📋 کالم —— بُریدۂ سَر
✍🏻 ملک کاشفؔ اعوان ™
📮 کھوکھرزیر — چکوال
آج جو زمانہ ہماری آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے یہ محض خبری بلیٹن نہیں، یہ تاریخ کا وہ زخم ہے جس سے ابھی تک خون رَس رہا ہے۔
سچ کہوں تو میں نے کبھی اعتقاد و ایمانیات کو باقاعدہ نصاب کی طرح نہیں پڑھا۔ جب کبھی ایسی کوئی اعتقاد کے اندھے یقین سے لبریز کتاب کھولی، وہاں موجود تمام واقعات ہی آپس میں اُلجھ جاتے تھے —— سقیفہ، مدینہ، کوفہ، شام، کربلا، صفین، تہران، بغداد، بوسنیا، غزہ —— سب ایک ہی طرح کی گہری نادیدہ دُھند میں گم ہو جاتے۔ میں ہمیشہ ہی گھبرا کر صفحہ بند کر دیتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ شاید یہ سب میرے بس کی بات نہیں۔ میں اعداد و شمار کا آدمی ہوں… بیلنس شیٹ و پرافٹ اینڈ لاس کا، کاسٹنگ و بجٹنگ کا اور ٹیکس و آڈٹ کا۔ عقیدے کے اندھے اعتقاد و یقین کی یہ باریکیاں میرے ذہن میں اکثر ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں، آپس میں گُتھم گُتھا ہو کر گُڈ مُڈ سی ہو جاتی ہیں اور پھر اکثر ذہن سے محو ہو جاتی ہیں۔
مگر کبھی کبھی تاریخ ایک رات میں وہ سارے سبق پڑھا دیتی ہے جو برسوں تلک دَرسگاہیں نہیں پڑھا سکتیں۔
میں نے ساری عمر کوہستانِ نمک کی چٹانوں پر کھڑے ہو کر ہوا کا رُخ پڑھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جب پہاڑوں کے پیچھے آگ جلتی ہے تو دھواں دیر سے دکھائی دیتا ہے مگر جلنے کی بُو فوراً آ جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی اس فضا میں بھی کچھ عرصے سے وہی بُو پھیلی ہوئی تھی —— بارُود، سازش اور خون کی بُو۔
وہ شخص سیّد علی خامنہ ای —— جسے آج دنیا مختلف ناموں سے پُکار رہی ہے —— یقیناً کامل نہ تھا۔ سیاست میں کوئی بھی ولی نہیں ہوا کرتا۔ مگر وہ ایک ایسے وقت میں کھڑا ہوا جب دیواریں گر رہی تھیں، جب سوویت یونین بکھر رہا تھا، جب عرب قیادت اپنے معاہدوں کے کاغذ سنبھال رہی تھی، اور جب مزاحمت ایک پرانا اور متروک لفظ لگنے لگا تھا۔ ایسے گھٹن زدہ مصلوب ماحول میں اُس شخص نے ایک اور راستہ چُنا… محاصرہ سہنے کا راستہ، تنہائی قبول کرنے کا راستہ اور جُھکنے سے انکار کرنے کا راستہ۔
ایک چھیاسی سالہ بوڑھا —— جسمانی اعتبار سے کمزور مگر اپنے ارادوں میں فولاد —— یوں رُخصت ہوا کہ میرے اندر کے کئی پردے ایک ساتھ اُٹھ گئے۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ ‘کافر’ اور ‘مسلمان’ محض شناختی کارڈ کے خانے نہیں بلکہ موقف اور مزاحمت کے نام بھی ہو سکتے ہیں۔ ‘زندگی’ محض سانس کا تسلسل نہیں اور ‘موت’ صرف حیاتیاتی توقف نہیں۔ ‘شہادت’ اور ‘مرنے’ میں وہی فرق ہے جو شکست اور انتخاب میں ہوتا ہے —— ایک آپ پر مسلط کی جاتی ہے، دوسری آپ خُود چُنتے ہیں۔
