لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانیہ کے وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر لیبر جماعت میں قیادت کی تبدیلی کی صورت حال پیدا ہوئی تو وہ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بننے کے لیے تیار ہیں۔
برطانوی اخبار “دی ٹیلیگراف” کے مطابق ویس اسٹریٹنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر کے خلاف براہِ راست بغاوت نہیں کریں گے، تاہم اگر جماعت میں قیادت کے لیے باقاعدہ مقابلہ شروع ہوا تو وہ اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے مہم چلائیں گے۔
لیبر جماعت کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں شدید نقصان اٹھانے کے بعد وزیرِاعظم اسٹارمر پر اپنی ہی جماعت کے ارکان کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چالیس سے زائد ارکانِ پارلیمان ان سے استعفے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات: لیبر پارٹی کو بڑا دھچکا، ریفارم یو کے کی غیرمعمولی پیش رفت
دوسری جانب جماعت کی نائب رہنما انجیلا رینر نے بھی جماعت میں “بہترین قیادت” سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ گریٹر مانچسٹر کے ناظم اینڈی برنہم کا نام بھی ممکنہ امیدواروں میں لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ویس اسٹریٹنگ خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گے جو ریفارم یوکے اور نائجل فراج کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کر سکے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سر کیئر اسٹارمر کی قیادت لیبر جماعت کے لیے ایک بڑے امتحان میں تبدیل ہو سکتی ہے۔











