علی امین کی وزیراعلیٰ کے پی نامزدگی کیوں کی گئی؟سوشل میڈیا پر بھونچال آگیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)تحریک انصاف کے حمایت یافتہ علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ کے پی نامزد کرنے کے بعد سوشل میڈپا پر بھونچال آگیا،سوشل میڈیا صارفین نے علی امین کی نامزدگی کو ناپسند کرتے ہوئے انہیں نامزدکرنے والوں کو ماضی میں ہونے والے واقعات یاد دلا دیئے جس میں مبینہ طو ر پر علی امین گنڈاپور ملوث پائے گئے تھے،تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیاایکٹیوسٹ ڈاکٹرعائشہ نوید نے کہاکہ یہ وہی علی امین ہیں جو لڑکی کو برہنہ کرنے کے واقعے میں ملوث ہیں اور ایسے لوگوں کی اتنے بڑے عہدے کے لئے نامزدگی افسوسناک ہے،ڈاکٹر عائشہ نے اس حوالے سے نجی ٹی وی کے اینکر پرسن کامران خان کی ایک تفصیلی ویڈیو کا حوالہ بھی دیا جس میں کامران خان نے سارا واقعہ بیان کیا،کامران خان کا کہنا تھا کہ یہ 2017کاواقعہ ہے،ایک یتیم لڑکی کو برہنہ کرنے کے واقعے میں علی امین گنڈا پور ملوث ہیں۔

مزید پڑھیں: صدر آئی پی پی علیم خان نے پی پی 149سےبھی میدان مارلیا


اوریہ الزام تحریک انصاف کے ہی اس وقت کے رکن قومی اسمبلی داوڑ خان کنڈی نے عائد کیا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو برہنہ کرنے کے واقعے میں ان کے ساتھی اور خیبرپختون خوا میں وزیر مالیات علی امین گنڈا پور ملوث ہیں۔ داوڑ خان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، جہانگیرترین اور دیگر پارٹی رہنماں کو خط لکھاتھا جس میں بتایا تھا کہ علی امین گنڈا پور ڈیرہ اسماعیل خان میں جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کررہے ہیں اور چند روز قبل لڑکی سے زیادتی کے واقعے میں بھی صوبائی وزیر ہی ملوث ہیں جس کی میں نے خود تحقیقات کی ہیں۔


داوڑ خان نے عمران خان اور دیگر سے درخواست کی تھی کہ علی امین گنڈا پور پارٹی کا نام بدنام کررہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کو انصاف دلایا جائے۔


داوڑ خان کنڈی کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر 2017کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے مٹ میں 16 سالہ لڑکی کو برہنہ کرکے گلیوں اور بازاروں میں گھمایا گیا تھا جس کی تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ واقعے میں علی امین گنڈا پور ملوث ہیں، میں نے پارٹی رہنماں کو خط لکھا لیکن 2 روز گزرنے کے باوجود تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔
واضح رہے کہ 27 اکتوبر2017کو خیبرپختون خوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیاتھا جب 16 سالہ لڑکی کو بھرے بازار میں بے لباس کیا گیا اور برہنہ حالت میں گلیوں اور بازاروں میں گھمایا گیا۔ پولیس کے مطابق 27 اکتوبر کو لڑکی کو برہنہ کرکے گھمانے کا واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا۔