محرم میں ذکرِ حسینؑ سے بے چینی کیوں!
میں اور میرا دوست

اسلامی تاریخ شہادتوں سے بھری پڑی ہے۔ خلیفہ سوئم سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت اپنی مظلومیت میں بے مثال ہے۔ سیدنا امیر حمزہؓ کو خود رسول اللہ ﷺ نے “سید الشہداء” کا لقب عطا فرمایا۔ ان کے علاوہ بھی بے شمار صحابۂ کرامؓ نے راہِ حق میں اپنی جانیں قربان کیں۔

ان سب کا ذکر ہونا چاہیے،

ان کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جانا چاہیے۔

لیکن

سوال یہ ہے کہ آخر محرم الحرام اور خصوصاً عاشورہ کے ایام میں ہی بعض لوگوں کو یہ ساری شہادتیں کیوں یاد آتی ہیں؟؟؟

جب پوری امت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کا تذکرہ کر رہی ہوتی ہے،
جب منبر و محراب سے نواسۂ رسولؐ کی عظیم قربانی کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے،
جب ظلم کے خلاف حق کی اس لازوال جدوجہد کو یاد کیا جا رہا ہوتا ہے،

تب اچانک کچھ حلقے ذکرِ حسینؑ کے مقابلے میں دیگر شخصیات اور دیگر واقعات کو کھڑا کرنے لگتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل محض اتفاق نہیں بلکہ ایک فکری بیماری۔ فکری بیماری ی ی کی علامت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کو محرم میں ذکرِ حسینؑ کھٹکنے لگے،

جو امام حسینؑ کے غم اور کربلا کے تذکرے سے اکتاہٹ محسوس کرے اور اس کے مقابلے میں دوسرے موضوعات چھیڑنے لگے، وہ شعوری یا لاشعوری طور پر ناصبیت کے اثرات کا شکار ہے۔

اسی طرح جو لوگ ان ایام میں حضرت معاویہؓ کے فضائل و مناقب کو بطورِ خاص موضوعِ بحث بناتے ہیں، حالانکہ امت کی توجہ کربلا اور امام حسینؑ کی عظیم قربانی کی طرف مرکوز ہوتی ہے۔۔

ان کا یہ طرزِ عمل سوالات کو جنم دیتا ہے۔
آخر اس وقت اس موضوع کو نمایاں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے ؟؟؟؟

کیا یہ ذکرِ حسینؑ کے مقابل ایک متبادل بیانیہ کھڑا کرنے کی کوشش نہیں؟؟؟؟؟؟؟

اگر کوئی شخص محرم کے ایام میں کربلا کے بجائے مسلسل اسی رخ پر گفتگو کرے تو اس کے پس منظر اور محرکات پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔

محرم کا پیغام صرف ایک تاریخی سانحے کی یاد نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے۔

یہ یزیدیت کے ہر دور، ہر نظام اور ہر فکر کے خلاف احتجاج کا نام ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے خون سے یہ اصول ثبت کیا کہ اقتدار اگر دین اور انسانیت کے مقابل آجائے تو اس کے سامنے سر نہیں جھکایا جاتا۔

یہ دن ذکرِ حسینؑ کے ہیں، ذکرِ کربلا کے ہیں، اہلِ بیتؑ کے غم میں اشک بہانے کے ہیں، ظلم و جبر کے خلاف اپنے عہد کی تجدید کے ہیں

اور یزیدی فکر سے براءت کے ہیں۔

ان ایام میں موضوع کو بدلنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے عید کے دن روزہ رکھ لیا جائے یا کوئی حاجی میدانِ عرفات کی حاضری چھوڑ کر نفلی طواف اور سعی میں مصروف ہو جائے۔

ہر موقع کا ایک تقاضا اور ہر موسم کا ایک عنوان ہوتا ہے، اور محرم کا عنوان صرف اور صرف حسینؑ ابنِ علیؑ اور شہدائے کربلا ہیں۔

سلام بر حسینؑ، سلام بر اہلِ بیتؑ، سلام بر شہدائے کربلا، اور لعنت تاریخ کے ہر اس ظلم پر جس کے خلاف حسینؑ نے اپنے خون کا چراغ روشن کیا۔

مزید خبریں