تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
روزہ جسمانی اور روحانی علاج/ایک سوالیہ نشان؟
جدید طبی سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ روزہ نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی بیماریوں کا بھی علاج ہے۔ اس سے پہلے ماضی قریب میں میرے والدین کے دور کے ماہرین طب بھی یہ ثابت کر چکے تھے کہ روزے کی حالت میں بھوکا رہنا ،انسان کے لیے روحانی اور جسمانی طور پر بہت مفید ہے۔
اب جو لوگ روزہ نہیں رکھتے ان سے تو میں بحث نہیں کر سکتا لیکن جو روزے دار ہیں وہ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ روزہ، روزے دار کی تمام جسمانی اور روحانی بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے، نہ صرف آپ کی اندرونی اور بیرونی بیماریاں زائل ہو جاتی ہیں بلکہ روز مرہ کے اوقات کار بھی ایک نظم و ضبط میں آ جاتے ہیں۔ چونکہ آپ سحر و افطار اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں لہذا دنیاوی کاموں میں بھی آپ تمام ذمہ داریوں کو بہ احسن و خوبی نبھاتے ہیں۔ اب جس کو میری اس بات سے اتفاق نہ ہو اس کے لیے یہ مثالیں پیش خدمت ہیں۔
میرے ایک دوست نے پچھلے سال ہم دوستوں کی افطاری کا اہتمام کیا۔
افطار سے پہلے سب کی آپس میں گپ شپ لگتی رہی۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی زندگی کے واقعات شیئر کرتے رہے ۔جیسے ہی اذان ہوئی تو اس سے پہلے کہ ہم لوگ افطار کرتے ، مولوی صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور پھر انہوں نے ہم جملہ مسلمانان محفل کے اہل و عیال،
ہمارے وفات پا گئے خاندان کے لوگوں
اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے دل کھول کر خدا سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔
ہم لوگ سب بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے لیکن مولوی صاحب خدا سے اور مانگنے پر بضد تھے۔
میں نے محسوس کیا کہ میرے ساتھ بیٹھے میرے دوست آغا صاحب جو شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں اور میرے ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی روزہ نہیں چھوڑتے، وہ بھوک سے نڈھال جھول رہے تھے۔
اب چونکہ زمین پر اہتمام کیا گیا تھا اور سب چوکڑی مار کر بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے آغا صاحب کو جھولتے ہوئے دو بار دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا ۔
میں نے آغا صاحب کے کان میں کہا کہ مولوی صاحب کی یہ دعائیں تو ابھی ختم نہیں ہونے والیں ۔ آپ افطاری کر لیں۔
لیکن آغا صاحب ہچکچا رہے تھے، جب میں نے محسوس کیا کہ اب وہ بے ہوشی کی حالت میں پہنچنے والا ہے تو میں نے کھجور اٹھا کے ان کے منہ میں ڈال دی اور اونچی آواز میں کہا کہ مولوی صاحب نے ابھی خدا سے اور باتیں کرنی ہیں آپ تو اپنی جان بچائیں۔
جس کا آغا صاحب آج تک بڑا خوش ہو کر محفلوں میں تذکرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس روز شہریار میرے ساتھ نہ بیٹھا ہوتا تو شاید میں بے ہوش ہو چکا ہوتا ۔
اب روزے کے اور فیوض و برکات بھی میں آپ کو سناؤں کہ
کچھ دن پہلے میں ڈیوٹی پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ کنٹرول روم میں ہمارے سینیئر آفیسر ٹیبل پہ اپنے ہاتھوں کا دائرہ بنا کر اس پہ سر ٹکائے بیٹھے ہیں۔
میں نے گھبرا کے پوچھا سر آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ تو ان سے سر نہ اٹھایا گیا، سر کو ہلکی جنبش دی، میری طرح دیکھا اور کہنے لگے روزہ بہت لگ رہا ہے اور سر میں شدید درد ہے۔
میں نے پوچھا آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں؟ لیکن وہ ڈاکٹر کے پاس جانے کو راضی ہوئے اور نہ ہی روزہ توڑنے کی طرف راغب، کیونکہ اسلام میں ہے کہ جو جتنا روزے کی تکلیف برداشت کرے گا وہ اتنی ہی نیکیاں سمیٹے گا ۔
میری اپنی حالت یہ ہے کہ میرے سحر و افطار کے اوقات کے باعث تیسرے روزے سے میرا نظام انہظام ڈسٹرب ہو جاتا ہے ،
چوتھے روزے سے میرے پیٹ میں گیس بننا شروع ہو جاتی ہے اور دماغ میں چڑچڑا پن ۔
کچھ دن پہلے میری بیگم کمرے میں آئی تو کہنے لگی کہ کیا ہوا؟
کیوں جیخ رہے ہو بچے پہ؟
تو میں نے کہا یہ تنگ کر رہا ہے، ایک تو میں ڈھائی گھنٹے سے بیٹھا ہوں باتھ روم نہیں گیا
رفع حاجت پوری نہیں ہوتی
معدے میں گیس بنتی ہے روزوں کی وجہ سے
اور وہ گیس سر کو چڑھتی ہے
اور پھر الٹے سیدھے خیالات آتے ہیں
لوگوں کو کاٹنے کو دوڑتا ہوں
چھوٹی چھوٹی بات پہ غصہ آتا ہے
اب چونکہ ڈاکٹروں نے ہمیں بتا رکھا ہے کہ روزہ تمام جسمانی اور روحانی بیماریوں کا علاج ہے اس لیے ہم نے توجہ صرف اسی بات پر دینی ہے
اور اب یہ جو زندگی کا نظم و ضبط اور اوقات کی پابندی ہے یہ کس قدر ہماری زندگی میں بہتری لاتی ہے اس کے لیے میں آپ کو ایک دو مثالیں دے دوں۔
یہ سکول پڑھانے والی جو خواتین ہیں وہ جب سحری بنا کے نماز قران پڑھ کے آٹھ بجے سکول کے لیے تیار ہوتی ہیں تو ٹھیک طرح سے سو نہیں پاتیں
اور نیند کی کمی کا چڑچڑا پن ،سارا دن ان پر سوار رہتا ہے۔
لوگ صبح ٹائم پر آفس نہیں پہنچ پاتے۔
ہماری ایک میٹنگ ہوتی ہے گیارہ بجے،اس میں شریک ہونا بھی مشکل لگتا ہے۔
کیونکہ کبھی کوئی رات کو لیٹ سویا
کبھی کسی کے بچے تنگ کرتے رہے
اور کسی کو سحری کے بعد نیند نہ آئی۔
اس کے علاوہ کاریگر لوگ پانچ بجے گھروں کو چلے جاتے ہیں، آپ کو کوئی گاڑی کا، کوئی ترکھان کا، کوئی مستری کا کام کروانا ہو تو اس پورے مہینے میں آپ ان سے نہیں کروا پاتے کیونکہ کوئی دستیاب نہیں ہوتا
لیکن ہمارا ماننا ہے کہ روزہ مسلمانوں میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کا احترام پیدا کرتا ہے۔
مسلمانوں کو روزے کا ایسا مذہبی چسکا ڈالا گیا ہے کہ یہاں شدید بیمار اور ضعیف مرد و خواتین جن کو اسلام روزہ چھوڑنے کی اجازت دیتا ہے اور ڈاکٹر بھی، اس کے باوجود وہ اپنی جان کی بازی لگا کر نیکیاں اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے میں پڑے رہتے ہیں۔
اب مجھے دیکھ لیں 40 سال تک میں نے لگاتار پورے روزے رکھے۔
مجھے نہیں یاد کہ کبھی کوئی روزہ چھوڑا ہو میں نے لیکن مجھے کیا ملا؟
آپ بتائیں نا مجھے کیا ملا؟
چلیں آپ اپنے بارے میں بتائیں کہ نمازوں کی پابندی، ہر وقت سجدے میں پڑے رہنا، مسجدوں میں بھاگ بھاگ کر جانا اور روزوں کے لیے پورا سال انتظار کر کے ایک مہینہ اللہ کے لیے بھوکے رہنا، تو کوئی ریٹرن بھی تو بتائیں نا مجھے؟
پھر بھی میں یہ نہیں کہتا کہ روزہ نہ رکھیں
روزے ضرور رکھیں
کیونکہ روزہ تمام جسمانی اور روحانی بیماریوں کا علاج ہے
اور انسان کو ایک نظم و ضبط کا پابند بناتا ہے جس کی میں اوپر چند مثالیں پیش کر چکا ہوں۔
پھر بھی اگر روزہ رکھ کے آپ سارا دن اکتاہٹ کا شکار رہتے ہیں،
اگر روزے دار کا بلڈ پریشر یا شوگر شوٹ کر جاتا ہے، اگر کسی روزہ دار کو قبض کی شکایت ہو جاتی ہے،
یا پھر کوئی بے خوابی کا شکار ہو جائے،
یا کسی اور تکلیف میں آ جائے تو اس کا الزام ہمیں ان علماء دین پر نہیں دینا جو کہتے ہیں یہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ روزہ جسمانی و روحانی بیماریوں کا علاج ہے
بلکہ اس کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے
اور اگر اللہ کے حکم کے مطابق روزے رکھنے والے پہلے سے ہی بیمار ہیں
کبھی کسی کو گردے کی،
اپینڈکس کی، پھیپھڑے کی، جگر کی، تھائیرائڈز کی، دل کی! اسی طرح کی کوئی بیماری ہے اور روزے رکھ کے اس کی قوت مدافعت بہتر نہیں ہوتی تو اس کے بھی ذمہ دار آپ خود ہیں، روزے جیسی مقدس عبادت نہیں۔
اور آخر میں جہاں تک میری رائے ہے وہ میں عرض کیے دیتا ہوں
طبی سائنس کے ماہرین نے روزہ نہیں بلکہ بھوکا رہنے پر تحقیقات کی ہیں
جب انسان کی باڈی لگ بھگ 10 سے 12 گھنٹے تک کچھ نہ کنزیوم کرے تو اس کے معدے میں کچھ ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو مختلف بیماریوں کے جراثیم کو کھا سکتے ہیں
اور اس کی جسمانی قوت مدافعت بڑھ سکتی ہے
لیکن ہم چونکہ الحمدللہ مسلمان ہیں اس لیے ہم نے ہر سائنسی تحقیق کو اسلام کے سانچے میں ڈھال کر اسے مسلمان کرنا ہوتا ہے حالانکہ سائنس کا بنیادی اصول ہی یہی ہے کہ سائنس کسی مذہب کو نہیں مانتی، کسی طریقے کو، کسی روایت کو! کسی مذہبی اور روحانی کرشموں کو ۔
سائنس صرف ایک خاص جگہ،خاص وقت! خاص ماحول میں، کچھ تجربے کرتی ہے اور حتمی نتائج اخذ کرتی ہے
لیکن پھر بھی ہمیں ہر حال میں اپنے عقائد اور رسومات کا تحفظ کرنا ہے اور ہر طبی اور سائنسی تحقیق کو اسلام کے دائرے میں زبردستی کھینچ کے لانا ہمارا فرض ہے۔
آخر میں چھوٹی سی بات عرض کروں۔
جب آرم سٹرانگ چاند پر اترا تو آدھے مسلمان مولویوں نے اس بات پر یقین نہیں کیا اور اسے جھٹلایا کہ کوئی شخص چاند پر نہیں اترا، یہ صریح جھوٹ ہے، گوروں کا گھڑا ہوا سفید جھوٹ
جبکہ دنیا کی آدھی مسلمان آبادی یہ اعلان کر رہی تھی کہ جیسے ہی نیل آرم سٹرانگ چاند پر اترا تو اسے اذان کی آواز آئی
اور وہاں سے اس نے خانہ کعبہ کو دیکھا جو چاند سے صرف ایک نقطے کی مانند نظر آ رہا تھا
دنیا کی ہر چیز اوجھل تھی صرف خانہ کعبہ نیل آرم سٹرانگ کو دکھائی دیا۔ اب کیا کہیں گے آپ؟ ویسے اس مثال کا روزے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اب میری باتوں سے آپ نے پریشان نہیں ہونا
باقی میں سنبھال لوں گا











