تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
ایک اندھی ،بھوکی ،اداس اور غمزدہ قوم ۔
آج میں سکون سے بیٹھا تھا۔ غیر متوقع طور پر ذہن میں اچھی خیالات آ جا رہے تھے لیکن جیسے اس میڈیا نے، نشریاتی اداروں نے، اینکر پرسنز اور اس قوم نے قسم کھا رکھی ہے کہ مجھے ایک پل بھی چین اور سکون کا نہیں لینے دیں گے ۔
میری زندگی میں اطمینان نہیں آنے دیں گے۔
اور اب پھر میرے اندر بے چینی، اضطراب ،بلند فشار خون ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے
اور اس کی وجہ یہی چینلز، ان کی نشریاتی ترجیحات ہیں اور ایک ان کا والہانہ بیانیہ جو اس قوم کو ایک آسیب کی طرح چمٹ گیا ہے۔
یہ کیسی اندھی قوم ہے ۔کیا اس کو نظر نہیں آتا کہ اس وقت چھوٹے پیمانے پر تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے۔
تمام مسلمان ممالک عیسائیوں اور یہودیوں کے ایک جنگی نشانے پر ہیں اور اب پیچھے بچا ہی کون سا ملک ہے؟
صرف پاکستان۔
اب جبکہ تمام مسلمان ممالک کمزور ہو چکے ہیں اور ہم نے انہیں بچانے کی کبھی کوشش نہیں کی تو ہمیں بھی امید نہیں رکھنی چاہیے کہ کل کوئی ہمارے لیے آواز اٹھائے گا جب ہماری سرزمین پر میزائلوں اور بموں کی بارش ہو رہی ہوگی۔
یہ کیسی اندھی قوم ہے کہ جس کو پاکستان میں بھوک، نا انصافی، میرٹ کی خلاف ورزیاں، اقرباء پروری، ظلم و ستم نظر نہیں آتا اور یہ قوم بڑے جوش و خروش سے عید کی خوشیاں منا رہی ہے۔
جونسا چینل دیکھ لو وہاں رنگ برنگے کپڑے پہنے ،میک اپ سے لدے پھندے لوگ، پاکستان بھر میں مختلف مقامات پر عید کی خوشیاں منانے ہوئے، کھانے کھاتے ہوئے دکھائے جا رہے ہیں۔
یہ کیسی بھوکی قوم ہے جو 365 میں سے 362 دن بھوکی رہتی ہے اور صرف عید کے تین دن گھر سے باہر نکلتی ہے کھانے کھانے کے لیے۔
پھر اینکرز ان کے پاس مائک لے کر پہنچ جاتی ہیں اور پہنچ جاتے ہیں
اور پبلک بڑے فخریہ انداز سے کہتی ہے کہ ہم نہاری کھانے آئے ہیں۔
حلوہ پوری کھانے آئے ہیں۔ شام کو عید ملن پارٹی ہے ۔
یہ کیسے حکمران ہیں جو بیرون ممالک میں حکمرانوں اور ان کی عوام کو عید کی مبارکبادیں دے رہے ہیں اور خاص طور پر ان ممالک کو جو اس وقت جنگ کی تباہ کاریوں کو برداشت نہیں کر پا رہے۔
یہ حکمران پاکستانی قوم سے ان برے اور نامساعد حالات میں عید کی خوشیاں مناتے ہوئے مبارکبادوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
کھانے اڑائے جا رہے ہیں ، یہ کیسی بھوکی قوم ہے؟
یہ کیسی اندھی قوم ہے اور یہ کیسی بے حس نسلیں ہیں کہ جو رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے ہیں،
خوشبوئیں لگائے ہوئے اورمیک اپ کئے ہوئے عید ملن شوز میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں؟ ان میں بڑے بڑے سلیبرٹیز ہیں، اینکرز ہیں، کھلاڑی ہیں۔
دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس وقت کیا یہ ان کو دکھی کرنے کے لیے کافی نہیں ہے؟
کیا جب یہ خود آتش نمرود میں پھینکے جائیں گے تب ان کو سمجھ آئے گی؟
میرا تو ماننا یہ ہے کہ ایسے حالات میں عید نہ منائی جاتی بلکہ سوگ منایا جانا چاہیے تھا ایران امریکہ جاری جنگ کے حوالے سے،
پاکستان اور افغانستان کی جنگ چھڑ چکی ہے۔
بے شمار مسلمان ممالک صفحہ ہستی سے مٹنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
اور ہمارے میڈیا میں اور اشرافیہ کی محفلوں میں رنگ و نور کی بارشیں ہو رہی ہیں۔
یہ عید بالکل سادگی سے بنائی جانی چاہیے تھی۔
لوگ نئے ملبوسات نہ بنواتے اور روزوں میں ٹیلرز کے پاس لوگوں کا رش نہیں ہونا چاہیے تھا۔
یہ لوگ ہوٹلوں میں کھانے کھانے نہ جاتے جیسا کہ ہوٹل اس وقت دھڑا دھڑ کمائی کر رہے ہیں۔
یہ عوام غریبوں کو اپنے ساتھ شریک کر لیتی ،جو کپڑے خود بنا رہے ہیں، جو دعوتیں خود اڑا رہے ہیں وہ ان غریبوں تک پہنچا دیتے تو اللہ اور رسول کی خوشنودی حاصل ہوتی اور دکھی انسانیت کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی ہو جاتا۔
یہ عوام ہاسپٹلز میں مریضوں کی تیمارداریاں کرتی جا کے۔
اور عید والے دن یتیم خانوں میں یتیم بچوں کے سروں پر ہاتھ رکھتی تو کیا ہی اچھی بات تھی۔
اگر ہم فیس بک پہ دیکھیں ،واٹس ایپ پہ نظر ڈالیں تو اس سے غمگین قوم کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
ایسی دل دہلا دینے والی پوسٹیں لگائیں گے مہنگائی کے خلاف، عدالتی نا انصافی، اشرافیہ ،ڈاکٹر! مولویوں اور اسٹیبلشمنٹ پر تبرا بھیجیں گے
تو ایسے محسوس ہوگا جیسے اس قوم پر ہر روز غموں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں۔
لیکن اس کے برعکس
جب ہم ان کو عید کی تقریبات میں اس انداز سے دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ
یہ قوم بہت ہی دوغلی اور منافق ہے۔
ہائے افسوس، یہ کیسی اندھی،بھوکی، بےحس اور غمزدہ قوم ہے جس میں
بد قسمتی سے
میں پیدا ہوا ہوں۔











