اتوار,  01 مارچ 2026ء
تیسری جنگِ عظیم؟
میں اور میرا دوست تیسری جنگِ عظیم؟

کالم: میں اور میرا دوست

تحریر: ندیم طاہر

عصر کا وقت تھا اور آج کی افطاری بھی ہمیں ایک ہی جگہ کرنی تھی۔ ہم دونوں محلے کے پارک کی ایک بینچ پر بیٹھے تھے۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی مگر خبروں کی تپش فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ میرا دوست موبائل اسکرین پر نظریں جمائے بولا:
“لگتا ہے دنیا کسی بڑی آگ کی طرف بڑھ رہی ہے… شاید تیسری جنگِ عظیم!”
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی بے چینی تھی جو آج کل کروڑوں لوگوں کی آنکھوں میں ہے وہ پھر بولا:
“یہ دنیا کے چوہدری آخر دنیا کو کیوں نہیں جینے دیتے؟
طاقت کے نشے میں انسانیت کو کیوں روند دیتے ہیں؟

اس کے سوال میں غصہ بھی تھا اور بے بسی بھی میں نے آہستہ سے کہا مسئلہ طاقت کا نہیں، طاقت کے غلط استعمال کا ہے۔
جب عالمی سیاست میں مفادات کو انسانوں پر ترجیح دی جائے تو نتیجہ ہمیشہ بارود کی بو ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ میں نے گہری سانس لی اور کہا:
مجھے ان حملوں پر شدید تشویش ہے۔ میں ان کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ کسی خودمختار ریاست پر یکطرفہ کارروائیاں عالمی قوانین اور علاقائی استحکام دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔ مگر ساتھ ہی میں ایران کی جوابی کارروائیوں کی بھی مذمت کرتا ہوں۔ جواب میں گولہ بارود برسانا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

میرا دوست کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، “لیکن اگر کوئی ملک حملہ کرے تو دوسرا خاموش کیسے رہے؟

میں نے کہا، خاموشی اور سفارت کاری میں فرق ہوتا ہے۔ جواب دینا ضروری ہو سکتا ہے، مگر ہر جواب فوجی نہیں ہوتا۔ سفارت کاری، مذاکرات، عالمی اداروں سے رجوع یہ سب راستے موجود ہیں۔ جنگ کا دروازہ کھولنا آسان ہے، بند کرنا مشکل۔
ہماری گفتگو کا رخ وسیع تر منظرنامے کی طرف مڑ گیا۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار ہے۔ یہاں ایک چنگاری پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی رسہ کشی، علاقائی رقابتیں، اور نظریاتی تقسیم یہ سب مل کر ایسا بارودی ڈھیر بناتے ہیں جس پر صرف ایک چنگاری کافی ہوتی ہے۔

میرا دوست بولا، “تو کیا واقعی تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ ہے؟

میں نے کہا، خطرہ ہمیشہ رہتا ہے، مگر دنیا نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی تباہی بھی دیکھی ہے۔ آج کے رہنماؤں کو تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے دور میں جنگ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات سرحدوں کو نہیں مانتے۔

میں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں گے اور بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالیں گے۔ جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو ہوتا ہے وہ جو نہ پالیسی بناتا ہے، نہ فیصلے کرتا ہے، مگر قیمت سب سے زیادہ وہی چکاتا ہے۔

بچے یتیم ہوتے ہیں، مائیں بیوہ، گھر کھنڈر بن جاتے ہیں، اور خواب راکھ میں بدل جاتے ہیں۔

میرا دوست سر جھکا کر بولا، “امیں اور میرا دوست — تیسری جنگِ عظیم؟
شام کا وقت تھا۔ ہم دونوں حسبِ معمول محلے کے پارک کی ایک بینچ پر بیٹھے تھے۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی مگر خبروں کی تپش فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ میرا دوست موبائل اسکرین پر نظریں جمائے بولا:
“لگتا ہے دنیا کسی بڑی آگ کی طرف بڑھ رہی ہے… شاید تیسری جنگِ عظیم!”
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی بے چینی تھی جو آج کل کروڑوں لوگوں کی آنکھوں میں ہے۔ وہ پھر بولا:
“یہ دنیا کے چوہدری آخر دنیا کو کیوں نہیں جینے دیتے؟ طاقت کے نشے میں انسانیت کو کیوں روند دیتے ہیں؟”
اس کے سوال میں غصہ بھی تھا اور بے بسی بھی۔ میں نے آہستہ سے کہا، “مسئلہ طاقت کا نہیں، طاقت کے غلط استعمال کا ہے۔ جب عالمی سیاست میں مفادات کو انسانوں پر ترجیح دی جائے تو نتیجہ ہمیشہ بارود کی بو ہوتا ہے۔”
گزشتہ دنوں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ میں نے گہری سانس لی اور کہا:
“مجھے ان حملوں پر شدید تشویش ہے۔ میں ان کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ کسی خودمختار ریاست پر یکطرفہ کارروائیاں عالمی قوانین اور علاقائی استحکام دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔ مگر ساتھ ہی میں ایران کی جوابی کارروائیوں کی بھی مذمت کرتا ہوں۔ جواب میں گولہ بارود برسانا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔”
میرا دوست کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، “لیکن اگر کوئی ملک حملہ کرے تو دوسرا خاموش کیسے رہے؟”
میں نے کہا، “خاموشی اور سفارت کاری میں فرق ہوتا ہے۔ جواب دینا ضروری ہو سکتا ہے، مگر ہر جواب فوجی نہیں ہوتا۔ سفارت کاری، مذاکرات، عالمی اداروں سے رجوع—یہ سب راستے موجود ہیں۔ جنگ کا دروازہ کھولنا آسان ہے، بند کرنا مشکل۔”
ہماری گفتگو کا رخ وسیع تر منظرنامے کی طرف مڑ گیا۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار ہے۔ یہاں ایک چنگاری پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی رسہ کشی، علاقائی رقابتیں، اور نظریاتی تقسیم—یہ سب مل کر ایسا بارودی ڈھیر بناتے ہیں جس پر صرف ایک چنگاری کافی ہوتی ہے۔
میرا دوست بولا، “تو کیا واقعی تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ ہے؟”
میں نے کہا، “خطرہ ہمیشہ رہتا ہے، مگر دنیا نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی تباہی بھی دیکھی ہے۔ آج کے رہنماؤں کو تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے دور میں جنگ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات سرحدوں کو نہیں مانتے۔”
میں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں گے اور بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالیں گے۔ جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو ہوتا ہے وہ جو نہ پالیسی بناتا ہے، نہ فیصلے کرتا ہے، مگر قیمت سب سے زیادہ وہی چکاتا ہے۔ بچے یتیم ہوتے ہیں، مائیں بیوہ، گھر کھنڈر بن جاتے ہیں، اور خواب راکھ میں بدل جاتے ہیں۔
میرا دوست سر جھکا کر بولا، اصل میں ہم عام لوگ ہی سب سے زیادہ بے بس ہیں۔ نہ ہمارے پاس طاقت ہے نہ آواز۔
میں نے کہا، “آواز تو ہے، بس ہمیں اسے مثبت انداز میں استعمال کرنا ہے۔ ہمیں جنگ کی حمایت نہیں، امن کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ باور کرانا ہوگا کہ سفارت کاری ہی ہمیشہ حل ہونی چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ کو مزید جنگ کی ہرگز ضرورت نہیں۔
میں نے اسے بتایا کہ میرے حلقۂ انتخاب میں بھی کئی لوگ ہیں جن کے عزیز و اقارب ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں مقیم ہیں۔ وہ ہر لمحہ فکرمند رہتے ہیں کہ نہ جانے کب کوئی خبر دل دہلا دے۔ میری ہمدردیاں ان سب کے ساتھ ہیں جو اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے پریشان ہیں۔ جنگ صرف نقشوں پر لکیریں نہیں بدلتی، دلوں کی دھڑکنیں بھی بدل دیتی ہے۔
میرا دوست کچھ نرم پڑا۔ اس نے کہا، کاش دنیا کے طاقتور رہنما عام انسان کی آنکھ سے دنیا کو دیکھ سکیں۔
اور مشرق وسطی میں ہی پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی بھی افسوسناک ہے۔
افغانستان ہمیشہ کی طرح پیٹ پیچھے وار کرتا اور وطن عزیز پاکستان میں دہشتگردی کروا کر بے گناہ شہریوں کو شہید کرتا ہے۔

میں نے جواب دیا، “اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی کسی ماں کی آہ سن لیں، کسی بچے کی سسکی محسوس کر لیں، تو شاید فیصلے مختلف ہوں۔”
ہم دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی قوانین اور اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ طاقت کے بے لگام استعمال کو روکنے کے لیے اجتماعی عالمی شعور ضروری ہے۔
میڈیا، دانشور، سیاست دان سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اشتعال انگیزی کی زبان آگ بھڑکاتی ہے، جبکہ مکالمہ اسے بجھاتا ہے۔

ہم جنگ کے خلاف آواز اٹھائیں گے، امن کی حمایت کریں گے، اور یہ یاد رکھیں گے کہ دنیا کے چوہدری بھی آخرکار انسان ہیں اور انسان غلطی بھی کر سکتا ہے، مگر درست فیصلہ بھی۔
سوال یہ ہے کہ وہ کون سا راستہ چنتے ہیں: بارود کا یا بات چیت کا؟
میری دعا ہے کہ وہ بات چیت کا راستہ چنیں، کیونکہ دنیا کو جنگ نہیں، امن کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں