کالم: میں اور میرا دوست
تحریر: ندیم طاہر
گفتگو کا موضوع عام سیاسی بحث سے شروع ہوا، مگر آہستہ آہستہ ایک ایسے دردناک سوال پر آ رکا جس نے ہمیں خاموش کر دیا۔
میرا دوست بولا، “کیا تم نے دیکھا؟ ایک 86 سالہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای خود بھی قربان، پورا خاندان بھی قربان کر گیا اور 2 ارب مسلمان خاموش تماشائی بنے رہے۔ اے مسلمان! اب بھی پوچھتے ہو کربلا کیسی تھی؟ بالکل ایسی تھی۔ ایسے ہی مسلمان چپ رہے تھے۔
اس کے لہجے میں شکوہ بھی تھا اور دکھ بھی۔ میں نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور کچھ دیر سوچتا رہا۔ میں جانتا تھا کہ وہ جذباتی ہے، اور جذبات کی اپنی ایک سچائی ہوتی ہے، مگر تاریخ اور حال کو ایک سیدھی لکیر میں باندھ دینا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
میں نے آہستہ سے کہا، دیکھو،
آج آیت اللہ سید علی خامنہ ای جیسے بزرگ رہنما کا شہید ہو جانا، خاص طور پر ایک ایسی عمر میں، ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ چاہے آپ ان کی سیاسی پالیسیوں سے متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن امت مسلمہ ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی۔۔
لیکن
تاریخ کا ہر واقعہ اپنے سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
کربلا محض ایک جنگ نہیں تھی، وہ حق اور باطل کے درمیان ایک نظریاتی معرکہ تھا، جس میں تعداد نہیں بلکہ اصول اہم تھے۔”
کربلا کا نام آتے ہی ذہن فوراً امام حسین علیہ السلام کی طرف جاتا ہے، جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ دوسری طرف یزید کی حکومت تھی، جو طاقت کے نشے میں چور تھی۔ اُس وقت بھی بہت سے لوگ تھے جو دل سے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے، مگر زبان سے خاموش رہے۔
کچھ خوفزدہ تھے، کچھ مفاد پرست، اور کچھ بے خبر۔
میرا دوست بولا، “تو کیا آج بھی ہم وہی لوگ ہیں؟ جو صرف دل میں ہمدردی رکھتے ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کرتے؟”
میں نے جواب دیا، “سوال یہ نہیں کہ ہم وہی لوگ ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم خود کو کہاں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔
ہم اکثر جذبات میں آ کر موجودہ شخصیات اور واقعات کو کربلا سے جوڑ دیتے ہیں۔ بعض لوگ موجودہ سیاسی قیادت یا مزاحمتی کرداروں کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً ایران کے رہنما سید علی خامنہ ای کو بعض حلقے استقامت اور مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے حامی انہیں عالمی طاقتوں کے مقابل ڈٹ جانے والا رہنما قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کی اپنی آرا ہیں۔
مگر کسی بھی زندہ یا حالیہ شخصیت کو کربلا کے پیمانے پر پرکھنا ایک نہایت حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے۔
میں نے اپنے دوست سے کہا، “کربلا ایک ابدی استعارہ ہے۔ اسے ہر دور میں ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر ہمیں احتیاط کرنی چاہیے کہ کہیں ہم جذبات میں آ کر تاریخ کی عظمت کو اپنے وقتی غصے کا ہتھیار نہ بنا لیں۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر بولا، “لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ امت بکھری ہوئی ہے؟ کہیں جنگ، کہیں فاقہ، کہیں ناانصافی اور ہم سب سوشل میڈیا پر پوسٹیں شیئر کر کے سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا؟”
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ “ہاں، یہ ہماری کمزوری ہے۔ ہم جذباتی تو بہت ہیں، مگر منظم نہیں۔ ہمیں اجتماعی شعور کی ضرورت ہے، تعلیم کی ضرورت ہے، اخلاقی جرات کی ضرورت ہے۔”
میں اور میرا دوست اکثر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اصل مسئلہ قیادت سے زیادہ عوام کی حالت ہے۔ جب معاشرہ کمزور ہو، علم سے دور ہو، فرقہ واریت اور تعصب میں الجھا ہو، تو وہ کسی بھی بڑے امتحان میں متحد نہیں ہو سکتا۔ کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی تھا کہ سچائی کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے صرف تعداد کافی نہیں، کردار بھی چاہیے۔
میں نے کہا، “اگر ہم واقعی کربلا کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا ہم جھوٹ، کرپشن، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں؟ یا صرف بڑی بڑی عالمی باتوں پر غصہ نکالتے ہیں؟”
میرا دوست مسکرایا، مگر وہ مسکراہٹ تلخ تھی۔ “شاید ہم سب اندر سے ڈرتے ہیں۔ اپنی نوکری، اپنا کاروبار، اپنی ساکھ ہم سب کچھ کھونا نہیں چاہتے۔
میں نے جواب دیا، “اسی لیے کربلا ہمیں آئینہ دکھاتی ہے۔ وہاں ایک چھوٹا سا قافلہ تھا، جس کے پاس دنیاوی طاقت نہ تھی، مگر اخلاقی بلندی تھی۔”
ہماری گفتگو طویل ہوتی گئی۔ میں نے آخر میں کہا، “دیکھو، کسی بھی دور کے رہنما یا واقعے کو کربلا سے تشبیہ دینا جذباتی طور پر تو ممکن ہے،
مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں؟ اگر ہم واقعی سمجھتے ہیں کہ آج بھی ‘کربلا’ جیسی کیفیت ہے، تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم خاموش تماشائی تو نہیں؟
میرا دوست گہری سانس لے کر بولا، “تو پھر حل کیا ہے؟”
میں نے کہا، “حل فرد سے شروع ہوتا ہے۔ اپنے اندر سچائی، دیانت، اور جرات پیدا کرنا۔ اپنی اولاد کو علم دینا، اختلاف برداشت کرنا سکھانا، اور ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف کم از کم اپنی سطح پر آواز اٹھانا۔”
گھر لوٹتے ہوئے میں یہی سوچتا رہا کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل سوال ہے جو ہر دور کے مسلمان سے پوچھتا ہے: “تم حق کے ساتھ کہاں کھڑے ہو؟”
میں اور میرا دوست شاید دنیا نہیں بدل سکتے، مگر ہم خود کو بدلنے کا آغاز تو کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی خاموشی کو شعور میں اور شعور کو عمل میں بدل لیا، تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں تماشائی نہیں بلکہ ذمہ دار انسانوں کے طور پر یاد کریں۔
اور شاید تب ہمیں یہ سوال سننے کی ضرورت نہ پڑے کہ “کربلا کیسی تھی؟” کیونکہ ہم خود اپنے کردار سے اس کا جواب دے رہے ہوں گے۔











