جمعه,  20 فروری 2026ء
اگلے 12 سے 18 ماہ کے دوران لاکھوں ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں!

واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز) امریکی کاروباری شخصیت اینڈریو یان نے وارننگ دی ہے کہ اگلے 12-18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی کاروباری شخصیت اور سابق صدارتی امیدوار اینڈریو یانگ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی خودکاری اگلے سالوں میں امریکی دفاتر میں لاکھوں سفید پوش ملازمتیں ختم کر دے گی۔

یان نے اپنی تازہ تحریر میں اسے “وائٹ کالر جابز کی بڑی کمی” قرار دیا اور کہا “اگر آپ زیادہ تر وقت کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتے ہیں تو اس بات کو سنجیدگی سے لیں۔”

انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کے ایک فرد نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ویب سائٹ چند منٹوں میں تیار کر لی، حالانکہ یہی کام پہلے کئی دن لیتا تھا، اس غیر معمولی رفتار اور کارکردگی کی قیمت ملازمتوں کے خاتمے کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔

صحت مند زندگی کیلئے رات کا کھانا کب کھانا چاہیے؟ ماہرین نے واضح کر دیا

ان کا کہنا ہے کہ ایک کمپنی جیسے ہی اپنی ورک فورس کو کم کرے گی، تمام حریف کمپنیاں بھی ایسا کرنے پر مجبور ہوں گی، کیونکہ اسٹاک مارکیٹ ہیڈکاؤنٹ کم کرنے والے اداروں کو انعام دے گی اور نہ کرنے والوں کو نقصان پہنچائے گی۔

موجودہ وقت میں امریکہ میں تقریباً 70 ملین دفتر کے کارکن ہیں، جن میں اگلے چند سالوں میں 20 سے 50 فیصد کمی متوقع ہے۔

اینڈریو یان نے کہا کہ درمیانی کیریئر کے پروفیشنلز سب سے پہلے متاثر ہوں گے ، ان سے اپیل ہے کہ وہ اپنی جائیداد فروخت کے لیے پیشگی سوچیں تاکہ مارکیٹ میں اچانک اتار چڑھاؤ سے بچ سکیں۔

سفید پوش ملازمتوں میں کمی کا اثر دیگر سروس سیکٹرز پر بھی پڑے گا، جیسے ڈرائی کلینرز، ہیئر اسٹائلسٹس، اور ڈاگ واکرز۔

یان نے خبردار کیا کہ حالیہ کالج گریجویٹس بھی مشکل بھرتی کے ماحول سے متاثر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹاک مارکیٹ بھی ان کمپنیوں کو انعام دیتی ہے جو اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتی ہیں، جبکہ ایسا نہ کرنے والی کمپنیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اینڈریو یان نے اختتام پر کہا: “تیار رہیں، اپنے لیے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے لیے اقدامات کریں، کیونکہ آنے والے وقت میں انتہائی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔”

مزید خبریں