اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں شدید فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام، فضائی دفاعی نظام، بحری اثاثوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی اور شہری بجلی کے ڈھانچے پر حملوں میں 10 روزہ وقفے کے اعلان (جسے 6 اپریل تک بڑھا دیا گیا) کے باوجود اسرائیلی افواج نے ایران کے تین بڑے اسٹیل پلانٹس، خونداب (اراک) ہیوی واٹر ری ایکٹر اور یورینیم سے متعلق تنصیبات پر حملے کیے۔ ان کارروائیوں کے باعث شہری علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو نقصان پہنچنے اور عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیوں میں اسرائیل کے اہم انفراسٹرکچر اور ان امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جو ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد حزب اللہ کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ یمن میں حوثی تحریک نے ایران کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جس سے باب المندب اور آبنائے ہرمز میں سمندری راستوں کی بندش کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
سفارتی سرگرمیاں اور علاقائی صورتحال
پاکستان، ترکی اور مصر کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ ایران کو امریکہ کی 15 نکاتی تجویز موصول ہو چکی ہے، تاہم اس نے تاحال باضابطہ جواب نہیں دیا اور جاری حملوں کے ساتھ سفارتکاری کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ہفتے پاکستان میں ایک اہم اعلیٰ سطحی ملاقات متوقع ہے۔
خلیجی ممالک اس معاملے پر منقسم نظر آتے ہیں۔ قطر، کویت اور عمان کشیدگی میں کمی پر زور دے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اپنی خودمختاری پر کسی بھی حملے کی صورت میں ردعمل کے لیے تیاری ظاہر کی ہے۔
فوجی تعیناتیاں اور خدشات
امریکہ نے اپنے بحری اور فضائی اثاثے عرب سمندر میں تعینات کر رکھے ہیں، جن میں یو ایس ایس ابراہام لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کے کیریئر گروپس شامل ہیں۔ مزید برآں، امریکی بری اور میرین فورسز کو ہنگامی کارروائیوں کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تنازعے کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام، فرقہ وارانہ کشیدگی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آگے کا راستہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 6 اپریل تک ایک محدود موقع موجود ہے جس میں کشیدگی کم کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فریقین شہری تنصیبات پر حملے روکیں، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے، اور جوہری پروگرام پر مرحلہ وار معاہدہ کیا جائے۔
پاکستان، ترکی اور مصر کی مشترکہ سفارتی کوششیں اس بحران کے حل کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو تنازعہ مزید طول پکڑ سکتا ہے اور خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔











