جنٹلمین کیڈٹ سے جنرل اور ان کے درمیان آنے والے رینک محض عہدوں کے نام نہیں، بلکہ ایک ایسی زندگی کے مختلف پڑاؤ ہیں جس میں کندھوں پر پھول بڑھتے جاتے ہیں، ذمہ داریوں کا بوجھ بھاری ہوتا جاتا ہے، سر کے بال سفید اور کم ہوتے جاتے ہیں، جبکہ بیگم کے شکوے اپنی جگہ مستقل بنیادوں پر قائم رہتے ہیں۔ آئیے، اس سفر کا آغاز کرتے ہیں!
🪄جنٹلمین کیڈٹ
نوعمری میں گھر بار چھوڑ کر، آنکھوں میں افسر بننے کے خواب سجائے، ایک نوجوان پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول پہنچتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ یہاں خوابوں کی تعبیر سے پہلے نیند کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ دو سالہ تربیت کا پہلا مرحلہ، یعنی فرسٹ ٹرم، اس کی زندگی کا وہ باب ہوتا ہے جس میں کارپورل، سارجنٹ اور ڈرل اسٹاف اس کے آرام، سکون اور نیند کے ایسے دشمن بن جاتے ہیں کہ ساغر صدیقی کا یہ مشہور مصرعہ اس کی صحیح ترجمانی کرتا ہے:
جانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
صبح سویرے پی ٹی، دن بھر کی مشقت، ڈرل، پڑھائی اور طرح طرح کی سرگرمیاں۔ ادھر جسم آرام مانگتا ہے، ادھر ڈرل اسٹاف کی گرجدار آواز آتی ہے:
“صاحب! دوڑے چل، قدم مار؟”
پہلی ٹرم کی مشقتوں کے بعد دوسری ٹرم میں کیڈٹ ان مشقتوں کا عادی ہو جاتا ہے۔ بقول شاعر:
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
جبکہ تیسری اور چوتھی ٹرم میں اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ اب وہ واقعی ایک “جنٹلمین” بن چکا ہے۔ کہنے کو یہ تربیتی مدت دو سال پر محیط ہوتی ہے، مگر کیڈٹ سے پوچھیں تو اسے یوں لگتا ہے جیسے دو دہائیاں گزار کر آیا ہو۔ پھر بالآخر وہ تاریخی دن آتا ہے جب کیڈٹ پاس آؤٹ ہو کر سیکنڈ لیفٹیننٹ بن جاتا ہے۔ کندھوں پر نئے پھول سجتے ہیں، سینہ فخر سے چوڑا ہوتا ہے اور دل میں ایک ہی خیال گردش کرتا ہے: “اب تو اصل زندگی شروع ہوگی، اب کون ہمیں صبح سویرے اٹھائے گا۔” کاش کوئی اسے بتا دیتا کہ اصل زندگی تو اب شروع ہونے والی ہے۔
🪄 سیکنڈ لیفٹیننٹ
جنٹلمین کیڈٹ سے سیکنڈ لیفٹیننٹ بننے کا کٹھن سفر طے کرنے کے بعد نوجوان افسر خوشی خوشی اپنی یونٹ پہنچتا ہے۔ دل میں امیدوں کے چراغ روشن ہیں اور ذہن میں سکون کے حسین تصورات۔
اسے لگتا ہے کہ اب اکیڈمی کی سختیاں ختم ہو چکی ہیں، اب وہ ایک افسر ہے، اب زندگی میں آسانیاں آئیں گی۔ لیکن یونٹ پہنچنے کے پہلے ہی دن اسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اکیڈمی سے فراغت تو مل گئی ہے، مگر صبح سویرے اٹھنے سے ابھی رہائی نہیں ملی۔ اب بھی پی ٹی گراؤنڈ میں دوسروں سے پہلے پہنچنا ہے، کھیلوں کے میدان میں اپنی موجودگی ثابت کرنی ہے، یونٹ کے مختلف مقابلوں میں حصہ لینا ہے اور ہر سرگرمی میں اپنی توانائی، پھرتی اور جذبے کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اگر رسالے کا افسر ہے تو دفتری اوقات ٹینک کے اوپر یا نیچے ہی گزارنے ہیں۔ پہلے چھ مہینے یوں لگتا ہے کہ سیکنڈ لیفٹیننٹ کی تعیناتی یونٹ میں نہیں ٹینک میں ہوئی ہے بس تنخواہ یونٹ سے ملتی ہے۔ اس دوران اسے ایک ہی چیز کا شدت سے انتظار رہتا ہے: اپنا جونیئر افسر! آخرکار تقریباً چھ ماہ بعد جب کوئی نیا “مرغا” (سیکنڈ لیفٹیننٹ) یونٹ میں آتا ہے تو لیفٹین صاحب کے چہرے پر افسری کی پہلی مسکراہٹ جنم لیتی ہے۔
