تہران(روشن پاکستان نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث دنیا کی نظریں نہ صرف خطے کے ممالک پر بلکہ اہم سمندری راستوں پر بھی جمی ہوئی ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان واقع تنگ بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز اس وقت عملی طور پر بند ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز وہ اسٹریٹجک راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس بندش کے باعث بین الاقوامی تجارت معطل ہو چکی ہے، جبکہ ایشیائی ممالک کی تقریباً ستر فیصد توانائی ضروریات اسی راستے سے پوری ہوتی ہیں۔
چین، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل اور گیس درآمد کرنے والا ملک ہے، اپنی چالیس سے پینتالیس فیصد تیل اور تیس فیصد گیس اسی گزرگاہ کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ چین ایران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، اور امریکہ کے اتحادی ممالک توقع کر رہے ہیں کہ بیجنگ تہران پر دباؤ ڈالے گا تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی بحال ہو سکے اور بحری جہازوں پر حملوں کا خطرہ کم کیا جا سکے۔
ایران پر حملوں کے بعد جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گئی، عالمی معیشت متاثر
پاکستان، جاپان اور بھارت بھی اپنی توانائی ضروریات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ بھارت نے حالیہ عرصے میں امریکی دباؤ کے باعث روس سے تیل کی درآمدات کم کر کے عرب ممالک پر انحصار بڑھایا تھا۔ اب بھارتی اپوزیشن وزیرِاعظم نریندر مودی سے سوال کر رہی ہے کہ موجودہ بحران میں کیا بھارت دوبارہ روس سے تیل خریدنے پر مجبور ہوگا، اور اگر ایسا ہوا تو امریکہ کی ممکنہ تجارتی پابندیوں کا سامنا کیسے کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی افواج کے ایک کمانڈر، ابراہیم جباعی، نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو گزرنے نہیں دیا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد سیکڑوں بحری جہاز اطراف میں لنگر انداز ہو چکے ہیں، جبکہ جہاز مالکان اور بروکرز نے ایل این جی کی ترسیل کے نرخ دوگنا کر دیے ہیں اور یومیہ دو لاکھ ڈالر تک کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حملوں کے بعد قطر نے عارضی طور پر ایل این جی کی پیداوار روک دی، جس سے عالمی گیس مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے میں آئی، ابتدا میں گیارہ سو پوائنٹس کی کمی ہوئی جبکہ بعد ازاں بھی سینکڑوں پوائنٹس منفی رجحان برقرار رہا۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت نے قطر کی پیداوار متاثر ہونے کے بعد اپنی صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی محدود کر دی ہے۔ دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق ملک کے پاس اٹھائیس دن کے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔
یورپی گیس کی قیمت میں ایک ہی دن میں پچاس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بارہ فیصد اضافے کے بعد مزید نو فیصد بڑھ کر پچاسی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ ایشیا میں کوئلے کی قیمتیں بھی دو ہزار چوبیس کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور اس کے جواب میں ایرانی ردعمل نے عالمی توانائی منڈی اور تجارت کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے، اور اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت کو مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔











