تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
دو نہایت اہم اور مختصر باتیں
پہلی بات تو یہ ہے کہ
ادھار دینا بند کر دو۔
ہاں بالکل میں نے یہی کہا کہ
ادھار دینا بند کر دو ،
سننے میں تو یہ بات بہت بری لگتی ہے لیکن زندگی کے اسباق میں سب سے بڑا سبق ہے یہ۔
جب تم کسی کو ادھار دیتے ہو تو تم اس کو صرف نوٹ ہی نہیں دیتے ،
کیونکہ پیسہ تمہارا تحفظ ہے،
تمہارا وقت ہے،
پیسہ تمہاری محنت ہے
اور پیسہ تمہاری عزت ہے۔
اور جب تم کسی کو ادھار دینے لگے ہو تو تم صرف اس کو پیسہ ہی نہیں دیتے
اپنا سکون بھی گروی رکھ دیتے ہو
اور پھر اس سے اپنے مراسم بھی خراب کروا بیٹھتے ہو اور اکثر اوقات تو بات لڑائی جھگڑےاور تھانے کچہری تک بھی پہنچ جاتی ہے۔
دنیا میں لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ادھار لینا ایک ذمہ داری ہے اور اسے واپس کرنا فرض ۔
بلکہ اکثریت ادھار کو اپنی عادت بنا لیتی ہے
اور جو بات عادت بن جائے وہ آہستہ آہستہ تمہاری زندگی کی خوشیوں کو ختم کر دیتی ہے
جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ صرف دو نہایت اہم اور مختصر باتیں۔
اب دوسری بات بتاتا ہوں۔
وہ یہ کہ
کیا تم جانتے ہو کہ انسان کی سب سے بڑی غلط فہمی کیا ہے ؟
اس کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ کسی سے امید رکھتا ہے کہ وہ اسے سکھ دے گا
جبکہ سچ یہ ہے کہ جس سے تم سب سے زیادہ امید رکھتے ہو وہیں سے تمہیں سب سے زیادہ چوٹ پہنچتی ہے
جبکہ چوٹ اس نے تمہیں نہیں دی بلکہ چوٹ تمہیں اس امید نے دی ہے جو تم اس سے لگا بیٹھے ہو۔
تم کیوں اپنا مستقبل کسی کو سونپ دیتے ہو ؟
کیوں اپنی خوشیوں کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دیتے ہو ؟
یاد رکھو، کوئی بھی کسی دوسرے کی خوشیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ۔
میری ان دونوں باتوں کو یاد رکھنا
ورنہ نقصان اٹھاؤ گے











