عورت کی پٹائی سے مرد کی دھنائی تک

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

عورت کی پٹائی سے مرد کی دھنائی تک

ہم یہ تو نہیں جانتے کہ ان دونوں میں آپس میں کیا بحث ہو رہی تھی اور اس تکرار کے نتیجے میں انہوں نے ایک دوسرے کو کیا بیہودہ اشارے کئے یا کن گالیوں کا تبادلہ ہوا
لیکن ویڈیو میں یہ تو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مرد وکیل ایک وکیلنی کو مار رہا ہے اور وہ وکیلنی اس کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے۔

ویسے تو اس واقعے کی مذمت کرنی چاہیے اور خاص طور پر ایک مرد کا بھرے مجمع میں عورت پر ہاتھ اٹھانا نہایت ہی نازیبا، غیر اخلاقی اور گری ہوئی حرکت ہے
لیکن مجھے لگتا ہے کہ مجھے یہ یک طرفہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ قصور مرد کا تھا ۔
ہم نے ایسی عورتیں بھی دیکھی ہیں جو مردوں سے زیادہ بدمعاش ہوتی ہیں، جن کے لیے لڑنا اور گالی دینا مردوں کی طرح ایک آسان کام ہے۔
اب وہ خواتین جو ہر وقت شکوہ شکایت کیا کرتی ہیں کہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے، یہاں مردوں کو ہی مواقع ملتے ہیں ۔
عورت کا استحصال کیا جاتا ہے،
اسے پھلنے پھولنے اور ترقی کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
ہمارے سماج میں عورت کی کوئی عزت نہیں ،
ایسی خواتین کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی رائے تبدیل کر سکتی ہیں۔
کیونکہ جتنا میں جانتا ہوں کہ
اس دنیا کو جتنا عورت ذات نے ایکسپلائٹ کیا ہے اتنا کسی مرد ،ڈکیٹر یا ظالم بادشاہ نے بھی نہیں کیا۔
دنیا نے بہت ترقی کی بے کیمیکل ویپنز بنا لیے،
اٹامک بمب بنا لیے ،
گیس لیتھل ویپنز ہماری دسترس میں آگئے،
سائنس دانوں نے نہایت ہی خطرناک ایٹمی اسلحہ اور بم ایجاد کر لیے ہیں
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عورت کی ایک ایجاد ، جی ہاں اس کی صرف ایک ایجاد، سائنس دانوں کی ان سب کامیابیوں پر بھاری ہے اور وہ ہے
اس کے آنسو
یعنی کہ ٹیر بمب،
بڑے بڑے ہیوی ویٹ اس کے سامنے ڈھیر ہوتے دیکھیے ہیں ہم نے۔
ان کی ساری شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ۔ اور مردانہ پن مسمار ہو جاتا ہے جب وہ کسی عورت کا آنسو دیکھ لیتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جس مقصد کے لیے کوئی مرد ،عورت کو آنسو دیتا ہے
اسی مقصد کی خاطر ہی دوسرا مرد، اس عورت کے آنسو پونچھتا ہے ۔

خیر میں ان خواتین کی رہنمائی کر رہا تھا جو گلہ کرتی ہیں کہ یہ سماج مردوں کی فوقیت پر قائم ہے۔
اب آپ دیکھیے، جب اس وکیل نے اس وکیلنی کی پٹائی کی، اس کے بعد اس ہال میں موجود سینکڑوں مردوں کی ہمدردیاں فورا اس خاتون کی طرف منتقل ہو گئیں
اور انہیں اس عورت پر شدید ترس آیا اور اس مرد پر غصہ بھی جو اس خاتون کے ساتھ لڑ رہا تھا۔
کسی بھی عورت کی خوشنودی حاصل کرنا مرد کی فطرت میں شامل ہے ،اب اسی فطرتی جذبے کے تحت کئی مرد مذکورہ وکیل پر ٹوٹ پڑے،
لاتوں ،گھونسوں اور ڈنڈوں سے اس کی خوب دھنائی کی۔
اب ہوگا یہ کہ ایک دوسرے کے خلاف کیس کریں گے، اب ان میں سے جو مضبوط اور طاقتور چیمبر سے تعلق رکھے گا دوسرا اس کا کچھ نہ بگاڑ پائے گا
اور آخر میں ہوگا کیا ؟
ہائی کورٹ بار لاہور ان دونوں کی صلح کرا دے گی۔

لیکن ایک بات میری لکھ لیں، جس خاتون کی خاطر ان مردوں نے دوسرے اپنے وکیل ساتھی کو زد و کوب کیا،
اس سے زندگی بھر کے تعلقات بگاڑے ،
اپنا امیج ڈسٹروئے کیا ،
وکیل کمیونٹی کو دنیا بھر میں رسوا کیا
ان لوگوں کے پاس یہ عورت کبھی شکریہ ادا کرنے بھی نہ آئے گی
اور عین ممکن ہے کہ جب بار میں آمنا سامنا ہو تو وہ انہیں پہچانے بغیر آگے گزر جائے
کیونکہ یہی ہے عورت ذات،
یہی ہے اس کا منفرد انداز، یہی ہے اس کا مکرو فریب لہذا آپ سب لوگوں سے درخواست ہے کہ کبھی انجانی عورت کے لیے۔
اس کی نظروں میں اچھا بننے کے لیے، کبھی کسی مرد کے ساتھ تعلقات خراب مت کیجئے۔
اگر آپ ساری دنیا سے بھی لڑ پڑیں گے تو وہ عورت آپ سے کبھی بھی نہیں پھنسے گی
لیکن کیا کریں ؟
کہا جاتا ہے کہ عورت سر تا پا شر اور خرابی ہے
اور اس سے بڑی خرابی یہ ہے کہ انسان اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔

مزید خبریں