کالم: میں اور میرا دوست
تحریر: ندیم طاہر
آج میں اور میرا دوست حسبِ معمول چائے خانہ پر بیٹھے تھے۔ اور موبائل فون پر سوشل میڈیا کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ اچانک اس نے ایک خبر کی طرف اشارہ کیا اور بولا دیکھو وہ شادی جس کے چرچے ہر طرف تھے دو ماہ میں ہی ختم ہو گئی۔ میں نے چونک کر اسکرین دیکھی۔ یہ وہی شادی تھی جو کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر محبت کامیابی اور ہم آہنگی کی علامت
بنا کر پیش کی جا رہی تھی۔
خبر کے مطابق سوشل میڈیا پرسنالٹی اور ماہرِ نفسیات نبیہہ علی خان نے 24 نیوز کے پروگرام نورِ رمضان میں آ کر اپنی ازدواجی زندگی کی تلخ داستان بیان کی۔ ان کے مطابق ان کی شادی سوشل میڈیا انفلوئنسر حارث کھوکھر سے ہوئی مگر یہ رشتہ صرف دو ماہ میں ٹوٹ
گیا۔ انہوں نے سنگین الزامات عائد کیے ذہنی تشدد، تضحیک الزامات اور پابندیاں
میرا دوست خاموشی سے سنتا رہا پھر بولا ہم لوگ سوشل میڈیا پر جو کچھ دیکھتے ہیں اسے سچ کیوں مان لیتے ہیں؟
کیا چند تصویریں اور مسکراتے وی لاگز کسی رشتے کی حقیقت بیان کر سکتے ہیں
میں نے گہری سانس لی واقعی سوشل میڈیا کی چمک دمک نے ہمیں حقیقت سے دور کر دیا ہے۔
ہم کسی کی شادی کو ٹرینڈ بنتے دیکھ کر اسے مثالی سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ جو جوڑا کیمرے کے سامنے خوش دکھائی دے رہا ہے، وہ یقیناً حقیقی زندگی میں بھی اتنا ہی خوش ہوگا۔ مگر کیمرے کے پیچھے کی کہانی اکثر مختلف ہوتی ہے۔
نبیہہ علی خان نے پروگرام میں روتے ہوئے کہا کہ انہیں شادی کے بعد شدید ذہنی دباؤ شک اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں اپنے ہی گھر میں آزادی نہیں تھی۔ بیڈروم کا دروازہ بند کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی تھی۔ ہر بات پر شک کیا جاتا، ہر عمل کو غلط رنگ دیا جاتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے شوہر نے اعتراف کیا کہ شادی محبت میں نہیں بلکہ شہرت کے لالچ میں کی گئی۔
میرا دوست بولا، “اگر یہ سب سچ ہے تو یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں، یہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔ یہاں اکثر عورت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر ظلم سہہ لے، بس گھر بچائے رکھے
میں نے اس کی بات سے اتفاق کیا۔ ہمارے معاشرے میں شادی کو ایک مقدس بندھن کہا جاتا ہے، مگر جب اسی بندھن میں عزت، اعتماد اور سکون نہ ہو تو وہ رشتہ قید بن جاتا ہے۔ ایک عورت اگر خاموش رہے تو صابر کہلاتی ہے، اور اگر بول پڑے تو باغی۔
خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ سسرال کے رویے نے ان کی زندگی مزید مشکل بنا دی۔ شوہر ہر معاملے میں اپنی ماں کا ساتھ دیتا رہا اور بیوی تنہا ہوتی گئی۔ انہوں نے گھر بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گھر کے کام ذمہ داریاں، سمجھوتے مگر انجام بے عزتی اور علیحدگی کی صورت میں نکلا۔
میرا دوست کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا، “اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم شادی کو شراکت داری کے بجائے ملکیت سمجھ لیتے ہیں۔ مرد کو لگتا ہے کہ اس نے بیوی پر اپنا نام ثبت کر دیا ہے، اب وہ اس کی مرضی کے مطابق جئے۔
میں نے کہا، “اور سوشل میڈیا اس سوچ کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ لوگ اپنی نجی زندگی کو نمائش بنا دیتے ہیں۔ لائکس اور فالوورز کی دوڑ میں رشتوں کی سچائی کہیں کھو جاتی ہے۔
نبیہہ علی خان نے اعلان کیا کہ وہ مزید خاموش نہیں رہیں گی اور سچ سامنے لائیں گی تاکہ کوئی اور خاتون دھوکے اور اذیت کا شکار نہ ہو۔ ان کی گفتگو کے دوران میزبان بھی جذباتی ہو گئیں۔ یہ منظر دیکھ کر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی—کچھ لوگ ہمدردی میں تھے، کچھ شکوک میں، اور کچھ اسے محض ایک اور “ڈرامہ” قرار دے رہے تھے۔
میں اور میرا دوست اسی بحث پر الجھ گئے۔ اس نے کہا، “ہمیں یکطرفہ کہانی سن کر فیصلہ نہیں دینا چاہیے۔ ہر معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔” میں نے جواب دیا، “درست، مگر جب کوئی عورت کھل کر اپنی تکلیف بیان کرے تو کم از کم اسے سنجیدگی سے سننا تو چاہیے۔ اسے کردار کشی کا نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔”
اصل سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ کہاں کھڑے
ہیں؟
کیا ہم واقعی ذہنی تشدد کو تشدد سمجھتے ہیں؟
اکثر لوگ صرف جسمانی تشدد کو ظلم مانتے ہیں مگر مسلسل تضحیک شک الزام اور تنہائی بھی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ ذہنی دباؤ انسان کی صحت خود
اعتمادی اور مستقبل سب کچھ متاثر کرتا ہے۔
میرا دوست بولا شاید ہمیں شادی سے پہلے صرف ظاہری ہم آہنگی نہیں بلکہ ذہنی پختگی اور کردار کو بھی دیکھنا چاہیے۔
شہرت پیسہ اور فالوورز کسی رشتے کی ضمانت نہیں ہوتے۔
میں نے مسکرا کر کہا اور شاید ہمیں دوسروں کی نجی زندگی کو تماشہ بنانا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ ہر ٹرینڈ ہونے والی خبر پر تبصرہ کرنا ضروری نہیں۔ کچھ معاملات عدالتوں اور خاندانوں کے لیے ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کے لیے نہیں
یہ واقعہ ہمیں کئی سبق دیتا ہے۔ پہلا یہ کہ سوشل میڈیا کی چمک دمک حقیقت نہیں ہوتی۔ دوسرا یہ کہ شادی صرف دو افراد نہیں بلکہ دو خاندانوں اور دو ذہنوں کا ملاپ ہے، جس میں احترام بنیادی ستون ہے۔ اور تیسرا یہ کہ خاموشی ہمیشہ صبر نہیں ہوتی کبھی کبھی بولنا ہی خود کو بچانے کا واحد راستہ ہوتا ہے۔
میں اور میرا دوست آخرکار اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں نہ تو اندھی حمایت کرنی چاہیے اور نہ اندھی مخالفت۔ ہمیں بطور معاشرہ یہ سوچنا ہوگا کہ اگر واقعی کسی عورت یا مرد کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے تو اس کے لیے انصاف کا راستہ کیا ہے۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ شہرت اور سوشل میڈیا کے دور میں رشتے زیادہ نازک ہو گئے ہیں، کیونکہ ہر بات عوامی عدالت میں آ جاتی ہے۔
چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ ہم دونوں خاموش تھے۔ میرے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا: کیا ہم سوشل میڈیا کے تماشائی بن کر رہ جائیں گے یا رشتوں میں احترام اعتماد اور برداشت کی اصل قدروں کو زندہ کریں گے؟
شاید جواب ہم سب کو مل کر تلاش کرنا ہوگا اپنے گھروں میں، اپنے رویوں میں، اور اپنی سوچ میں۔ کیونکہ آخرکار ہر ٹوٹتی شادی صرف دو افراد کی کہانی نہیں ہوتی وہ ہمارے معاشرتی رویوں کا عکس بھی ہوتی ہے۔