🪄لیفٹیننٹ
سیکنڈ لیفٹیننٹ اور لیفٹیننٹ کے درمیان بظاہر فرق صرف ایک پھول کا ہے۔ لیکن کندھے پر ایک پھول کیا بڑھتا ہے لیفٹین صاحب کو لگتا ہے کہ اب ان کی شخصیت میں نکھار آ گیا ہے۔ پی ٹی اور گیراج میں ٹینک پہ تربیت سب کچھ اب بھی ویسے ہی چل رہا ہے لیکن دل کے کسی کونے میں اگلے رینک کی گنتی بھی چل رہی ہوتی ہے۔ فوجی زندگی کا یہ بھی ایک دلچسپ پہلو ہے کہ آدمی موجودہ رینک میں پوری طرح مطمئن ہونے سے پہلے اگلے رینک کے خواب دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔
🪄کپتان: یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا
کپتان کا رینک فوجی زندگی کے نسبتاً خوش گوار اور پُرجوش ادوار میں سے ایک سمجھا جا سکتا ہے۔ جوانی اپنے عروج پر ہوتی ہے، جسم میں توانائی، دل میں امنگ اور مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوتے ہیں۔ کپتان صاحب کو کچھ تجربہ بھی ہو چکا ہوتا ہے اور ذمہ داریاں سنبھالنے کا اعتماد بھی آ جاتا ہے۔ اگر ایسے میں یونٹ کے ایجوٹنٹ کا عہدہ مل جائے تو پھر رعب ہی الگ ہوتا ہے۔ کندھے بھی بھرے بھرے لگتے ہیں اور گفتگو میں بھی ایک خاص قسم کا اعتماد آ جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ افسر صاحب کے کندھوں پر پھول نہیں، اڑنے کے لیے پر نکل آئے ہیں۔ اور جب یہ واقعی ہوا میں اڑ رہے ہوتے ہیں تو گھر والے ان پروں کو کاٹنے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ یوں شادی کے بعد گھر میں ایک نئی کمانڈ قائم ہو جاتی ہے۔ اب افسر صاحب کو احساس ہوتا ہے کہ یونٹ میں حکم دینا اور گھر میں حکم چلانا دو بالکل مختلف فنون ہیں۔ یونٹ میں “یس سر” سننے کی عادت ہوتی ہے، جبکہ گھر میں اس کے برعکس۔
🪄میجر
میجر بنتے ہی انسان کو پہلی مرتبہ سنجیدگی سے احساس ہوتا ہے کہ وقت واقعی گزر رہا ہے۔ کل تک جو نوجوان افسر خود کو جوانی کی علامت سمجھتا تھا، آج اسے بڑے بچے “انکل” کہہ کر مخاطب کرنے لگتے ہیں۔ شروع شروع میں وہ اسے محض اتفاق سمجھتا ہے، پھر جب ہر دوسرا بچہ انکل کہنے لگے تو حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے۔ رشتے دار اور دوست احباب نام کے بجائے میجر صاحب کہہ کر مخاطب کرنے لگتے ہیں۔ کپتانی کے نسبتاً پُرجوش دور کے بعد اب ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع ہونے لگتا ہے۔ کمپنی کمانڈر کی ذمہ داریاں ہوں، اسٹاف کورس کی تیاری ہو یا کورس کے بعد نئی تعیناتی کا مرحلہ، ہر طرف مصروفیات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جبکہ گھر میں بیگم صاحبہ کی شکایت برقرار رہتی ہے:
“آپ اب پہلے جیسے نہیں رہے!”
میجر صاحب سوچتے ہیں کہ آخر پہلے جیسا رہنے کے لیے وقت کہاں سے لاؤں؟ دفتر بھی میرا، کورس بھی میرا، یونٹ بھی میری اور گھر بھی میرا۔۔۔ لیکن بیگم صاحبہ کا مؤقف بھی اپنی جگہ درست۔ یوں میجر کا رینک انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ ذمہ داریاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ وقت کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔
🪄لیفٹیننٹ کرنل
لیفٹیننٹ کرنل کا رینک آتے ہی ذمہ داریوں کی گاڑی ایک نئے گیئر میں چلی جاتی ہے۔ اگر یونٹ کی کمانڈ مل جائے تو پھر سی او صاحب کی زندگی میں صبح، دوپہر، شام اور رات کی روایتی تقسیم کچھ دھندلی ہونے لگتی ہے۔ بس یوں کہیے کہ “یونٹ میرا گھر – گھر میری یونٹ” ۔ اس رینک پر افسر صاحب کو بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی صلاحیتیں دکھانا پڑتی ہیں۔ ایک طرف یونٹ کے معاملات، دوسری طرف بریگیڈ کمانڈر کی توقعات اور تیسری طرف گھر کے وہ تقاضے جو کسی سرکاری مراسلے کے ذریعے نہیں آتے، مگر ان کی اہمیت کسی سرکاری حکم نامے سے کم نہیں ہوتی۔ اس مرحلے پر بچوں کو بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ بابا گھر میں موجود تو ہوتے ہیں، لیکن ان کی توجہ اکثر کسی میٹنگ، فون کال یا اگلے دن کی مصروفیت میں الجھی رہتی ہے۔ بچے کبھی فرمائش کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھیں، کبھی شکایت کرتے ہیں کہ آپ ہمیں وقت نہیں دیتے۔ ادھر افسر صاحب کی نیت ہوتی ہے کہ سب کو وقت دیں، مگر وقت ہے کہ ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتا جاتا ہے۔ اور پھر ایک دن آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر احساس ہوتا ہے کہ نہ صرف بالوں میں چاندی نمایاں ہونے لگی ہے بلکہ بالوں کی نفری بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔۔۔
🪄کرنل
کرنل بننے پر وردی میں ایک پھول اور کالر پہ ریڈ ٹیپ کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس رینک میں افسر اگر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں کرنل اسٹاف تعینات ہو جائے تو گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع اور محدود ہو جاتے ہیں۔ دفتری ذمہ داریوں کی نوعیت بدل جاتی ہے، مگر گھر میں شکایت کی نوعیت وہی رہتی ہے۔ بیگم صاحبہ کے نزدیک مسئلہ آج بھی وہی ہے: “آپ کے پاس سب کے لیے وقت ہے، بس ہمارے لیے نہیں!” اور افسر صاحب کے پاس جواب میں وہی پرانا جملہ ہوتا ہے: “بس یہ مصروفیت ختم ہو جائے، پھر آرام سے بیٹھیں گے!” لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فوجی زندگی میں ایک مصروفیت ختم ہوتی ہے تو دوسری دروازے پر دستک دے رہی ہوتی ہے۔
🪄بریگیڈیئر
بریگیڈیئر بنتے ہی کندھوں پر پھولوں کی ایک اور منزل کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب افسر صاحب کی شخصیت، تجربے اور ذمہ داریوں میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہوتی ہے۔ اس مرحلے تک اکثر افسران کے بچے بڑے ہو چکے ہوتے ہیں۔ کوئی یونی ورسٹی میں پڑھ رہا ہوتا ہے، کوئی عملی زندگی میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے اور کوئی اپنے مستقبل کے فیصلوں میں مصروف ہوتا ہے۔ بیگم صاحبہ بھی زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہوتی ہیں۔ سماجی سرگرمیوں، لیڈیز کلب اور دیگر مصروفیات کے لیے وقت نکالنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ بعض افسران اس عمر میں گالف کے شوق کی طرف بھی مائل ہوتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ اب زندگی کی رفتار کچھ بدل چکی ہوتی ہے اور کھیل کے ساتھ ساتھ دوستوں سے ملاقات کے مواقع بھی میسر آتے ہیں۔ اس عمر میں گھر کی فضا بھی پہلے سے مختلف ہوتی ہے۔ بچے اپنے راستوں پر چل پڑتے ہیں، بیٹیاں اپنے نئے گھروں میں آباد ہو جاتی ہیں اور والدین کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت نسبتاً زیادہ رہ جاتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ برسوں سے جس فرصت کی تلاش تھی، وہ اب کہیں جا کر میسر آ رہی ہے۔
🪄میجر جنرل
میجر جنرل کا رینک ایک اہم پیشہ ورانہ سنگِ میل ہے۔ اس سطح پر پہنچنے والے افسر کے پاس برسوں کا تجربہ ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داریوں کا دائرہ بھی وسیع ہو جاتا ہے۔ اگر میجر جنرل کی تعیناتی جی او سی کے طور پر ہو تو روزمرہ کے معاملات، مختلف یونٹس کی ضروریات، انتظامی امور اور اعلیٰ سطح کی مصروفیات ان کے وقت کا بڑا حصہ لے سکتی ہیں۔ اب گھر کا نقشہ بھی بدل چکا ہوتا ہے۔ بیٹا اگر فوج میں ہو تو اپنی ذمہ داریوں میں مصروف، بیٹی شادی کے بعد اپنے گھر میں آباد اور دیگر بچے بھی اپنی زندگی کے سفر پر رواں دواں ہوتے ہیں۔ بڑا سا گھر ہے، وسیع لان ہے، باغبانی کا شوق پورا کرنے کے مواقع ہیں اور شام کو بیگم صاحبہ کے ساتھ لمبی سیر بھی ہو سکتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جن بچوں کے لیے کبھی دن رات محنت کی، وہ اب اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ مگر اس احساس کے ساتھ ایک ہلکی سی اداسی بھی آتی ہے کہ وہی بچے، جن کی آوازوں سے گھر گونجتا تھا، اب کبھی کبھار ہی سب اکٹھے ہوتے ہیں۔ کبھی لان میں پودوں کو پانی دیتے ہوئے پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں، کبھی بچوں کی تصویریں دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے اور کبھی بیگم صاحبہ کے ساتھ بیٹھ کر پرانے دنوں کا ذکر چھڑ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں جس فرصت کو انسان ہمیشہ کل پر ٹالتا رہا، وہ اب سامنے بیٹھی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ اب اس فرصت کے ساتھ یادوں کا ایک پورا لشکر بھی موجود ہے۔
🪄لیفٹیننٹ جنرل
لیفٹیننٹ جنرل کا رینک دیکھنے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب زندگی کی تمام مشکلات پیچھے رہ گئی ہوں گی اور افسر صاحب کے لیے آسانیوں کے دروازے کھل گئے ہوں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ اس سطح پر ذمہ داریوں کی نوعیت مزید وسیع ہو جاتی ہے۔ اہم فیصلے، اعلیٰ سطح کی مشاورت، مختلف شعبوں کے معاملات اور وسیع تر انتظامی تقاضے وقت اور توجہ کے بڑے حصے کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اب صرف اپنی ذات یا ایک یونٹ کی ذمہ داری نہیں ہوتی، بلکہ فیصلوں کے اثرات بہت سے لوگوں اور اداروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ گھر میں بھی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔ بیگم صاحبہ کے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ اب پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کی فرمائشیں بھی ہیں۔ بچے اپنے بچپن کے قصے سناتے ہیں، پوتے پوتیاں کھیلنے کے لیے بلاتے ہیں اور نواسے نواسیاں چاہتے ہیں کہ نانا جان یا دادا جان ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔ یوں دفتر کی میٹنگوں کے درمیان کبھی کسی بچے کی سالگرہ، کبھی اسکول کی تقریب اور کبھی خاندانی دعوت کا خیال بھی ذہن میں رکھنا پڑتا ہے۔ اب مسئلہ یہ نہیں کہ وقت کیسے گزارنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اتنے سارے پیار کرنے والوں میں وقت تقسیم کیسے کرنا ہے۔
