راولپنڈی (رپورٹ عرفان حیدر) پاکستان کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور کوچ میاں فیاض احمد نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی شاندار کارکردگی سے ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ 29 اپریل 1959 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور 1980 سے 1993 تک پاکستان کی مختلف ڈومیسٹک ٹیموں کی نمائندگی کرتے رہے۔
میاں فیاض احمد ایک باصلاحیت آف اسپن باؤلر تھے جنہوں نے اپنے 13 سالہ کرکٹ کیریئر میں مجموعی طور پر 64 فرسٹ کلاس میچز کھیلے اور 191 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین باؤلنگ 6 کھلاڑی 26 رنز کے عوض رہی، جو ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 18 لسٹ اے میچز میں بھی حصہ لیا۔انہوں نے لاہور سٹی، ملتان، پاکستان آٹوموبائل کارپوریشن، پنجاب گورنرز الیون اور پاکستان انویٹیشن الیون سمیت مختلف نامور ٹیموں کی نمائندگی کی۔ ان کی مستقل مزاج کارکردگی نے انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کا ایک قابلِ احترام کھلاڑی بنایا۔کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد میاں فیاض احمد نے کوچنگ کے شعبے میں بھی خدمات انجام دیں اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ مختلف کرکٹ اکیڈمیز سے وابستہ رہے جہاں انہوں نے نئی نسل کو جدید کرکٹ کے تقاضوں سے روشناس کرایا۔کرکٹ حلقوں میں میاں فیاض احمد کو ایک منجھے ہوئے باؤلر، بہترین کوچ اور شفیق استاد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
پاکستان کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور کوچ میاں فیاض احمد اچانک دل کے دورے کے باعث انتقال کر گئے میاں فیاض احمد نے کرکٹ کیریئر کا آغاز 1988 میں کیا اور 1999 تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی
عمران خان کی صحت سے متعلق خبریں تشویشناک ، مناسب علاج فراہم کیا جائے ، سابق کرکٹرز
انہوں نے اپنی کرکٹ کی زندگی میں گگلی اسپنر عبد القادر، بیٹنگ اسٹار جاوید میاں داد اور وسیم اکرم کے ساتھ میدان میں کھیل کا تجربہ حاصل کیا میاں فیاض احمد نے زندگی کے آخری چند سال ایک اولڈ ہوم میں گزار رہے تھے انہوں نے مختلف این جی اوز اور بچوں سمیت نیشنل کالج کے کھلاڑیوں کو تربیت دیتے ہوئے کرکٹ میں رہنمائی فراہم کی۔پاکستان کرکٹ کمیونٹی اور مداحوں کے لیے یہ خبر صدمے کا باعث بنی۔
میاں فیاض احمد اپنی خدمات اور خلوص کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔











