پارٹی سربراہ کے سمدھی ہونے کا یہ مطلب نہیں پارٹی کو برباد کر دیا جائے ۔یوتھ ونگ پاکستان مسلم لیگ (ن)برطانیہ

مانچسٹر (شہزاد انور ملک سے )پاکستان مسلم لیگ نواز برطانیہ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار کارکن اس حد تک بد دل ہو چکے ہیں کوئی کسی کی سننے کو تیار نہیں ،ایک ایسا گروپ بھی ہے جو اپنی خوشامد اور جی حضوری سے پارٹی قیادت کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے اور ان کو سابق وفاقی وزیر خزانہ کی مکمل آشیر آباد بھی حاصل ہے۔ پاکستان کے تین دفعہ کے نتخب وزیراعظم ،سربراہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف کی سالگرہ کی تقریب میں شریک لیگی راہنما اس موقع پر آپس میں آمنے سامنے پارٹی میں موجود اندرونی شدید اختلاف کھل کر سامنے آگیا۔
کارکنان آپس میں گتھم گتھا ہوگئے اور غلیظ گالیوں کا کھلے عام استعمال کیا گیا جس سے محبوب قائد کی سالگرہ تماشا بن گئی ۔ خوشامدی ٹولے نے تقریب کے مہمان خصوصی کے طور پر سابق سینٹر/وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمدھی قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) ہونے کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ نواز کے فارن آفیر انٹرنیشنل کے صدر بھی ہیں کو مدعو کر رکھ تھا ۔ انھوں نے جس کی بظاہر کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی کچھ پارٹی ورکرز کو منظور نظر بنا رکھا ہے منعقدہ سالگرہ میں شرکت کی اورستم ظریفی دیکھنے میں یہ بھی نظر آئی نظریاتی کارکنان کو یکسر نظر انداز کر دیا جا چکا ہے ۔جبکہ پارٹی سربراہ کی اس سالگرہ کی تقریب کا احترام بھی بالائے طاق رکھا گیا جس کا قارئین اندازہ اس تصویر سے بھی لگا سکتے ہیں۔

اوپر دیکھی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے ایک لڑکا سیلفی بھی بنوا رہا ہے اور ساتھ میں اپنی تصویر بھی جبکہ سابق وزیر خزانہ کا دھیان بھی کہیں اور ہے جبکہ خود نما صدر برطانیہ پاکستان مسم لیگ (ن) بھی اپنی تصویر کو بنوانے میں مگن دکھائی دیتے ہیں ۔جن کے متعلق میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد شہباز شریف نے زبیر گل صدر برطانیہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا مضحکہ خیز ہے اس قسم کی تقریبات منعقد کروا کر محبوب قائد کا مذاق بنوانے کے مترادف ہے ،ایسے میں پارٹی میں موجود کارکنان شدید کوفت پریشانی اور ذہنی کشمکش کا شکار ہیں کیونکہ ان کارکنان کے دل میں پارٹی قائد اور ان کے محبوب راہنما میاں محمد نواز شریف کا پوجنے کی حد تک مقام ہے۔
لیڈز میں پاکستان مسلم لیگ ن یوتھ ونگ برطاینہ نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے پرزور اپیل کی ہے کہ برطاینہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی از سر نو تنظیم سازی کی جائے اور پارٹی کے اندر فوری طور پر الیکشن کروائے جائیں۔پاکستان مسلم لیگ ن یوتھ ونگ برطاینہ کے جنرل سکریٹری حاجی سیف احمد۔ اسد سجاد بٹ صدر یارکشائر اینڈ ہمبھبر سایئڈ ۔ملک نعمان شہزاد صدر یارکشائر یوتھ ونگ نے روشن پاکستان نیوز سے خصوصی گفتگو میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد اور سابق وزیزاعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ،صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد شہباز شریف ،مرکزی رہنما پاکستان مسلم لیگ( ن )اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے اپیل کی ہے کہ برطاینہ میں پارٹی کو مزید مضبوط اور فحال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی کے اندر الیکشن کروائے جائیں کیونکہ گزشتہ 20 سالوں میں ایک ہی صدر ہے اور پارٹی کے اندر الیکشن نہیں کروائے گئے اور پارٹی کے مخلص اور نظریاتی کارکنوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ان رہنماؤں نے قائد میاں محمد نواز شریف اور پارٹی صدر میاں محمد شہباز شریف سے پر زور اپیل کی ہے کہ برطانیہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر فوری طور پر الیکشن کروائے جائیں اور پارٹی کے لئے قربانیاں دینے والے اور مخلص کارکنوں کو ان کا اصل مقام دیا جائے۔ان رہنماؤں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سلیکٹڈ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے دیا ہے لیکن لگتا ہے یہ حق صرف اپنی پارٹی کے کارکنان تک ہی ہے اس لئے ضروری ہے پارٹی کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے لئے برطانیہ میں پارٹی کے اندر الیکشن کروائے جائیں اور پارٹی کے لئے قربانیاں دینے والے اور مخلص کارکنوں کی مرضی کے مطابق پارٹی کا صدر منتخب کیا جائے جو پارٹی کے مخلص اور قربانیاں دینے والے کارکنوں کو ساتھ لے کر چلے ۔ان رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ کہ وہ پارٹی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔
ثابت شدہ بات ہے کہ جس جماعت کا نظریہ عوامی اور سیاسی کارکن نظریاتی ہو وہی جماعت عوام کے دلوں پر راج کرے گی ۔پاکستان مسلم لیگ نواز ایسی سیاسی جماعت جو نظریات کا نام ہے پختہ نظریہ کی خاطر ان کے سیاسی کارکنان اب بھی میدان عمل میں کردار ادا کررہے  ہیں۔
مگر بد قسمتی سے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں سیاسی قیادت کو سیاسی رسی کشی اور شخصی مفادات اتنے عزیز ہوگئے ہیں کہ یہ نظریے کو شخصی مفادات کے لیے قربان کررہے ہیں، نظریہ اور منشور پمفلٹ اور نعروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں ،نظریے کے بدلے مال اور سیاسی پختہ عزم نظریاتی کارکن پر موسمی شخصیات حاوی ہوگئے ہیں۔
سیاسی عمل میں کوئی منصب اور ذمے داری ہر لمحے آپ سے تقاضہ کرتی ہے کہ اپنے انتہائی سطحی مفادات کے لیے اپنی حدود میں نظریاتی سیاست کا بیڑہ غرق کرنے کی نہ ٹھانیں، اگر محسوس ہو کہ کوئی فرد کسی کام میں مہارت رکھتا ہے یا بہتر طور پر کچھ کرنے کی سکت رکھتا ہے تو اسے آگے بڑھائیں، اس کے ساتھ تعاون کریں نہ کہ  اس کے اور اپنے قد کا موازنہ کرنے لگیں اور خود کو قدآور ثابت کرنے کے لیے کسی کو دبائیں، اسے دیوار سے لگانے کے لیے محلاتی سازشوں پر اتریں اور کوئی بھی اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کرنے سے دریغ نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں