تحریر: وقار نسیم وامق
دنیا کی توانائی کی شہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز اس وقت عالمی سیاست کے بھنور میں ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اب امریکہ کی جانب سے بھی ایرانی پورٹس کی ناکہ بندی کے اقدامات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ یوں یہ تنگ آبی راستہ جس سے دنیا کا تقریباً ایک تہائی تیل گزرتا ہے، ایران اور امریکہ کی جنگی حکمتِ عملیوں کا مرکز بن چکا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کا مطلب صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ عالمی توانائی کے بہاؤ پر براہِ راست ضرب ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی، یہ سب وہ عوامل ہیں جو کسی بھی بڑی طاقت کو فوری ردعمل پر مجبور کرتے ہیں۔
اس پسِ منظر میں امریکہ کا اقدام محض عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ توانائی کے عالمی نظام کو مستحکم اور اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی طاقتوں پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ ایران جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے جغرافیے کا وہ نکتہ ہے جسے وہ سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر leverage کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی دو طرفہ ناکہ بندی کی نوعیت کا اقدام خطے میں طاقت کے توازن کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں کئے گئے کسی بھی اقدام کو بغیر جواب کے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
سعودی عرب، امارات، قطر، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک اس صورتحال کے براہِ راست متاثرین ہیں۔ ان کی معیشتیں توانائی کی برآمدات پر منحصر ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش ان کے لیے معاشی اور سفارتی دونوں سطحوں پر چیلنج بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اس صورتحال میں سفارتی راستوں کو فعال رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی دو طرفہ ناکہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ اب معاملہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہے گا۔ عالمی طاقتیں، توانائی کے بڑے خریدار اور خطے کے اتحادی سب اس کشیدگی کے اثرات محسوس کریں گے۔ اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو عالمی معیشت پر اس کے اثرات ناگزیر ہوں گے۔
بظاہر یہ تناؤ مزید تصادم کا پیش خیمہ محسوس ہوتا ہے مگر اکثر یہی مرحلہ مذاکرات کو ناگزیر بنا دیتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر مزید تصادم سے پہلے اپنے دائرۂ اثر کو مضبوط کرتی ہیں۔ موجودہ صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے جیسے شطرنج کے کھلاڑی آخری چال چلنے سے پہلے اپنے گھوڑے اور فیل بہترین جگہوں پر لے آتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی دو طرفہ ناکہ بندی اسی شطرنجی کیفیت سے گزر رہی ہے جہاں دونوں فریق اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں جبکہ دنیا سانس روکے اگلی چال کا انتظار کر رہی ہے جو اس بساط کو جنگ یا مذاکرات کی جانب لے جائے گی۔











