اتوار,  22 فروری 2026ء
ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

تہران(روشن پاکستان نیوز) ایران نے جوابی اقدام کے طور پر یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کے ‘غیر قانونی اور بلاجواز’ اقدام کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یورپی حکومتوں نے آئی آر جی سی کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فہرست میں شامل کیا، حالانکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا باقاعدہ اور سرکاری حصہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ‘اصولِ باہمیّت’ کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔

دوسری جانب کونسل آف دی یورپین یونین نے جمعرات کو جاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ آئی آر جی سی کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر رکن ممالک کے درمیان چند ہفتے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔

ایران جانے کی کوشش کرنے والے 50 افغان باشندے گرفتار

یورپی کونسل کے مطابق فہرست میں شمولیت کے بعد آئی آر جی سی پر یورپی یونین کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کے نظام کے تحت سخت اقدامات لاگو ہوں گے، جن میں رکن ممالک میں اس کے فنڈز اور دیگر مالی اثاثوں کو منجمد کرنا اور یورپی اداروں کے لیے اس تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس وقت مجموعی طور پر 13 افراد اور 23 گروہ و ادارے یورپی یونین کی دہشت گرد فہرست کے تحت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بعض یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کی تھی، جسے انہوں نے کریک ڈاؤن قرار دیا۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمان نے بھی اعلان کیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کی منظوری کے بعد یورپی یونین کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جائے گا۔ بعد ازاں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر یورپی اقدام کو ‘غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

ادھر خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ رہی ہے جب ایک جانب امریکا کی غیر معمولی فوجی تعیناتی جاری ہے تو دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی خلیج فارس میں فوجی مشقیں بھی جاری ہیں۔

مزید خبریں