تہران (روشن پاکستان نیوز )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی ساختہ نسبتاً سستے ڈرونز نے امریکی فوج کے مہنگے اور جدید نگرانی کے نظام کو نشانہ بنا کر دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ان حملوں سے قطر، اردن اور بحرین میں موجود اہم امریکی فوجی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے کم قیمت شاہد ڈرونز کی بڑی تعداد استعمال کرتے ہوئے امریکی ریڈار اور نگرانی کے نظام کو ہدف بنایا۔ اطلاعات کے مطابق ایک شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً 20 ہزار ڈالر کے قریب ہے، جبکہ جن دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا ان کی مالیت اربوں ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی اس لیے اہم ہے کیونکہ اس میں انتہائی سستے ہتھیاروں کے ذریعے مہنگے دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
جتنا سخت دباؤ ڈالا جائیگا ردعمل اتنا ہی سخت ہوگا: ایرانی صدر
رپورٹس کے مطابق قطر میں امریکی فضائی اڈے العدید پر نصب فوری خبردار کرنے والے ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ نظام امریکی خلائی فورس کے عالمی نگرانی نیٹ ورک کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی قیمت تقریباً 1.1 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس تنصیب کے متاثر ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
اسی طرح اردن کے موافق السلطی فضائی اڈے پر نصب ایک اہم ریڈار سسٹم کی تباہی کی بھی اطلاعات ہیں۔ یہ ریڈار تھاڈ میزائل دفاعی نظام کا مرکزی جزو ہوتا ہے اور اس کی قیمت 300 سے 500 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ یہ نظام طویل فاصلے سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے قریب بھی ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے دو اہم ٹرمینلز کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ نظام فوجی مواصلاتی رابطوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں موجود کچھ ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جہاں تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام تعینات ہیں جو خطے میں بیلسٹک میزائلوں کے خلاف اہم دفاعی ڈھال سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باوجود مجموعی دفاعی صلاحیت برقرار ہے کیونکہ نگرانی کے لیے دیگر متبادل نظام بھی موجود ہیں، جن میں سیٹلائٹ پر مبنی سینسرز شامل ہیں۔
تاہم فوجی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر زمینی ریڈار نظام متاثر ہو جائیں تو آنے والے میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور انہیں روکنے کے لیے دستیاب وقت کم ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر تھاڈ نظام کے ساتھ نصب ریڈار غیر فعال ہو جائے تو وہ خود سے اہداف کو ٹریک نہیں کر سکتا اور ایسی صورت میں دفاعی ذمہ داری کم فاصلے تک مار کرنے والے پیٹریاٹ نظام پر منتقل ہو جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جدید اور مہنگے دفاعی نظام بھی کم قیمت ہتھیاروں کے سامنے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔











