خلش۔۔
تحریر: فاروق احمد ایڈووکیٹ۔۔۔
قارئین محترم بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہوش آ گئی ہے امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا دور اگلے چند دنوں میں اسلام آباد میں متوقع ہے ذرائع نیوز ایجنسی اور مختلف دوسرے ٹیلیویژن چینلز نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پوری دنیا کا مرکز بنے گا اور انشاءاللہ اس مرتبہ مذاکرات میں جن امور پر رکاوٹ تھی وہ بھی دور ہو جائے گی اور دونوں متحارب ممالک کسی درمیانی راستے کو ترجیح دیں گے یہ بات بڑی حوصلہ افزا بھی ہے اور پوری دنیا میں امن پسند قوتوں کے لیے راحت اور خوشی کا موقع بھی ہے پوری دنیا کی نظریں پہلے کی طرح اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں خاص طور پر پاکستان مخالف قوتوں کی تو راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں ہندوستان اور اسرائیل میں تو اس خبر کے آنے کے بعد ایک صف ماتم سا بچھا ہوا ہے نیتن یاہو کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں اسرائیل تو کسی بھی امن معاہدے کے خلاف ہے وہ تو کسی بھی امن معاہدے کے خلاف ہے نیتن یاہو تو چاہتا ہے کہ یہ جنگ جاری رہے تا کہ اس کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ جو اس نے کئی عرصہ پہلے بنایا وہ کامیاب ہو سکے قارئین محترم ایران نے جس جوان مردی دلیری اور شجاعت کے ساتھ اپنا دفاع کیا وہ قابل تحسین بھی ہے اور موجودہ دور کی سب سے بڑی مثال بھی دنیا کی ایک سپر طاقت جس نے بلا وجہ جارحیت کا ارتکاب کیا اس کے سامنے ایران ڈٹ کر کھڑا ہو گیا اور دنیا کو یہ باور کروا دیا کہ جذبہ ایمانی حوصلہ اور اچھی جنگی پلاننگ ہو تو کسی بھی بڑی سے بڑی طاقت کو للکارا جا سکتا ہے ایران کے انفراسٹرکچر اور جانی نقصان بھی بہت ہوا مگر اس نے دشمن کی صفوں کو بھی تہس نہس کر ڈالا اس موقع پر پاکستان کی عمدہ اور دانشمندانہ سفارت کاری کو بھی علمی سطح پر نہ صرف سراہا گیا بلکہ بڑی عالمی طاقتوں نے اس پر اپنی خوشی کا برملا اظہار بھی کیا پوری دنیا کا میڈیا پاکستان کی سفارت کاری وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف فیلڈ مارشل جناب سید عاصم منیر صاحب اور اسحاق ڈار کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے ہمارا ازلی دشمن ہندوستانی میڈیا بھی اس کے اکابرین کے ساتھ پاکستان کے اس امن پسندانہ اقدام کی تعریف کر رہا ہے ماسوائے مودی کے اس کو تو سانپ سونگھ گیا ہے کل تک اسرائیل میں بیٹھ کر کہتا تھا اسرائیل باپ ہے اور ہندوستان میری دھرتی ماں ہے آج کدھر گیا اس کا باپ اسرائیل؟
قارئین محترم سفارت کاری ایک پیچیدہ اور صبر آزما آرٹ ہے امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے کوئی ایک فریق دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا مگر آہستہ آہستہ برف پگھلنی شروع ہو چکی ہے اور جن امور پر اتفاق پہلی میٹنگ میں نہ ہو سکا انشاءاللہ اس مرتبہ وہ سارے معاملات بھی طے ہو جائیں گے ٹرمپ صاحب نے نیتن یاہو کے ورغلانے پر یہ جنگ چھیڑی تو دی مگر اب اس کو سمجھ آ گئی ہے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے دونوں فریقین کسی درمیانے راستے کو اپناتے ہوئے کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں گے ٹرمپ صاحب بھی اس کمبل سے جان چھڑانا چاہتے ہیں امریکی عوام میں اس کی پذیرائی نہیں ہو رہی امریکی عوام اب کھل کر اس بات کا برملا اظہار کر رہی ہیں کہ اسرائیل کی جنگ ہم نہیں لڑیں گے اور نہ ہی اپنے بچے مروائیں گے رہا سوال نیتن یاہو کا تو اس کا گریٹر اسرائیل کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا پوری دنیا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امریکی صدر نے یہ جنگ بلا جواز شروع کی اب وہ خود بھگتے۔











