منگل,  06 جنوری 2026ء
امریکا نے افغان جنگ میں کھربوں ڈالر ڈبوئے؛ امریکی انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) خصوصی امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان تعمیر نو (سیگار) نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ اور تعمیر نو سے متعلق جامع رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں امریکا کی پالیسیوں، اخراجات اور افغان ریاستی ڈھانچے کی کمزوریوں پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات میں افغان حکومت کو نظرانداز کرنا ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور نظام کے انہدام کا باعث بنا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2002 سے 2021 کے درمیان امریکا نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیے مجموعی طور پر 144.7 ارب ڈالر مختص کیے، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ اخراجات دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے لیے شروع کیے گئے مارشل پلان سے بھی زیادہ رہے۔ اس کے باوجود تعمیر نو کے اہداف پورے نہ ہو سکے اور افغان حکومتوں میں بدعنوانی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی۔

سیگار کے مطابق جنگی کارروائیوں پر امریکا نے تعمیر نو کے علاوہ اضافی 763 ارب ڈالر خرچ کیے۔ افغان سیکیورٹی فورسز پر تقریباً 90 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود وہ غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ کر سکیں اور امریکی انخلا کے فوراً بعد تیزی سے بکھر گئیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان سیکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود تھے اور ایندھن سمیت دیگر وسائل بڑے پیمانے پر چوری ہوتے رہے۔

مزید پڑھیں: امریکہ میں صدر ٹرمپ کیخلاف ہر ریاست میں بڑے پیمانے پر مظاہرے

رپورٹ کے مطابق افغان فورسز کے لیے ایک لاکھ 47 ہزار گاڑیاں اور ہزاروں عسکری آلات خریدے گئے، جبکہ 4 لاکھ 27 ہزار 300 ہتھیار اور 162 طیارے فراہم کیے گئے۔ اس کے باوجود امریکی انخلا کے بعد 7.1 ارب ڈالر مالیت کا عسکری سازوسامان افغانستان میں ہی چھوڑ دیا گیا۔

افغانستان کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔ ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے افغانستان کے لیے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے، تاہم انسداد منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود نتائج غیر مؤثر رہے۔ اسی طرح اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ کیے گئے مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

افغان جنگ کے انسانی نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران 2,450 سے زائد امریکی فوجی جاں بحق اور 20,700 زخمی ہوئے۔ انخلا کے بعد افغان مہاجرین کی امریکا منتقلی کے لیے 14.2 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سقوط کابل کے بعد امریکا نے چار سال کے دوران طالبان حکومت کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد دی، جبکہ صرف مارچ 2025 کی ایک سہ ماہی میں طالبان کو 120 ملین ڈالر فراہم کیے گئے۔ افغان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے چھ منصوبے تاحال فعال ہیں، تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت ان امدادی رقوم پر ٹیکس اور لیویز وصول کرتی رہی۔

مزید خبریں