لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانوی اخبار دی ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے نئے مقرر کردہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت بے ہوشی کی حالت میں ایرانی شہر قم کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ معلومات ایک سفارتی میمو سے حاصل ہوئی ہیں، جو امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع نے اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ شیئر کیا۔ میمو میں کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اسی فضائی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو شہید ہوئے تھے۔
میمو کے مطابق شدید زخموں کے باعث وہ اس وقت نہ صرف حکومتی امور انجام دینے سے قاصر ہیں بلکہ کسی بھی اہم فیصلہ سازی میں بھی شریک نہیں ہو پا رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قم، جو تہران سے تقریباً 87 میل جنوب میں واقع ہے، میں ان کا علاج جاری ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار ان کے مقام کا تعین کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کو ان کے مقام کا علم ہونے کے باوجود اسے منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔
راولپنڈی: منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کی کارروائیاں، 5 ملزمان گرفتار
دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عوامی عدم موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، اور ان کی صحت سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ اسی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
تاہم ایرانی حکام متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور ملک کے امور چلا رہے ہیں، اگرچہ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹی وی پر ان سے منسوب بیانات نشر کیے گئے، جبکہ ایک حالیہ ویڈیو میں انہیں ایک وار روم میں داخل ہوتے اور اسرائیل کے شہر ڈیمونا میں واقع جوہری تنصیب کے نقشے کا جائزہ لیتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔











