پی ٹی آئی کے ممبر اپنا وزیراعظم کیسے بنا سکتے ہیں؟

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے انتخابات کےبعد موجودہ سیاسی صورتحال سمیت مرکزی اور صوبائی حکومتیں بنانے کے حوالے اپنے تبصرے میں کہاہے کہ صدر مملکت کا کام اسمبلی بلانا ہے اور پھر وہاں کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاتے ہیں جو بھی پارٹی اکثریت میں ہوگی وہی حکومت بنائے گی۔ انہوںنےلطیف کھوسہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ لارجسٹ پارٹی ہے ؟اگر پی ٹی آئی کے پاس اکثیریت ہوگی تو وہ حکومت بنالےگی لیکن ایسا ممکن تب ہوگا جب پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی اتحاد کرلے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے ایک دوسرے کو مسکراتے ہوئے دیکھا ملاقاتیں بھی کیں۔مسلم لیگ نے دانشور اورحامی پارٹی قیادت کویہ مشورے دے رہے ہیں کہ وہ حکومت میں شامل نہ ہوں۔ وزارت عظمیٰ قبول نہ کریں کیونکہ پارٹی کے پاس اکثیریت نہیں، اسلئے آپ اپوزیشن میں بیٹھیں۔پیپلزپارٹی کوکو وو ٹ دیں لیکن حکومت کا حصہ نہ بنے۔

مجیب الرحمن شامی نے کہاکہ جو مشور ہ ن لیگ کو دیا جارہا تھا اس پر پیپلز پارٹی نے عمل کردیا۔اب پیپلز پارٹی ووٹ ن لیگ کو دے گی لیکن حکومت کاحصہ نہیں بنے گی۔ اس دورران پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید نے نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ میری نظر میں تو ن لیگ کے قائد الیکشن ہار چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 9 اور پنجاب اسمبلی کے 11 حلقوں کے نتائج روک دیے

مجیب الرحمن شامی کے مطابق پیپلز پارٹی نے کہاہے کہ آپ وزیراعظم بن جائے صدارت ہمیں دے دیں۔آصف علی زرداری مملکت بن جائے ، کیونکہ وہ پاکستان کوموجودہ درپیش مسائل سے نکال سکتا ہے۔ آپ حکومت کریں ، اعتماد نہیں آئے گا۔