میں نے خود سے ایک بار پھر سے پُوچھا: کربلا کیا تھی؟ کیا وہ صرف ایک ریگستانی واقعہ تھا یا واقعتاً طاقت اور حق کے درمیان کھنچی ہوئی وہ لکیر جو ہر دور میں دوبارہ نمودار ہوتی ہے؟ حسین علیہ السلام کون تھے؟ یزید کون تھا؟ بیعت کس چیز کا نام ہے؟ بغاوت کب عبادت بن جاتی ہے؟ فُرات پر پہرے کیوں تھے؟ پیاس کو ہتھیار کیوں بنایا گیا؟ خیمہ کیا ہوتا ہے اور کیا خیمہ محض پڑاؤ کا مقام ہے یا مزاحمت کی علامت ہے —— اور خیمہ بدلنے والے کون ہوتے ہیں؟ شمر صرف ایک کردار تھا یا ایک روّیہ؟ حبیب ابنِ مظاہر صرف ایک نام تھے یا وفاداری کی آخری حد؟ عباس اور علم کیا محض علامتیں ہیں یا کسی تہذیب کے ستون؟
بہت سے لوگوں کے لیے صرف ایک خبر کہ ایک شخص مارا گیا۔ خبر آئی، پھر اس کی تردید آئی اور پھر ایک نئی خبر آئی۔ مگر میں خبر سے زیادہ اس بیانیے کو بھی دیکھتا ہوں جو ہر بار ہمیں نئے سرے سے تھما دیا جاتا ہے۔ میں نے اپنے دفتر کی میز پر، فائلوں اور بیلنس شیٹس کے بیچ، ہمیشہ یہی دیکھا ہے کہ اعداد کبھی جھوٹ نہیں بولتے مگر انہیں لکھنے والے، اخذ کرنے والا، بولنے والا جھوٹ بول سکتا ہے۔ عالمی سیاست بھی ایک آڈٹ ہی ہے —— اور اس آڈٹ میں ہمیشہ طاقتور کا قلم سرخ نہیں ہوتا۔
مجھے ایرانی انقلاب سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ میں اُس کے فکری خدوخال سے متفق بھی نہیں ہوں۔ مگر جب ایک خطہ مسلسل محاصرے، پابندیوں، بمباری اور کردار کشی کی زَد میں ہو تو میرا ضمیر پہلا سوال یہ کرتا ہے —— یہ جرم کس کا ہے اور بیانیہ کس کا؟
یہ کیسی دنیا ہے جہاں غزہ کے ملبے تلے دَبے بچوں کی چیخیں نشر نہیں ہوتیں مگر اس قتل غارت کے خلاف مزاحمت کرنے والے کی ہر سانس کو دہشت گردی کا نام دے دیا جاتا ہے؟ جہاں کیمیائی ہتھیاروں کے افسانے گھڑے جاتے ہیں مگر براہِ راست نشر ہونے والی تباہی کو ‘پیچیدہ تنازع’ کہہ کر دُھندلا دیا جاتا ہے؟ میں نے تاریخ پڑھی ہے —— نوآبادیات کی، استحصال کی، وسائل کی لُوٹ مار کی —— اور میں جانتا ہوں کہ سامراج ہمیشہ اپنے دشمن کو پہلے لفظوں سے مارتا ہے اور پھر آخر میں ڈرون سے تَہہِ تیغ کرتا ہے۔
میں یہ سب برسوں میں نہ سمجھ سکا۔ مگر پھر ایک ہی رات میں، جب خبروں کی اسکرینوں پر آگ، دھواں، میزائل اور ماتم تھا —— مجھے لگا جیسے تاریخ نے چراغ بجھنے نہیں دیا۔ سیاہ کپڑوں میں ملبوس صدیوں کے ماتمی لوگ اچانک محض رسوماتی ہجوم نہیں لگے؛ وہ تسلسل لگے، وہ روایت لگے، وہ یادداشت لگے۔ اور پھر میری آنکھوں کے سامنے سیاست کی کتاب بھی کھل گئی ——!!
یہ حکومتیں کہاں بنتی ہیں؟ کہاں اُلٹتی ہیں؟ اقتدار کون دلاتا ہے؟ غدار کیسے پہچانے جاتے ہیں؟ زندان کیوں سجتے ہیں؟ عدالتیں کب انصاف دیتی ہیں اور کب فیصلے لکھتی ہیں؟ ایجنٹ کون ہوتے ہیں؟ اور ان کے اصل یار کہاں بیٹھے ہوتے ہیں؟
میں نے جنوبی افریقہ کی جدوجہد کے اوراق بھی پڑھے ہیں۔ میں نے لاطینی امریکہ کی بغاوتوں کی تاریخ بھی دیکھی ہے۔ طاقت کے مقابل کھڑے ہونے والے ہمیشہ بے داغ نہیں ہوتے مگر ان کی شکست ہمیشہ خطوں کو صدیوں کی غلامی میں دھکیل دیتی ہے۔ یہ میں کسی رومانوی جذبات میں نہیں کہہ رہا؛ یہ تاریخ کا حساب ہے اور میں حساب کا آدمی ہوں۔
‘محورِ مزاحمت’ —— یہ لفظ کچھ بہت سے لوگوں کو اور چند بڑوں کو اشتعال دلاتا ہے۔ مگر میں اسے ایک اور زاویے سے دیکھتا ہوں: جب آپ کے گرد اڈے ہوں، بحری بیڑے ہوں، پابندیاں ہوں، تو آپ کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں —— یا تو خاموشی سے طوقِ غلامی قبول کرنا یا پھر جرات کے ساتھ اپنا دفاع کرنا۔ اپنا دفاع صرف تقریروں سے نہیں ہوتا۔ یہ دفاع معاشی خود کفالت سے ہوتا ہے، یہ دفاع عسکری تیاری سے ہوتا ہے، یہ دفاع اس یقین سے ہوتا ہے کہ آپ ذلت کو اپنا مستقل نصیب نہیں مانتے۔
آج جو کچھ ہو رہا ہے اسے اگر محض ایک واقعہ سمجھ لیا جائے تو ہم تاریخ سے ناواقف ہیں۔ عراق، لیبیا، شام، غزہ، یمن —— یہ سب الگ الگ ابواب نہیں، ایک ہی داستان کے مختلف صفحات ہیں۔ ایک ایسی داستان جس میں عالمی جنوب کو بار بار یہ سکھایا جاتا ہے کہ تمہاری خودمختاری عارضی ہے، تمہاری سرحدیں قابلِ ترمیم ہیں، تمہاری حکومتیں قابلِ تنسیخ ہیں۔
اور پھر کچھ لوگ بُوالعجبی سے کہتے ہیں —— ‘تو اس سب سے عوام کا کیا لینا دینا؟’ میں پوچھتا ہوں جب ریاستی خودمختاری ہی رَوند دی جائے تو عوام کس دائرے میں سیاست کریں گے؟ سوشل میڈیا کی پوسٹیں میزائل نہیں روکتیں۔ تحقیقی مقالے پابندیاں نہیں ہٹاتے۔ احتجاجات بحری بیڑوں کو واپس نہیں بھیجتے۔ تاریخ کی چار صدیاں یہی بتاتی ہیں کہ بقا کے لیے ایک ڈھانچہ چاہیے ہوتا ہے —— معیشت کا، دفاع کا، اتحاد کا ایک مکمل ڈھانچہ۔
میں نے محسوس کیا ہے کہ جو کچھ ایک خطے کے ساتھ ہو رہا ہے وہ محض ایک شخص یا ایک ملک کا قصہ نہیں۔ یہ وہی پرانا نوآبادیاتی کھیل ہے جس میں پہلے بیانیہ بدلا جاتا ہے پھر حکومت، پھر سرحد، اور پھر تاریخ بدل دی جاتی ہے۔ جو مزاحمت کرتا ہے اُسے ‘مسئلہ’ کہا جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں ایک صدی قبل ‘ڈاکو’ کہا جاتا تھا۔ جو سر جھکا دے اُسے ‘ذمہ دار قیادت’ کہا جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں ایک صدی قبل شاہی ریاستیں پائی جاتی تھیں۔
میں کسی مسلکی مناظرے میں نہیں پڑتا۔ میرا مسلک میرا ہے، میرا ایمان میرا اپنا مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اگر حق اور باطل کی صفیں پھر سے کھنچ جائیں تو کم از کم آخری رات ہی سہی —— ہمارے اندر لشکر بدلنے کی ہمت ہونی چاہیے۔ حُر بن یزید ریاحی کی طرح دیر سے ہی سہی مگر درست سمت میں کھڑے ہونے کی کوشش ضرور کرنی چاہئیے۔
یہ چھیاسی سالہ بوڑھا سیّد اور کتنے دِن جیتا؟ کیا ایسی شخصیت کو معمول کی موت زیب دیتی؟ حسین علیہ السلام ستاون برس کی عمر میں تین دن کی پیاس کے ساتھ شہید ہوئے۔ عمر نہیں موقف فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اگر کوئی نصف صدی پابندیوں، محاصروں اور دھمکیوں کے سائے میں کھڑا رہے اور پھر بھی جھکنے سے انکار کرے تو اس کی موت بھی ایک بیانیہ بن جاتی ہے۔
میں جنگ کا پرچار نہیں کرتا؛ کبھی نہیں کرتا مگر میں ذلت کی ہمیشہ نفی کرتا ہوں۔ آج اس احساس میں ایک اور پَرت جُڑ گئی ہے: میں اندھی تقلید نہیں کرتا مگر اندھی تَردید بھی نہیں کرتا۔ میں جانتا ہوں کہ سیاست میں کوئی بھی معصوم نہیں ہوتا مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو اپنے عہد کے خلاف کھڑے ہو کر عہد کو بدل دیتے ہیں۔
اگر میں اپنا مسلک نہ بھی بدلوں، اگر میں فقہی کتابوں میں وہی رہوں جو میں بچپن سے تھا تو بھی آج میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں مولائی ہوں اس معنی میں کہ میں سر جھکانے کے بجائے سر اٹھا کر کھڑا ہونے کو ترجیح دیتا ہوں۔ میں حسینی ہوں اس معنی میں کہ بیعت اور بغاوت کے فرق کو سمجھنے لگا ہوں۔ میں کربلائی ہوں اس معنی میں کہ پیاس کو صرف جسمانی نہیں، تہذیبی استعارہ سمجھنے لگا ہوں۔
ایرانی عوام آج سوگ میں ہوں یا غصے میں؛ یہ اُن کا حق ہے۔ کسی بھی قوم کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کو مقدّس سمجھے۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ جنگ اور ذلّت میں سے ایک چننا ہو تو ذلت نہیں چنیں گے تو یہ ایک تاریخی نفسیات ہے، محض نعرہ نہیں۔ میرے نزدیک مزاحمت کو سمجھنے کے لیے پہلے نوآبادیات کو سمجھنا پڑتا ہے۔ اور جو لوگ ہر مزاحمت کرنے والے میں صرف خامیاں تلاش کرتے ہیں، وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ تاریخ کامل لوگوں سے نہیں فیصلہ کن لوگوں سے بدلتی ہے۔
شہداء کے لیے الفاظ ہمیشہ کم پڑ جاتے ہیں چاہے وہ غزہ کے بچے ہوں، لبنان کے جوان ہوں یا کسی اور سرزمین کے سپاہی۔ مگر ایک بات طے ہے کہ جو قومیں اپنی زمین کو محض جغرافیہ نہیں امانت سمجھتی ہیں، وہ آسانی سے نہیں مٹتیں۔ دین کبھی کبھی کتابوں سے نہیں، واقعات سے سمجھ آتا ہے۔
اور رہ گئی تاریخ تو وہ کبھی کبھار ایک ہی رات میں خون، آنسو اور آگ کے روشن حاشیوں کے ساتھ پوری لکھ دی جاتی ہے۔ باقی فیصلہ آنے والی صبحوں نے کرنا ہے کہ کون سا لشکر یاد رکھا جائے گا اور کون سا بیانیہ مٹی میں مل جائے گا۔
ایران زندہ رہے یا کوئی اور ملک —— اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمِ جنوب اپنی تقدیر خود لکھنے کا حوصلہ رکھتا ہے؟ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تاریخ کا پہیہ کبھی یک طرفہ نہیں گھومتا۔ ظلم کے خلاف کھڑا ہونے والے کامل نہ سہی، مگر خاموش رہنے والوں سے زیادہ زندہ رہتے ہیں۔ اور زندہ رہنے والی قومیں کبھی بھی ذِلّت کو وراثت نہیں بننے دیتیں۔
•••••
#بُریدۂ_سَر
#ملک_کاشف_اعوان










