تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
اب پردے سے نکل آو/ یہی سہی موقع ہے
جبکہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
کوئی اللہ کو خبر پہنچا دے کہ حالات بہت بگڑ چکے ہیں۔
ہر طرف ظلم و ستم کا بول بالا ہے۔
رشتے ناتے، دوست احباب، کوئی کسی کا نہیں ۔
کوئی تو خدا کو بتا دو کہ ہر کوئی یہاں ،ہر کسی کو کھانے کے لیے دوڑتا ہے۔
لوگ ایک دوسرے سے متنفر ہیں اور خائف بھی۔
کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
انسانیت دم توڑ چکی ہے، مذاہب آخری سانسیں لے رہے ہیں ۔
اور اب ہم بھی اس کی عبادات کر کر کے تھک چکے ہیں
کوئی خدا کا نیک بندہ جس کو خدا ملا ہو،
جس نے خدا کو پا لیا ہو!
وہ خدا کو پیغام پہنچا دے کہ تیرے بے بس ،عاجز، نا امید و مایوس بندے اس دنیا میں بہت تکلیفیں اٹھا چکے ہیں اپنوں سے بھی غیروں سے بھی ۔
خدا کو کوئی بتا دو کہ اب زندہ رہنے کی کوئی خواہش نہیں رہی ۔
دھرتی پر انسان اپنی زندگی کا بوجھ لیے پھر رہا ہے۔
ہم سب بھیک منگے ہیں۔ بھکاری ہیں ،
صبح سے شام تک اللہ سے مانگتے پھرتے ہیں۔
غریب بھی جھولی پھیلائے اس سے دعائیں مانگتا ہے اور امیر کی بھی خواہشیں ختم نہیں ہوتیں۔
صاحب ثروت تو صدقہ خیرات دان کر کے اس سے سودے بازی کرتا ہے۔
اس سے اور لینا چاہتا ہے اور لے بھی لیتا ہے ۔
کوئی تو خدا کو آگاہ کرے کہ
بس اب مذہب کا کھیل ختم ہو چکا۔
خانقاہوں ،مزاروں، درگاہوں مندروں، مسجدوں ،چرچوں میں ہم لوگوں نے اپنی زندگیاں ختم کر لیں لیکن کچھ نہ ملا سوائے انتظار کے ۔
یہاں تک کہ سکون قلب بھی حاصل نہ ہو سکا ۔
جو میرے جاننے والے اور عزیز عمرے ادا کرتے یا جو حج کر کے آتے ہیں تو میں ان سے ہمیشہ پوچھا کرتا ہوں کہ جو تم نے مسجد نبوی اور خانہ کعبہ میں بیٹھ کے آنسوؤں کے ساتھ، بھیگی آنکھوں سے منتیں مانی ہیں ،خدا کے اور رسول کے حضور دعائیں کی ہیں کتنی دعاؤں کو اللہ نے شرف قبولیت بخشا ؟
کیا لے کے آئے ہو مدینہ اور مکہ سے؟
لیکن ان سوالوں پر وہ لوگ مجھ سے اکثر ناراض ہو جایاکرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ میں جہنمی ہوں۔
کوئی اسے بتائے کہ یہاں ظلم و ستم کی انتہا ہو چکی ہے۔ کوئی طاقتور کسی کمزور کو نہیں چھوڑتا۔ انصاف لینے کے لیے عدالتوں میں سالوں تک لوگوں کو دھکے کھانا پڑتے ہیں ،غریب آدمی کا ہسپتالوں میں علاج نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو وہ جانبر نہیں ہو پاتے۔
تعلیم نہیں ملتی۔
اس کے برعکس امیر آدمی کو فوری اور سستا انصاف گھر پہ ملتا ہے۔
مرتے ہوئے امیر کو بھی ڈاکٹر بچا لیتے ہیں ۔
ٹھیک ہے تو بے نیاز ہے لیکن اب ایسی بھی کیا بے نیازی کہ تیرے سامنے
ماں باپ کی اکلوتی اولاد کو قتل کر دیا جائے۔
سات سال کی معصوم بچی کی اجتماعی آبرو ریزی ہو جائے ۔
پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی کو زمین کے تنازعے پر گولیوں کی بوچھار سے قتل کر دیا جائے ،
کسی بیوہ کی زمین پر ظالم لوگ قبضہ کر کے اس کو دھکے دے کے نکال دیں اور وہ در در کی ٹھوکریں کھاتی پھرے۔
اس کی عبادت کے لیے آئے ہوئے لوگ، مسجد میں ایک کمینے خود کش بمبار کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جائیں اور ان کے چیتھڑے مسجد کے درو دیوار پر چپک جائیں اور وہ بے نیاز رہے۔
ایسی بھی کیا بے نیازی؟ یہ تو بے حسی ہے اس کی
اور وہ جو اس نے وعدہ کیا تھا کہ جو برے کرم کرے گا اسے سزا ملے گی اور جو اچھے کام کرے گا اسے انعام سے نوازا جائے گا۔
وہ جو نیک لوگ ہیں وہ تیرے انعام و اکرام کے ہنوز منتظر ہیں اور جو ظالم ہیں وہ راج کر رہے ہیں اور تمسخر اڑاتے ہیں عوام کا۔
دراصل وہ عوام سے نہیں اللہ سے مذاق کرتے ہیں۔ وہ اللہ کو چیلنج کرتے ہیں کیونکہ وہ ان پر ہاتھ جو نہیں ڈالتا۔
اور پھر ہمارے جاہل اولیاء کرام ہمیں صدیوں سے یہ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے ظالموں کو ڈھیل دے رکھی ہے
اور اب تو ایسا وقت آگیا ہے کہ
لوگ مذہب بیزار ہو رہے ہیں۔
چھوٹے بچے پوچھتے ہیں کہ اللہ ہے تو کیوں وہ فلسطین کے لوگوں کو اسرائیل کی بمباری سے نہیں بچا رہا
اسے نہ نیند آتی ہے اور نہ اونگھ تو پھر یہ ظہور کا بہترین موقع ہے اللہ کے لئے۔
اس سے بہتراور کوئی وقت نہیں کہ وہ باہر آئے جب دنیا بھر کی ظالم افواج اس کے پسندیدہ پیغمبر کی امت پر دھڑا دھڑ حملے کر کے ان کی نسل کشی کر رہی ہیں اور وہ پردہ فرما ہے۔
کوئی جا کے خدا کو بتائے کہ اسے اپنی حقیقت، اپنا سچ دکھانے کا اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ملے گا لہذا یہ چانس ضائع نہ کرے ورنہ مجھے خدشہ ہے کہ جس تیزی سے لوگ مذہب سے متنفر ہو رہے ہیں اگلے 15 /20 سال بعد شاید عبادت گاہیں خالی ہو جائیں۔
کسی کو جان سے مارنے سے بڑا ظلم اور اذیت یہ ہے کہ اس انسان سے جینے کی امید چھین لی جائے۔
اس کی خواہشیں ختم ہو جائیں۔
اسے کسی پر اعتبار نہ رہے۔ اب تو لوگوں کی جینے کی تمنا بھی نہیں رہی
اب تو کوئی تو خدا کو خبر کرو
یہی بہترین موقع ہے کہ اعتکاف سے نکل آئے اور اپنا جلوہ دکھائے











