اسلام آباد مذاکراتی مرکز بن گیا، امن کی نئی امید

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں ایک جانب شدید فوجی کارروائیاں جاری ہیں تو دوسری جانب کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی سفارتی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ تازہ حملوں میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے فوجی، جوہری، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواباً اسرائیل کے صنعتی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ لبنان اور دیگر علاقوں میں بھی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

یو اے ای: ایرانی حملوں سے نقصانات کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے پر 70 برطانوی شہری گرفتار

سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس 29 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا گیا۔ پاکستان نے اس معاملے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے، جبکہ چین اور اقوام متحدہ نے بھی ان کوششوں کی حمایت کی ہے۔

ادھر خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھ کر تقریباً 57 ہزار اہلکاروں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران میں کسی امریکی زمینی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، توانائی بحران اور انسانی نقصان نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں جاری سفارتی عمل ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، تاہم اگر اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو یہ تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے اور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

مزید خبریں