منگل,  21 اپریل 2026ء
بسنت !
میں اور میرا دوست

کالم: میں اور میرا دوست ( بسنت)

زندگی میں کئی موضوع ایسے ہوتے ہیں جن پر دوستوں کے درمیان اختلاف بھی ہوتا ہے اور دلچسپ گفتگو بھی۔ بسنت بھی میرے اور میرے دوست کے درمیان ایسا ہی ایک موضوع ہے۔

وہ بسنت کا زبردست حامی ہے جبکہ میں ہمیشہ اس پر سوال اٹھاتا رہا ہوں۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میں نے بسنت کبھی خود منائی ہی نہیں۔ میرا تعلق لاہور سے نہیں بلکہ گجرات سے ہے جہاں بسنت کا وہ جوش و خروش کبھی دیکھنے کو نہیں ملا جس کا ذکر کتابوں، کہانیوں اور خبروں میں سنتے آئے ہیں۔

بسنت دراصل برصغیر کا ایک قدیم تہوار ہے جو موسمِ بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر اس کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں کہا جاتا کہ بسنت کی روایت قدیم ہندوستان سے شروع ہوئی جہاں اسے “بسنت پنچمی” کے نام سے منایا جاتا تھا۔ یہ دن بہار کے آغاز، فصلوں کی ہریالی اور فطرت کی تازگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ تہوار مذہبی حدوں سے نکل کر ایک ثقافتی جشن بن گیا۔ پنجاب میں خاص طور پر اس نے ایک عوامی میلے کی شکل اختیار کر لی۔ مغل دور میں بھی بسنت بڑے اہتمام سے منائی جاتی تھی۔ لاہور، دہلی اور امرتسر میں شاہی خاندان بھی اس تہوار میں شریک ہوتے تھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد لاہور بسنت کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ ایک وقت تھا جب فروری کے مہینے میں لاہور کی فضا رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتی تھی۔ چھتوں پر میلے لگتے، موسیقی بجتی، اور “بو کاٹا!” کی آوازیں گونجتیں۔ بسنت صرف پتنگ بازی کا نام نہیں تھا بلکہ ایک مکمل ثقافتی تہوار تھا جس میں کھانے پینے، میل ملاقات اور اجتماعی خوشیوں کا عنصر شامل ہوتا تھا۔

میں نے یہ سب مناظر صرف تصویروں اور ٹی وی اسکرین پر دیکھے ہیں۔ ذاتی طور پر کبھی اس جشن کا حصہ نہیں بن سکا۔ اسی لیے بسنت میرے لیے ایک کہانی کی طرح رہی ہے، حقیقت کی طرح نہیں۔ جبکہ میرا دوست اس کے بالکل برعکس سوچ رکھتا ہے۔ وہ لاہور میں پلا بڑھا ہے اور اس نے اپنی زندگی کی کئی بسنتیں بھرپور انداز میں منائی ہیں۔ جب بھی بسنت کا ذکر آتا ہے، اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک آ جاتی ہے۔ وہ مجھے بتاتا ہے کہ کیسے وہ بچپن میں چھت پر پتنگیں اڑاتا تھا، دوستوں کے ساتھ مقابلے کرتا تھا اور سارا دن خوشیوں میں گزرتا تھا۔

میرے دوست کا کہنا ہے کہ بسنت ہماری ثقافت کا خوبصورت حصہ ہے اور اسے دوبارہ پوری شان سے منایا جانا چاہیے۔ وہ سمجھتا ہے کہ چند منفی واقعات کی وجہ سے ایک پوری روایت کو ختم کر دینا درست نہیں۔ اس کے مطابق بسنت لوگوں کو قریب لاتی ہے، خوشیاں بانٹتی ہے اور زندگی میں رنگ بھر دیتی ہے۔
لیکن میرا نقطۂ نظر اس سے مختلف ہے۔ میں جب بسنت کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں سب سے پہلے وہ خبریں آتی ہیں جن میں کیمیکل ڈور سے ہونے والے حادثات، زخمی ہونے والے لوگ اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذکر ہوتا ہے۔ میں دوست سے اکثر سوال کرتا ہوں کہ کیا ایک تہوار کی خوشی انسانی جان سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟ کیا محض پتنگ بازی کے لیے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا مناسب ہے؟ میرے نزدیک کسی بھی تہوار کا مقصد خوشی دینا ہونا چاہیے، نقصان پہنچانا نہیں۔

چونکہ میں نے بسنت کبھی خود نہیں منائی، اس لیے میرے لیے اس کا رومان بھی اتنا پرکشش نہیں جتنا میرے دوست کے لیے ہے۔ میں اسے اکثر کہتا ہوں کہ تم بسنت کو اپنی یادوں کی عینک سے دیکھتے ہو جبکہ میں اسے ایک غیر جانبدار نظر سے دیکھتا ہوں۔ شاید اسی لیے ہمارے درمیان یہ دلچسپ مکالمہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔

حالیہ برسوں میں دوبارہ بسنت منانے کی باتیں شروع ہوئی ہیں۔ اور پھر لاہور میں 2 دہائیوں کے بعد بڑے پیمانے پر محفوظ بسنت منائی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے کیمیکل ڈور پر پابندی لگائی گئی اور مکمل حفاظتی اقدامات کے ساتھ 3 دن مفت ٹریفک کی سہولت کیساتھ تہوار منانے کی اجازت دی گئی۔ میرا دوست ان خبروں سے بہت خوش ہے۔

اس کا خیال ہے کہ یہ ہماری ثقافتی روایت کی بحالی کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔

میرا کہنا ہے کہ اگر بسنت واقعی محفوظ طریقے سے منائی جائے، قوانین پر سختی سے عمل ہو اور کسی کی جان خطرے میں نہ پڑے تو شاید اس تہوار کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ مگر جب تک مکمل حفاظت کی ضمانت نہ ہو، میں اس کے حق میں پوری طرح نہیں ہو سکتا۔
ہم دونوں کی بحث اکثر اس نکتے پر آ کر ختم ہوتی ہے کہ تہوار اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں لیکن انسانی زندگی سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ میرا دوست جذبات کی بنیاد پر بسنت کا دفاع کرتا ہے اور میں دلیل اور احتیاط کی بنیاد پر اس پر سوال اٹھاتا ہوں۔ شاید یہی اختلاف ہماری دوستی کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔

میں مانتا ہوں کہ بسنت تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے ایک اہم تہوار ہے۔ یہ بہار کی آمد، خوشی اور رنگوں کی علامت ہے۔ لیکن میرے نزدیک کسی بھی روایت کو وقت کے تقاضوں کے مطابق دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کوئی روایت نقصان کا باعث بننے لگے تو اس پر نظرِ ثانی کرنا بھی دانشمندی ہے۔

میں نے بسنت صرف سن رکھی ہے، مگر کبھی منائی نہیں۔ شاید اسی لیے میرے دل میں اس کے لیے وہ کشش نہیں جو میرے دوست کے دل میں ہے۔ اس کے باوجود میں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ اگر بسنت منائی جائے تو ایک مثبت، محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں منائی جائے تاکہ یہ واقعی خوشیوں کا تہوار بن سکے، کسی کے لیے دکھ کا سبب نہ بنے۔

آخر میں میں یہی کہوں گا کہ بسنت کے حوالے سے میرا اور میرے دوست کا اختلاف اپنی جگہ، مگر ہم دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ تہوار وہی خوبصورت ہوتے ہیں جو لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لائیں۔ اگر بسنت یہ مقصد پورا کر سکتی ہے تو اسے ضرور زندہ رہنا چاہیے، اور اگر نہیں تو پھر ہمیں نئی روایات کو اپنانا ہوگا۔

یہی سوچتے ہوئے میں اکثر مسکرا کر دوست سے کہتا ہوں: “دوست! تم بسنت مناؤ، میں بسنت پر سوال اٹھاتا رہوں گا۔ شاید سچ ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔”

مزید خبریں