یہ کالم ایک ایسے شخص کےلیے لکھ رہا ہوں جن کے کالم پڑھ پڑھ کر ہم بھی آج کالم لکھنے جوگے ہو گئے۔۔۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ انسان کی فطرت میں اپنے خالق کو پہچاننے کی خواہش ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔
یہ جستجو ایک مذہبی روایت نہیں بلکہ انسانی شعور کی گہرائیوں سے اٹھنے والی صدا ہے جو ہر دور میں سنائی دیتی رہی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر زمانے میں کچھ ایسے افراد سامنے آتے رہے ہیں جو اس تلاش کو محض نظری گفتگو تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی سوچ اور عمل کے ذریعے اس جستجو کو ایک زندہ تجربہ بنا دیتے ہیں۔
میرے استاد محمود اصغر چوہدری بھی انہی افراد میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اس فکری تلاش کو ایک عملی جدوجہد کی شکل دی۔
محمود اصغر چوہدری ایک ایسے دانشور ہیں جن کی حالت حاضرہ پر بڑی گہری نظر ہوتی ہے۔۔
اور آپ کے کالمز کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔
میرے مشاہدے کے مطابق مصنف کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف قلم کے ذریعے اظہار کرنے والے ادیب نہیں بلکہ ایک سچے معنوں میں خدا کی تلاش کرنے والے انسان ہیں۔ ان کی گفتگو میں دکھاوے یا بناوٹ کا شائبہ نہیں ملتا بلکہ ایک سادگی اور خلوص جھلکتا ہے جو سننے اور پڑھنے والے کے دل کو متاثر کرتا ہے۔
انکی اس پہلے کتاب “یارب” پڑھنے کی سعادت ہوئی۔
اور اسکے فورا بعد “خدا کی تلاش”
پہلی کتاب میں سچے دل سے پکارا “یارب” اور پھر رب نے ہمت دی۔ توفیق دی۔ کہ رب کے تلاش کرنے والے ہر انسان کے سوال
“خدا کی تلاش ”
پر قلم اٹھایا۔۔
اور ایسے جواب لکھے۔
جو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مصنف پر رب تعالی کا خصوصی کرم اور فضل تھا جو اتنی معتبر، مدلل، اور
خوبصورت انداز کیساتھ کتاب مکمل کی گئی۔۔
ان کے اندازِ بیان میں ایسی دردمندی محسوس ہوتی ہے جو محض الفاظ کی ترتیب سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایک اندرونی کیفیت کا اظہار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر پڑھتے ہوئے قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی زندہ تجربے سے گزر رہا ہو۔
اس تصنیف کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں فلسفیانہ بحثوں کا سہارا نہیں لیا گیا بلکہ اسے عملی مشاہدات اور حقیقی تجربات کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے۔
مصنف نے اٹلی میں ایک لمبا سفر بذریعہ ٹرین کیا ۔
اور اس سفر میں مسافروں کیساتھ جو مختلف مذاہب اور نظریات رکھتے تھے انکے ساتھ نہایت بردباری اور حکمت کے ساتھ گفتگو کی۔ ان مکالمات میں کہیں بھی جارحانہ یا حاکمانہ لہجہ نہیں ملتا، بلکہ ایک ہمدرد انسان کا انداز دکھائی دیتا ہے جو مخاطب کو سوچنے اور غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اس اسلوب میں ایک ایسی کشش موجود ہے جو قاری کو بحث کے بجائے تفکر کی طرف مائل کرتی ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ مصنف نے جس طرزِ گفتگو کو اختیار کیا ہے، وہ دراصل انبیائے کرام علیہم السلام کے طریقِ دعوت سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔۔۔
نرم لہجہ، تحمل اور حکمت کے ساتھ بات کرنا وہ اوصاف ہیں جن کے ذریعے دلوں تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔
یہی انداز اس تصنیف میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مکالمات کا مقصد کسی کو زیر کرنا یا اپنی برتری ثابت کرنا نہیں بلکہ ایک مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو کا اثر وقتی نہیں بلکہ دیرپا محسوس ہوتا ہے، اور اس کے نتیجے میں محض ۔
دلائل کی جیت نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی جنم لیتی ہے۔
مصنف کی ایک اور قابلِ ذکر صلاحیت یہ ہے کہ وہ پیچیدہ اور گہرے موضوعات کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ۔
میرے نزدیک یہ کتاب صرف ایک علمی یا فکری تصنیف نہیں بلکہ ایک عملی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ اگر کسی بات کو خلوصِ نیت، مستقل مزاجی اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ پیش کیا جائے تو سچائی کو اپنا راستہ بنانے میں دیر نہیں لگتی۔
مصنف نے اپنے عملی تجربات کے ذریعے یہ دکھایا ہے کہ آج کے پیچیدہ اور تیز رفتار دور میں بھی مثبت اور تعمیری مکالمہ ممکن ہے، بشرطیکہ اس میں اخلاص اور برداشت شامل ہو۔
یہ بھی ایک خوش آئند امر ہے کہ اس تصنیف کو مختلف زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اطالوی، سویڈش، ہسپانوی اور انگریزی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کا پیغام ایک محدود حلقے تک نہیں
بلکہ عالمی سطح پر پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یورپی معاشروں میں جہاں ایک طرف فکری انتشار اور ذہنی بے چینی کا رجحان نظر آتا ہے، وہیں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو حقیقت کی تلاش میں سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ تصنیف وہاں کے قارئین کے لیے ایک رہنمائی کا ذریعہ بنے گی اور انہیں سوچ کے ایک واضح راستے کی طرف لے جائے گی۔
اختتاماً یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مصنف نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کو جس مؤثر اور دلنشین انداز میں قلم بند کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کی تحریر میں وہ تاثیر موجود ہے جو دلوں کو متاثر کرنے اور ذہنوں کو بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسے افراد معاشرے کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ علم کو محض نظری سطح پر نہیں رکھتے بلکہ اسے عملی زندگی کا حصہ بنا کر دوسروں کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔
آخر میں ایک شاگرد کی دعا ہے
اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت اور کوشش کو قبول فرمائے اور اسے انسانوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ اگر اسی جذبے اور اخلاص کے ساتھ یہ سلسلہ جاری رہا تو یقیناً یہ کاوش نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فکری روشنی کا باعث بن سکتی ۔
والسلام
ندیم طاہر











