اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سال 2025 کے اختتام کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یہ دعوے تیزی سے وائرل ہو گئے ہیں کہ دنیا 2026 میں ختم ہو جائے گی۔
ٹک ٹاک ویڈیوز، سنسنی خیز پوسٹس اور مختلف سوشل پلیٹ فارمز پر کسی بڑی عالمی تباہی کے خدشات نے عوام کی خاص توجہ حاصل کر لی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق 2026 میں دنیا کے خاتمے سے متعلق یہ تمام دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کی کوئی سائنسی تصدیق موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں دراصل پرانے، غیر مصدقہ نظریات، انتہاپسندانہ پیشگوئیوں اور عالمی سطح پر پائی جانے والی بے چینی کا مجموعہ ہیں۔
ان افواہوں کی ایک وجہ جرمن نژاد سائنسدان ہائنز فان فوسٹر کا 1960 کی دہائی میں پیش کیا گیا ایک ریاضیاتی ماڈل بتایا جاتا ہے، جس میں انسانی آبادی کے حد سے زیادہ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ بعض افراد نے اس نظریے کو غلط طور پر سنگولیرٹی اور دنیا کے خاتمے سے جوڑ دیا۔
اسی طرح ریٹائرڈ امریکی ماہر ماحولیات گائے مکفرسن کی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیشگوئیوں کو بھی 2026 کے خاتمے کے بیانیے سے جوڑا جا رہا ہے، حالانکہ انہوں نے انسانی تہذیب کے ممکنہ بحران کی بات کی تھی، نہ کہ کسی مخصوص سال میں دنیا کے خاتمے کی۔
مزید پڑھیں: دنیا کے امیر ترین خاندانوں کی فہرست جاری، ٹاپ 5 میں 3 عرب خاندان بھی شامل
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کی کمی، بڑھتی آبادی، ٹیکنالوجی سے جڑے خطرات اور عالمی کشیدگی جیسے مسائل واقعی سنگین ہیں، لیکن ان کا 2026 میں دنیا کے خاتمے سے کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
نفسیاتی اور سماجی عوامل بھی ان افواہوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، کیونکہ سوشل میڈیا پر وائرل مواد تیزی سے پھیلتا ہے اور بار بار شیئر ہونے والی پوسٹس عوام میں خوف اور غلط فہمی کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی خبروں پر یقین کرنے کے بجائے مستند سائنسی ذرائع اور حقائق پر اعتماد کریں، کیونکہ بے بنیاد خوف اور افواہوں کا پھیلاؤ خود ایک بڑا سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔











