قلم قرطاس اور تلوار
تحریر: شیخ اعجاز افضل
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کا بے نتیجہ ختم ہونا خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر پاکستان جیسے اہم علاقائی ملک میں ان مذاکرات کا انعقاد اس بات کی علامت تھا کہ دونوں فریق کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت کے خواہاں ہیں۔ تاہم، بات چیت کا بغیر کسی پیش رفت کے اختتام پذیر ہونا مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات کیا تھیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد، جوہری پروگرام پر اختلافات، مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی تنازعات، اور اقتصادی پابندیاں وہ عوامل ہیں جو کسی بھی پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ پاکستان نے بطور میزبان ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی، مگر بظاہر دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
آئندہ کے منظرنامے پر نظر ڈالیں تو چند ممکنہ راستے سامنے آتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو، خاص طور پر اگر سفارتی ذرائع مکمل طور پر بند ہو جائیں۔ اس صورت میں خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ پسِ پردہ سفارتکاری جاری رہے، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، اور کسی تیسرے ملک یا بین الاقوامی ادارے کی وساطت سے دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاصی حساس ہے۔ ایک طرف وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور ثقافتی روابط بھی اس کے لیے اہم ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو متوازن اور محتاط پالیسی اپنانا ہوگی تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ تنازع سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔
عالمی سطح پر بھی ان مذاکرات کی ناکامی کے اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی، اور خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو بڑی طاقتوں کی مداخلت بھی خارج از امکان نہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ یہ مذاکرات بے نتیجہ رہے، مگر سفارتکاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو کس حد تک کم کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔ خطے کے امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے، کیونکہ تصادم کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔











