نیویارک (روشن پاکستان نیوز) گوگل نے 2029 تک نئے سائبر خطرے “کیو ڈے” (Q-Day) سے خبردار کر دیا، جس سے بینکنگ اور کرپٹو سسٹمز کو شدید خطرات ہوسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وہیں اب تک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل خطرہ بھی سر پر منڈلانے لگا ہے، سرچ انجن جائنٹ ‘گوگل’ اور آئی ٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سال 2029 تک دنیا کو ایک ایسے خطرناک سائبر حملے یا سیکیورٹی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے جسے ’’کیو ڈے‘‘ (Q-Day) کا نام دیا گیا ہے۔
یہ نیا خطرہ دنیا بھر کے موجودہ پاس ورڈز اور انکرپشن سسٹمز کو سیکنڈوں میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ “کیو ڈے” سے مراد وہ وقت ہے جب دنیا میں کوانٹم کمپیوٹرز اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ وہ موجودہ دور کے ڈیجیٹل حفاظتی نظام کو منٹوں میں توڑ سکیں گے، کوانٹم کمپیوٹرز مستقبل میں دنیا کے پیچیدہ ترین اور موجودہ مضبوط ترین پاس ورڈ سسٹمز کو انتہائی آسانی سے کریک سکیں گے۔
ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی انٹرنیٹ پر ڈیٹا کو محفوظ رکھنے والے موجودہ ‘انکرپشن سسٹم’ کو مکمل طور پر ناکام بنا دے گی۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ہیکرز اس وقت جو ڈیٹا چوری کر رہے ہیں، اسے وہ مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹرز کی مدد سے آسانی سے ڈی کوڈ (کھول) کر کے استعمال کر سکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اگر وقت پر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس نئے سائبر خطرے سے مختلف شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، دنیا بھر کا آن لائن بینکنگ نظام اور مالیاتی لین دین ہیکرز کے رحم و کرم پر آ جائے گا۔
اس کے ساتھ ڈیجیٹل کرنسی (بلاک چین) اور کرپٹو والٹس جنہیں اب تک سب سے محفوظ سمجھا جاتا ہے، اس ٹیکنالوجی کے سامنے بے بس ہو جائیں گے جبکہ عام صارفین کے سوشل میڈیا، ای میلز اور حساس سرکاری ڈیٹا سسٹمز کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
اس سنگین ترین عالمی خطرے کے پیشِ نظر دنیا بھر میں اب نئے اور ایڈوانسڈ سیکیورٹی سسٹمز پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔
آئی ٹی ماہرین نے دنیا بھر کی حکومتوں اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 2029 کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی سے اپنے سیکیورٹی سسٹمز کو اپ گریڈ کرنا شروع کریں تاکہ مستقبل میں ہونے والی اس ممکنہ ڈیجیٹل تباہی سے بچا جا سکے۔