اور یہی زندگی کا ایک خوب صورت سبق ہے کہ انسان جتنا بھی بڑا عہدہ حاصل کر لے، گھر والوں کے لیے اس کی حیثیت آخرکار وہی رہتی ہے جو محبت اور تعلق کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
🪄جنرل/ فیلڈ مارشل
جنرل کا رینک کسی کسی کورس میں کسی ایک افسر کے نصیب میں ہی آتا ہے۔ یہ ایک طویل پیشہ ورانہ سفر کے بعد حاصل ہونے والا عہدہ ہے، جس کے ساتھ غیر معمولی ذمہ داریاں وابستہ ہوتی ہیں۔ یہاں تک تو راقم الحروف مختلف رینکس کے حوالے سے اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں بات کرنے کی جسارت کر چکا ہے، لیکن جنرل صاحب کے بارے میں لکھتے ہوئے قلم ذرا محتاط ہو جاتا ہے۔ اس عہدے پر ذمہ داریوں کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔ اہم قومی اور عسکری معاملات، اعلیٰ سطح کے فیصلے، مشاورت اور عسکری امور اس منصب کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کندھوں پر لگے پھول اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، مگر ان کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کا وزن کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ عام آدمی دور سے وردی، رینک اور پروٹوکول دیکھتا ہے، لیکن ان سب کے پیچھے ہونے والی محنت، مسلسل دباؤ اور فیصلوں کی اہمیت کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ اس لیے جنرل صاحب کے بارے میں بہت زیادہ لکھنے کے بجائے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ عہدہ جتنا بلند ہو، ذمہ داریوں کا احساس بھی اتنا ہی گہرا ہونا چاہیے۔ اور جہاں تک فیلڈ مارشل کا تعلق ہے، وہاں تو راقم الحروف کے قلم اور ہاتھ دونوں کچھ گرم محسوس ہو رہے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ آخر ایسا کیا لکھوں جو مناسب بھی ہو اور مزاح کا حق بھی ادا کر دے۔جنٹلمین کیڈٹ سے فیلڈ مارشل تک کے سفر میں ایک شخص کتنے مراحل طے کرتا ہے، کتنے تجربات سے گزرتا ہے اور کتنی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے، اس کا اندازہ محض رینکس کی فہرست دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ ہر عہدہ اپنی جگہ ایک الگ امتحان ہے اور ہر اگلی منزل کے ساتھ توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔
🪄حرفِ آخر
فوجی زندگی کے تین دہائیوں پر محیط اس سفر میں رینکس، پروٹوکول اور مزاح کے پیچھے بے شمار ان کہی قربانیاں چھپی ہیں۔ اصل محاذ صرف وردی پہننے والے کا نہیں، بلکہ اس خاندان کا بھی ہوتا ہے جو ہر فون کال پر خیریت کی خبر اور ہر واپسی پر اپنے پیارے کا منتظر رہتا ہے۔ خصوصاً فوجی بیگمات کو خراجِ تحسین، جو شوہر کی غیر موجودگی میں گھر، بچوں اور زندگی کے تمام محاذ سنبھالتی ہیں۔ ان کا شکوہ بھی بجا ہے کہ شوہر وقت نہیں دیتے، مگر ریٹائرمنٹ کے بعد جب افسر سارا دن گھر رہنے لگیں تو فرماتی ہیں: “آپ کوئی نوکری وغیرہ کیوں نہیں کر لیتے؟” یوں ساری عمر گھر آنے کی چھٹی مانگنے والے افسر، ریٹائرمنٹ کے بعد نئی تعیناتی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ شاید اسی کا نام فوجی اور ازدواجی زندگی کا مشترکہ محاذ ہے۔
✍️: لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان، ریٹائرڈ
کراچی
15 اکتوبر 2026
📧: abrarkhan30c@gmail.com











