جنگ مخالف جارج گیلووے کاکشمیریوں،فلسطینیوں سے بھرپوراظہاریکجہتی

مانچسٹر(روشن پاکستان نیوز)برطانیہ کے سنیئر سیاستدان سابق رکن برطانوی پارلیمنٹ اورجنگ مخالف جارج گیلووے نےکہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے ،منتخب ہو کر برطانوی پارلیمنٹ میں اس کے خلاف آواز اٹھائونگا،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے رفح اور غزہ میں بربریت کا بازارگرم کر رکھا ہے اور جنگ بندی بھی نہیں ہونے دے رہے۔

مانچسٹر کے مقامی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کے قریبی دوست اورمعروف کاروباری شخصیت انیل مسرت کی جانب سے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے اعزا زمیں عشائیہ کا اہتمام کیاگیا،اس موقع پر اپنے خطاب میں جارج گیلووے نے مسئلہ فلسطین پر کہاکہ اگر وہ منتخب ہو گئے تو پارلیمنٹ میں مسئلہ فلسطین پر پرزور اور جاندار آواز اٹھائیں گے،انہوں نے کہاکہ صرف جنگ بندی فلسطین کے مسئلہ کا حل نہیں اس سے جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی، مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل فلسطینیوں کی علیحدہ حیثیت کو تسلیم کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے اس وقت رفح اور غزہ میں بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور وہ جنگ بندی نہیں چاہتے ،وہ صرف قتل عام کرنا چاہتے ہیں،

مسئلہ کشمیر بارے انکا کہنا تھا کہ سب سے پہلے 1990 میں وہ مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھانے کے لیے ایک کارواں لیکر یورپین پارلیمنٹ پہنچے تھے کشمیر بارے میرا موقف واضح و ٹھوس ہے کہ کشمیری قوم کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں انہیں انکا پیدائشی حق خودارادیت دیا جائے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ان مسائل کو اٹھانے کا بھی اعلان کیا،اس موقع پر انہوں نے کشمیر ی رہنمامقبول بٹ کو بھی خراج عقید ت پیش کیا جنہوں نے اپنا آپ قربان کردیا مگر تحریک آزادی کشمیر پرآنج نہیں آنے دی

یادرہے کہ معروف کشمیری رہنما شہید محمد مقبول بٹ کو 11 فروری 1984ء میںتہاڑ جیل نئی دہلی میں جھوٹے کیس میں ملوث کر کے پھانسی دے کر شہید کر دیا گیاتھا۔

شہید مقبول بٹ کی مقبولیت اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں لوگوں کے ردعمل سے بچنے کیلئے بھارتی حکام نے ان کے جسد خاکی کو ورثا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا، بھارت نے شہید مقبول بٹ کو تہاڑ جیل کے صحن میں دفن کیا۔

مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کے مسلسل احتجاج اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے اصرار کے باوجود نئی دہلی کے حکمرانوں نے تاحال شہید مقبول بٹ کی باقیات ان کے ورثا کے حوالے نہیں کیں۔