اتوار,  07 جون 2026ء
بچپن یا غلامی ؟؟
میں اور میرا دوست

میں اور میرا دوست

بچپن یا غلامی ؟؟

لاہور کی کم سن گھریلو ملازمہ عائشہ کی موت صرف ایک خبر نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک ایسا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر سکے۔ ایک معصوم بچی، جو اپنی زندگی کے حسین خواب دیکھنے کی عمر میں تھی، ظلم، تشدد اور درندگی کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہوگئی۔

اس کے چند روز بعد ایک اور ویڈیو سامنے آتی ہے جس میں ایک ننھی پری، ایک چھوٹی بیٹی لیکن ایک گھریلو ملازمہ رات کے اندھیرے میں ایک بڑے گھر میں تنہا چھوڑی گئی ہے۔ بجلی بند ہے، چاروں طرف خوفناک خاموشی ہے، کیڑے مکوڑے ہیں، اور ایک ڈری سہمی بچی کی چیخیں ہیں جو انسانیت کے کانوں میں گونجتی رہنی چاہئیں۔

جب ایک ہمسایہ اس کی مدد کے لیے پہنچتا ہے تو وہ معصوم بچی روتے ہوئے کہتی ہے: “یہ لوگ بہت ظالم ہیں۔”

مجھے یہاں اکیلا چھوڑ گئے کیڑے مکوڑے مجھے کھا جائیں گے۔

یہ صرف ایک بچی کا جملہ نہیں، بلکہ پاکستان کے ہزاروں گھریلو ملازم بچوں کی اجتماعی فریاد ہے۔

خدارا اس ایک آواز کو اجتماعی آواز کیوں نہیں سمجھتے۔

ہر بار ویڈیو تو نہیں بنتی نہ۔

کیا آپ کے جسم میں دھڑکنے والا دل آپکو مجبور نہیں کر رہا کہ آپ بھی آواز بنو!

آخر کب تک؟ کب تک غربت کے نام پر بچوں سے مشقت کروائی جاتی رہے گی؟ کب تک ننھے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ جھاڑو اور برتن تھمائے جائیں گے؟ کب تک بچوں کو ملازم، نوکر اور غلام سمجھا جاتا رہے گا؟

اور سب سے بڑھ کر، کب تک ایسے واقعات کے بعد صرف مذمت اور افسوس کے بیانات جاری ہوتے رہیں گے؟

پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ کم عمر بچوں کو مشقت پر لگانا اور ان سے گھریلو ملازمت

کروانا قانونی اور اخلاقی طور پر قابلِ مذمت عمل ہے۔

لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ قانون کی موجودگی اور قانون کے نفاذ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

اگر قوانین واقعی مؤثر ہوتے تو آج عائشہ زندہ ہوتی، اور وہ ننھی بچی اندھیرے میں خوف سے کانپنے کے بجائے اپنے گھر میں سکون سے سو رہی ہوتی۔

حکومت، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو اب رسمی کارروائیوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔

خدارا

یہ بچے۔

یہ بچے

یہ بچے بچپن میں ہیں۔

آپکو اپنے بچے یاد نہیں آتے۔۔۔۔ اگر آپکے بچے نہیں یا آپ ابھی کنوارے پیں اور آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں۔

تو کیا یہ تحریر آپکو اپنا بچپن نہیں یاد کروا رہی۔

بچپن کا خوف

جہاں شریعت کا معافی۔ جہاں معصوم کا درجہ اللہ کریم نے عطاء کیا ہو۔

وہاں انسان اتنا ظلم کریں ۔ اور قانون بس لکھا گیا ہو حرکت میں نہ ہو۔۔

صاحبو! ضرورت اس امر کی ہے کہ گھروں میں کم عمر ملازمین رکھنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جانا چاہیے۔

ایسے مالکان کو صرف جرمانے نہیں بلکہ سخت سزائیں دی جائیں اور جو خوف بچی کہ ذہن پر تھا۔ دراصل وہ خوف مالکان پر ہو تو میں قانون کو قانون مانتا ہوں۔

تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بن سکیں۔ ہر ایسے گھر کی

نشاندہی کی جائے جہاں بچوں سے مشقت لی جا رہی ہے،

اور ان بچوں کو فوری طور پر تحفظ، تعلیم اور بحالی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایسے والدین کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی بنائی جائے جو غربت یا مجبوری کے باعث اپنے بچوں کو ملازمت پر بھیج دیتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ایسے خاندانوں کی کفالت اور بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرے تاکہ کوئی ماں باپ اپنے بچے کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔

بھلا

ایسے کیسے

دور کیے جا سکتے ہیں

بچے۔

یاد رکھیے، کسی بھی معاشرے کی ترقی کا پیمانہ اس کی بلند و بالا عمارتیں نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے بچوں کا تحفظ ہوتا ہے۔

اگر ہمارے بچے محفوظ نہیں، اگر ان کی معصومیت ظلم کی بھینٹ چڑھ رہی ہے، اگر ان کے خواب دوسروں کے گھروں میں برتن دھوتے دھوتے ٹوٹ رہے ہیں، تو ہمیں ترقی یافتہ ہونے کے دعوے زیب نہیں دیتے۔

آج عائشہ ہم سے ایک سوال پوچھ رہی ہے۔ وہ ننھی بچی جو اندھیرے میں سہم کر رو رہی تھی، وہ بھی ہم سے سوال کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کے ساتھ ہونے والا ظلم بھی چند دن کی خبر بن کر فراموش کر دیا جائے گا، یا پھر اس بار ریاست واقعی جاگے گی؟

ریاست کی بڑی پاور ہوتی ہیں۔

ریاست سے کوئی لڑ نہیں سکتا۔

پاکستان کی ریاست بڑی جاندار ہیں

کیا اتنی جاندار ہیں کہ بچوں کو تحفظ دے سکیں؟؟؟؟

وقت آ گیا ہے کہ قانون صرف کتابوں کی زینت نہ رہے بلکہ ظالم کے دروازے تک پہنچے۔

کیونکہ جب قانون سو جاتا ہے تو ظلم جاگ جاتا ہے، اور جب ظلم طاقتور ہو جائے تو سب سے پہلے بچپن قربان ہوتا ہے۔

خدارا! ہمارے بچوں کو بچا لیجیے۔ انہیں ملازم نہیں، طالب علم بننے دیجیے۔

انہیں غلام نہیں، ایک باعزت شہری بننے دیجیے۔ کیونکہ بچپن کسی کی نوکری نہیں،

بچپن ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔

تحریر / ندیم طاہر

مزید خبریں