جمعه,  27 فروری 2026ء
افغان حملوں کے خلاف پاک فوج کے بھرپور جواب کی مکمل حمایت، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: سحر کامران
افغان حملوں کے خلاف پاک فوج کے بھرپور جواب کی مکمل حمایت، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: سحر کامران

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم افغانستان کی جانب سے ہونے والے بلااشتعال حملوں کے خلاف پاک فوج کے بروقت اور بھرپور جواب کی مکمل حمایت کرتی ہے، اور یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت تھا۔

سحر کامران نے کہا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ 1994 سے لے کر آج تک افغان طالبان کے رویے اور طرزِ عمل میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ 1990 کی دہائی میں جب طالبان اقتدار میں آئے تو افغانستان عالمی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا۔ نائن الیون کے بعد القاعدہ کو حوالے کرنے سے انکار نے بیس سالہ جنگ کو جنم دیا، جس میں لاکھوں افراد مارے گئے اور بے گھر ہوئے، جبکہ پاکستان کو بھی بھاری قیمت چکانا پڑی۔

رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ 2021 کے بعد طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے افغانستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کی محفوظ آماجگاہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور روسی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 20 سے 23 ہزار دہشت گرد سرگرم ہیں، جن میں سب سے بڑی تعداد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ہے، جس کے 6 سے 7 ہزار جنگجو موجود ہیں۔

زرداری محسنِ جمہوریت، آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس بنانا احسن اقدام ہے، سحرکامران

انہوں نے انکشاف کیا کہ طالبان کے ایک کمانڈر نے سرکاری ٹی وی پر خود اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس خودکش بمباروں کے باقاعدہ دستے موجود ہیں۔ امریکی اسلحے کے ذخائر، شدت پسندانہ سوچ اور انتہاپسند نظریے کے باعث طالبان نہ صرف اپنے بے گناہ عوام بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

سحر کامران نے کہا کہ طالبان وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جنہوں نے ان کی پہلی حکومت کو تباہ کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طالبان کا اقتدار دہشت گردوں کو پناہ دینے سے شروع ہوا تھا اور انجام بھی اسی وجہ سے ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔

مزید خبریں