تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
ایک جان لیوا ہارٹ اٹیک چاہیے
میں دیکھتا ہوں کہ میں بستر مرگ پہ پڑا ہوں اور میرے بارے میں فکرمند بھائی بہن ،میرے رشتے دار ،جن کے ساتھ ہر وقت کا آنا جانا تھا وہ بھی میرا حال پوچھنے کے لیے کم کم ہی آ پاتے ہیں۔
میرے وہ دوست جن کا میرے گرد جمگھٹا رہتا تھا میں اپنی بیماری میں ان میں سے کسی کو بھی اپنے پاس نہیں پاتا ۔
میری زوجہ دوسرے کمرے میں بیمار پڑی ہے۔
اس کے گھٹنوں میں تکلیف ہے ۔چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔ مختلف بیماریوں اور میرے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ ہم دونوں ہی تکلیف میں ہیں۔
مجھے اس وقت سخت شرمندگی اور دکھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب میل نرس ناگواری سے میرا پیمپر تبدیل کرتا ہے۔
اس کو ماہانہ خرچ میرا بیٹا جو کہ بیرون ملک مقیم ہے وہ بھیجتا ہے۔
میرے وہ بچے جو میرے بغیر نہیں رہ پاتے تھے،
لمحہ لمحہ ،
پل پل
جنہیں
میری رہنمائی
میری محبت
اور میرے ساتھ کی ضرورت تھی، ان میں سے کوئی بھی میرے پاس نہیں ہے۔
سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں۔
انہیں اپنے ماں باپ کی بیماری کا دکھ ہے
تکلیف ہے
اور روزانہ فون کر کے حال بھی پوچھ لیتے ہیں لیکن ہمارے آخری دنوں میں ہمارے پاس نہیں ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر میری بیٹیاں
میرا بیٹا
ان بیماری کے دنوں میں ہمارے پاس ہوتے تو ہماری جان آسانی سے نکل جاتی۔
میں دیکھتا ہوں کہ جب میں جوان تھا
بھاگتا دوڑتا تھا
اور شدید بیمار لوگوں کی تیمارداری کے لیے ان کی طرف جا سکتا تھا
تو یہ خیال نہیں آتا تھا کہ کبھی میں بھی ان کی طرح محتاجی کی زندگی گزاروں گا۔
میں نے اپنی زندگی میں سپر سٹار لوگوں کو اذیت بھری موت سے دوچار ہوتے دیکھا ہے۔
انسان کو جب ،جس وقت اپنے خونی رشتوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تواس وقت وہ اس کو نہیں مل پاتے ۔
یہی زندگی ہے۔
آج میں کروٹ لینے کے لیے بھی کسی کا محتاج ہوں۔
کبھی ہاسپٹل شفٹ کر دیا جاتا ہوں۔
ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
بہت تکلیف ہوتی ہے۔
دل سے دعا نکلتی ہے کہ یا اللہ ہمیں اس تکلیف دہ زندگی سے نجات دے اور اپنے پاس بلا لے
لیکن ڈاکٹرز مجھے پھر گھر بھیج دیتے ہیں جہاں میری بیمار بیوی میرا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
میں تھوڑا پیچھے جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہا ہوں۔
ہم پیسے کماتے ہیں،
گھر کا نظام چلاتے ہیں، شاپنگ کرتے ہیں ،
کھاتے ہیں ،
مزے اڑاتے ہیں
لیکن اچانک یہ وقت اتنی تیزی سے ہمیں بستر مرگ تک لے آتا ہے ۔
میں ذرا اور پیچھے دیکھتا ہوں
یہ میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیل رہا ہوں ،
دنیا کی کوئی پرواہ
کوئی فکر نہیں
کیونکہ میری فکروں کے لیے
میرے مستقبل کی پریشانیوں کے حوالے سے
میرے ماں باپ ہیں نا،
میری ہر بیماری ،ہر تکلیف، ہر پریشانی میں میرے ساتھ ہیں۔
مجھے دنیا میں ہر مشکل سے تحفظ دینے اور میری خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے میرے والدین میرے پاس موجود ہیں۔
کتنی خوبصورت اور حسین زندگی ہے۔
دنیا میں کسی چیز کا خوف نہیں ہے
بس پتا ہے کہ وہ میری ہر مشکل کو آسان کر دیں گے لیکن میرے والدین
وہ بھی ایک دن چلے گئے مجھے دنیا میں تنہا چھوڑ کر۔
آج میں بھی ان کے پاس جانا چاہتا ہوں۔
ان سے ملنا چاہتا ہوں
باپ کے سینے پہ اور اپنی ماں کی گود میں لیٹنا چاہتا ہوں۔
میں انتظار میں ہوں
کہ کب میری روح نکلے میرے جسم سے











