جمعه,  04 اپریل 2025ء
جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے صدر یون سوک یول کو عہدے سے ہٹا دیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے ملک میں مارشل لا کے نفاذ پر معزول صدر یون سک یول کو عہدے سے ہٹا دیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق عدالت نے سابق صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی توثیق کر دی۔ جنوبی کوریا کی آئینی عدالت کے 8 ججز نے متفقہ فیصلہ سنایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مارشل لا کے اعلان اور فوج کو پارلیمنٹ بھیجنے سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی، صدر کی غیر آئینی، غیر قانونی کارروائیاں جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقی کرکٹر کوربن بوش کو لیگل نوٹس کیوں بھیجا؟

جنوبی کوریا کی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ صدر یول نے مارشل لا لگا کر بطور صدر اپنے عہدے کی خلاف ورزی کی، انہوں نے آئین کے تحت دیئے گئے اختیارات سے تجاوز کیا۔

عدالت نے فیصلے میں مزید کہا کہ صدر یول کے اقدامات جمہوریت کیلئے سنگین خطرہ تھے، صدر عوام کے اعتماد کی سنگین غداری کے مرتکب ہیں، مارشل لاء کے اعلان نے معیشت، خارجہ پالیسی سمیت تمام شعبوں میں افراتفری پیدا کی۔

خبر ایجنسی کے مطابق صدر یول کو بغاوت کے الزامات پر فوجداری مقدمے کا سامنا ہے،وزیر اعظم ہان ڈک سو عبوری صدر کی ذمہ داری نبھائیں گے، جنوبی کوریا میں 60 دن کے اندر نیا صدارتی انتخاب کرایا جائے گا۔

مزید خبریں