اتوار,  01 مارچ 2026ء
خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں جانشینی اور عبوری قیادت کی نامزدگی کا عمل شروع

تہران(روشن پاکستان نیوز) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تقریباً 37 برس اقتدار میں رہنے کے بعد شہادت نے ملک کے سیاسی مستقبل سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ان کے قتل کے اگلے ہی روز آئینی طریقہ کار کے تحت اقتدار کی منتقلی کے ابتدائی خدوخال سامنے آنا شروع ہو گئے۔

آئین کے مطابق اتوار کو ایک عبوری قیادت کونسل قائم کی گئی جس نے ریاستی امور سنبھال لیے ہیں۔ یہ کونسل صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک رکن پر مشتمل ہے جسے ایکسپیڈینسی کونسل نامزد کرتی ہے۔ ایکسپیڈینسی کونسل سپریم لیڈر کو مشورہ دینے اور پارلیمان سے تنازعات نمٹانے کی ذمہ دار ہے۔

عبوری کونسل میں اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیان اور سخت گیر چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژئی شامل ہیں، جو عارضی طور پر سپریم لیڈر کے تمام اختیارات سنبھالیں گے۔ تاہم یہ بندوبست عارضی ہے۔

ایرانی قانون کے تحت 88 ارکان پر مشتمل مجلس خبرگان کو “جلد از جلد” نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنا ہوگا۔ مجلس خبرگان مکمل طور پر شیعہ علما پر مشتمل ہوتی ہے جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد عوامی ووٹ سے ہوتا ہے، تاہم ان کی امیدواریاں گارڈین کونسل کی منظوری سے مشروط ہوتی ہیں۔ یہی گارڈین کونسل ماضی میں مختلف انتخابات میں امیدواروں کو نااہل قرار دیتی رہی ہے۔ مارچ 2024 میں اس نے سابق صدر حسن روحانی کو بھی مجلس خبرگان کے انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

خامنہ ای کے 56 سالہ صاحبزادے مضبوط امیدوار

جانشینی کے ممکنہ امیدواروں کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں، تاہم علما کی مشاورت عموماً عوامی نظروں سے دور ہوتی ہے۔ ماضی میں یہ تاثر تھا کہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی اور سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی قیادت سنبھال سکتے ہیں، مگر وہ مئی 2024 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہیدہو گئے

اب خامنہ ای کے 56 سالہ صاحبزادے مجتبی خامنہ ای کا نام بھی ممکنہ امیدواروں میں لیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے۔ تاہم باپ سے بیٹے کو اقتدار کی منتقلی نہ صرف حکومت کے ناقدین بلکہ نظام کے حامیوں میں بھی ردعمل پیدا کر سکتی ہے، جو اسے 1979 کے انقلاب کے بعد ایک نئی مذہبی موروثی روایت کے قیام کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

ایران میں سپریم لیڈر کے منصب پر اقتدار کی منتقلی اس سے قبل صرف ایک بار ہوئی تھی۔ 1989 میں انقلاب 1979 کے روحِ رواں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد خامنہ ای اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔ موجودہ انتقالِ اقتدار ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے اور جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہو چکی ہے۔

ایران کا سپریم لیڈر ملک کے پیچیدہ شیعہ مذہبی و سیاسی نظام کا محور ہوتا ہے اور ریاستی معاملات پر حتمی اختیار رکھتا ہے۔ وہ مسلح افواج اور طاقتور پاسداران انقلاب کا سپریم کمانڈر بھی ہوتا ہے۔ پاسداران انقلاب کو 2019 میں امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ یہی فورس خطے میں اپنے اتحادی گروہوں پر مشتمل مبینہ “محورِ مزاحمت” کی قیادت کرتی رہی ہے اور ایران کے اندر بھی وسیع مالی و معاشی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

مزید خبریں