دوحرف/رشید ملک
نئے سال کی آمد پر دنیا بھر میں جشن اور چراغاں بڑے جوش و خروش سے کیا گیا برقی قمقموں کی چکا چوند میں یوں لگ رہا تھا کہ پوری دنیا پر بقعہ نور اتر آیا ہے۔ دنیا خوشیوں اور شدمانیوں کی لہروں پر عازم موج و مستی ہو رہی ہے۔کہیں کوئی محرومی یا استحصال باقی نہیں رہا۔ اللہ مہربان ہو ایسا ہی ہوتا مگر افسوس کہ ایسا نہیں ان سطور کو لکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے انتہائی قابل احترام دوست شہزاد ملک صاحب کا یوم ولادت بھی ہے نیا سال آج کے کالم کا موضوع دراصل اس لیے منتخب کیا گیا کہ لوگوں کے پاس گزرے ہوئے دن مہینوں اور برسوں کے بے شمار حسابات ہوتے ہیں احساسات ہوتے ہیں محرومیاں اور کامیابیوں کی گٹھڑیاں اپنے دل و دماغ اور کندھوں پر لادے پھرتے ہیں۔ نئے سال کی شروعات پر میں صرف اور صرف اپنے قارئین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ ماضی کی ناکامیوں اور تلخیوں کو بھول کر نئے سال میں نئے حوصلوں کے ساتھ نئے جذبوں اور خیالات کے ساتھ داخل ہوں، کامیابیاں اور کامرانیاں یقینا ان کی منتظر ہیں مجھے معلوم ہے کہ اکثریت اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار بھی دوسروں کو ٹھہرا دیتے ہیں اور اگر کوئی دوسرے اس فریم میں پورے نہ آئیں تو وہ بڑی آسانی سے یہ ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ذمہ دار دوسرے ہیں یا حکومت ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کی کامیابیوں کے لیے عزم اور قصد انتہائی ضروری ہے گئے دنوں میں کیا قصد تھا اور کیسا عزم تھا اس کا اندازہ تو خود کوئی بھی شخص اپنی ذات میں لگا سکتا ہے مگر اپنی نبھائی ہوئی ذمہ داریوں کا مشاہدہ وہ دوسروں کے ساتھ اپنے طرز رسم و تعلق اور خدمات کے ثمرات سے لگا سکتا ہے،اور کسی بھی عمل کا یہ نتیجہ نکالنا کوئی زیادہ مشکل نہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک بخوبی ادا کیا۔ مجھے گئے سال میں ہونے والے بے شمار واقعات ایسے ملے جس پر انسانیت شرمسار ہی نہیں بلکہ باعث شرمندگی بھی بنی اگر میں ایک سرسری سا ذکر کروں تو کئی بے گناہ قتل ڈکیتی چوری ظلم بربریت اور انسانیت سوز واقعات کو ضابطہ تحریر میں لانے کے لیے کئی گھنٹے درکار ہوں گے مگر اگر مختصر سی نظر فلسطین اور کشمیر کے مظلوم و محکور عوام پر ڈالی جائے تو ستم ہی ستم بربریت ہی بربریت نظر آتی ہے ظلم و ستم کی ان جھلکیوں میں جہاں اسرائیل اور بھارت کے سفاک اور گھناونے چہرے دنیا کے سامنے پیش ہوتے ہیں وہیں پر مہذب دنیا کی بے حسی بھی خود اس کے منہ پر سوائے کالک کے اور کوئی نشان نہیں چھوڑتی، انسانیت شرمندہ ہے اور انسان حیران ہے یہ دعوے بالکل زمین بوس ہیں اور دلدل میں دھنسی ہوئی دنیا بد انتظامی اور نا انصافی کی قیدی ہے۔ سطور بالا میں اسرائیل اور کشمیر کی محکوم قوموں کو اگر اپنی تحریر کا حوالہ بنایا ہےتو وہاں ضروری ہے کہ امریکہ، برطانیہ،فرانس،اٹلی سمیت یورپ کے وہ مہذب ملک بھی زیر بحث لائے جائیں جنہیں دنیا پہ ترقی اور جدت کی نئی جہتیں متعارف کرانے پر بہت فخر و ناز ہے کیا یہ وہ ملک نہیں ہیں؟کہ جنہوں نے فلسطین اور کشمیر میں بے گناہ معصوم بچوں پر بھارت اور اسرائیل کے آگ اور بارود اگلتے جہاز توپیں اور گولیاں چلتے نہیں دیکھیں؟کیا یہ وہ ملک نہیں ہیں جو کسی کمزور ملک کی طرف کمر کس کر جواز اور بلا جواز کاروائی کرتے ہوئے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں؟کہ ہم جبر اور استبداد کے خلاف آواز اٹھائیں گے بہ زور طاقت مرتکب ملک قوم یا قوت کے خلاف کاروائی کریں گے اور اس وقت تک کریں گے کہ جب تک جبر اور اسبداد ختم نہیں ہو جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے میں اس فلسفے کو نہیں مانتا منصف کبھی اندھے نہیں ہوتے لیکن بے ضمیر ہو سکتے ہیں یہی بے ضمیری ان استعماری طاقتوں نے فلسطین اور کشمیر کے مظلوم و معصوم لوگوں کے متعلق بہت ہی نیچ انداز میں دکھائی ہے آج کشمیر کے اور فلسطین کے بھوک اور پیاس سے بلکتے ہوئے بچے اس نئے سال کا استقبال اپنی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ساتھ انسان کے ساتھ اس کی انسانیت پر نا انصافی کے سوال کے ساتھ کر رہے ہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں دنیا کا کوئی ضابطہ اخلاق ایسا نہیں جس میں انسانیت کی بالادستی کو اس کی تکریم و تحریم کو فوقیت نہ دی گئی ہو،مگر یہ کیا کہ نام نہاد مہذب قومیت کے دعوے دار یہ بڑے بڑے استعماری ممالک بے ضمیری کے اس اندھے گھاٹ پر یوں کھڑے ہیں جیسے اندھیرا ان کے ننگے پن کو چھپائے ہوئے ہے،لیکن میں یہ المیہ بالکل یہاں رکھنا چاہتا ہوں کہ انصاف کے تقاضے کسی طرح بھی مفلوج نہیں ہو سکتے اور انصاف کو اندھا قرار دے کر اس سے رو گردانی نہیں کی جا سکتی نہ ہی اس کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جاسکتی ہیں۔میں نے کالم کی اس تحریر کی سطروں میں استعمال ہونے والے ان مذمتی الفاظ کے ساتھ کشمیر کے بلکتے سسکتے اور فلسطین کے آہ و بکاہ کرتے ہوئے بچوں،ضعیفوں خصوصا خواتین سے اظہار یکجیتی کرتے ہوئے احساس ندامت کے ساتھ معافی چاہتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ پروردگار نیا سال 2026 ان پر ظلم و ستم سے مسلط کیے گئے درد دکھ اور خوف کا مداوا لے کر آئے ان کے لیے آزادی اور آسانیوں کے ساتھ نئے سال کے سورج کی ہر کرن اترے۔ میرے فلسطین کے بچوں پیر و جوان اور مستورات اللہ آپ کے لیے اس نئے سال کو امن و آشتی کا گہوارہ بنائے آخر میں اپنے کالم کی گرہ بندی کرتے ہوئے میں اپنے دوست شہزاد ملک کو اس کے جنم دن پر تہہ دل سے سالگرہ مبارک بھی کہنا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ شہزاد ملک سمیت ملک پاکستان اور اس میں بسنے والے ہر ایک فرد کے لیے مبارک ہو مبارک ہو یہ نیا سال مبارک ہو۔











