امارات سے پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی، سفارتی کشیدگی میں اضافہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور امن کوششوں میں کردار ادا کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

امریکی اخبار “نیویارک ٹائمز” کے مطابق پاکستان ایران میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے، تاہم اس عمل نے اس کے اہم اتحادی متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاست نے پاکستانی مزدوروں کی بڑے پیمانے پر واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے، جس سے پاکستان کے لیے روزگار اور زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات اس بات پر ناراض دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نے امارات پر ایرانی حملوں کی کھل کر مذمت نہیں کی، جبکہ اسلام آباد بیک وقت امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی کوششوں میں مصروف رہا۔

برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات: لیبر پارٹی کو بڑا دھچکا، ریفارم یو کے کی غیرمعمولی پیش رفت

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایرانی میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے حملوں سے شدید متاثر ہوا، جس کے بعد خطے میں سفارتی صف بندیاں مزید نمایاں ہو گئی ہیں۔

اسلام آباد ہوائی اڈے پر واپس آنے والے متعدد پاکستانی کارکنوں نے بتایا کہ انہیں اچانک ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا یا ان کے ویزے منسوخ کر دیے گئے، جس کے باعث انہیں وطن واپس آنا پڑا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورت حال پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں روزگار سے وابستہ ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں، جو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید خبریں