہ مارا تھا۔ باقی محلے والے کمزور بھی ہیں اور بے ایمان بھی، ان سے میں بات نہیں کروں گا۔۔ وہ جس نے میرے منہ پر کرارے تھپڑ مارے اسے بلا لاؤ۔۔ بزرگ جب اس طاقتور شخص کے پاس گئے تو اس نے سردار جی کے ساتھ ملنے سے صاف انکار کر دیا، بولا کہ میرا اس کا کوئی تعلق ہی نہیں، وہ جس سے سب سے پہلے ٹکرایا اور پھر وہ سارے لوگ جن کا اس نے نقصان کیا یہ ان سے معافی مانگے اگر وہ معاف کر دیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔
بزرگ کا یہ جواب سن کر سردار جی ہنسے اور کہا کہ معافی مانگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔ بس آپ دوپہر کے کھانے میں آج مٹن کنہ بنوا دیں۔ بزرگ نے اپنا سر پیٹ لیا۔
بزرگ نے سردار جی کے گھر کا پتہ لیا اور اس کے محلے میں جا کر انہیں کہا کہ اسے سمجھائیں، محلے کے لوگ بھی سردار جی کی طرح بیوقوف نکلے اور وہ بزرگ کے ساتھ آ کر محلے والوں سے معافی مانگنے کے بجائے، ان کو کہنے لگے کہ تم میں ہمت ہے تو اسے ہمارے سامنے ہاتھ لگا کر دکھاؤ، محلے والے اتنے روز کے تماشے سے پہلے ہی تنگ تھے انہوں نے اندر گھس کے سردار جی کو مارا۔۔ مار مار کے ادھ موا کر دیا۔۔ سردار جی کے محلے والوں نے کہا چلو اسے تو مار لیا اب اس کے بھائیوں کو ہاتھ لگا کے دکھاؤ۔۔ ان سب نے سردار جی کے بھائی پر بھی خوب ہاتھ صاف کیا۔
بزرگ تنگ آ گئے انہوں نے سردار جی کے محلے والوں کو بمشکل وہاں سے باہر نکالا۔ سردار جی کے محلے والے کہہ گئے کہ اگر اگلے اتوار تک سردار جی کو عزت احترام کے ساتھ واپس نہ بھیجا تو ہم آپ کے محلے راستے بند کر دیں گے۔ محلے والوں نے کہا اگر ہمارے محلے کے قریب بھی آئے تو مار مار کے حلیہ بگاڑ دیں گے۔
سردار جی کے محلے والوں نے اتوار کو بڑے محلے کی طرف جانے کا اعلان کیا مگر وہ دائیں بائیں کے تین محلوں میں گھومتے رہے مگر بڑے محلے آنے کی ہمت نہ کی۔ انہوں نے بزرگ کو پیغام بھیجا کہ محلے والوں کو پیغام دے دیں کہ سردار جی کو بزرگ کے گھر سے نکال کر کسی اچھے سے گھر میں منتقل کریں، ورنہ وہ محلے میں تباہی مچا دیں گے۔ محلے والے مزید غصے میں آ گئے اور انہوں نے پیغام بھجوایا کہ بزرگ کے گھر میں اسے بہت سہولیات ہیں اگر ہم نے اسے کوٹھڑی میں بند کر دیا تو اسے زیادہ تکلیف ہو گی۔۔ سردار جی کا بہت قریبی دوست چیخا، تمہارے باپ میں بھی ہمت نہیں کہ اسے کوٹھڑی میں بند کرو۔۔ یہ پیغام جونہی محلے میں پہنچا، غصے سے بھرے لوگوں نے اسے ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں بند کر دیا۔۔ سردار جی بار بار بزرگ کو کہتا کہ خدا کے لیے اس طاقتور پہلوان کو بلا دو، جس کے تھپڑوں سے میرے جبڑے ہل گئے تھے۔۔ مجال ہے کہ وہ اس سے ملنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔
ایسے میں بزرگ نے سردار جی کے دوستوں کو پیغام بھجوایا کہ سردار جی کی صحت خراب ہو رہی ہے، معافی تلافی کر کے اسے لے جاؤ مگر وہ دوست جو سردار جی کی دکان بھی چلا رہے تھے انہوں نے کہا کہ ہمارے دوست کا علاج شہر کے مہنگے ہسپتال سے کروایا جائے ورنہ ہم احتجاج کریں گے، انہیں بتایا گیا کہ اس کا علاج سرکاری ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر کر رہے ہیں مگر اسے اصل ضرورت تمہاری ہے، اسے وہاں سے نکالنے کے لیے بس اپنی غلطیوں کی معافی مانگنی ہے۔۔ مگر وہ دوست جنہیں اب سردار جی کی دکان سے ملنے والا منافع اچھا لگنے لگا تھا انہوں نے آپس میں مشاورت کی اور چند کرایہ کے غنڈوں کی خدمات حاصل کیں، ان کو بڑے محلے کے لوگوں کو تنگ کرنے کا مشن دیا گیا۔۔ کئی غنڈے وہاں آتے کچھ لوگوں کو مارتے اور جواباّ جب ان کی ہڈی پسلی ایک ہوتی تو بھاگ کر سردار جی کے محلے میں پناہ لے لیتے۔
اس تمام صورتحال سے بڑے محلے کے لوگ اب تنگ آ چکے تھے، اس لیے انہوں نے بزرگ کو کہا کہ سردار جی کے دوستوں کو پیغام دیں کہ وہ ان غنڈوں کو روکیں ورنہ انجام کے لیے تیار رہیں۔۔ سردار جی کے دوستوں کے انکار کے بعد محلے والوں نے ایک دستی تیار کیا جس نے سردار جی کی اس دکان پر قبضہ کر لیا اور سردار جی کے دوستوں کو مار مار کے بھگا دیا۔
اب حالت یہ ہے بزرگ روز روز کے اخراجات سے پریشان ہے مگر سردار جی آج بھی محلے والوں سے معافی مانگنے کے بجائے اس پہلوان کو یاد کر کے روتا رہتا ہے جس نے اس کے جسم کو نیلوں نیل کر دیا تھا۔ محلے والے خوش ہیں کہ انہیں مزید ایک دکان مل گئی ہے، سردار جی کے دوست بھاگ کر دور دراز کے علاقوں میں پھیل چکے ہیں اور وقتاً فوقتاً بزرگ کو دھمکیاں بھجواتے رہتے ہیں۔۔ بزرگ سے محلے والے بھی ناراض ہیں جنہوں نے سردار جی کو مٹن، دیسی مرغ اور ڈرائی فروٹ کے ذریعے تگڑا بنا رکھا ہے۔
سردار جی اب خود پریشان ہیں، ان کی اب کسی سے ملاقات نہیں ہوتی، بزرگ یوں پریشان ہیں کہ ان کے اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں جبکہ سردار جی کے دوست نہیں چاہتے کہ وہ واپس آ جائیں کیونکہ وہ ان کو بھی ایسے ہی تنگ کرتا تھا جیسے وہ محلے والوں کو کر رہا ہے اور یقین مانئے کہ مجھ جیسے کہانی کار کو بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کہانی کا انجام کیا ہونا چاہئے، اس لیے لکھے دیتے ہیں کہ سردار جی، بزرگ کے گھر میں رہتے رہے اور سارے ہنسی خوشی رہنے لگے۔
شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان











