اسلام آباد(سعد عباسی) وفاقی دارالحکومت میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے آبپارہ اخبار مارکیٹ سیل کرنے اور اخبارات ضبط کیے جانے کے خلاف ہاکرز اور تاجر تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے جڑواں شہروں میں اخبارات کی ترسیل معطل کرنے کی دھمکی دے دی۔
اخبار مارکیٹ ہاکرز یونین اور تاجر تنظیموں نے سی ڈی اے کے اقدام کو آزادیٔ صحافت پر حملہ اور معلومات تک رسائی کے بنیادی حق پر قدغن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹ کو فوری طور پر ڈی سیل کیا جائے اور ضبط شدہ اخبارات واپس کیے جائیں۔
ہاکرز اور اخبار فروشوں کے مطابق آبپارہ اخبار مارکیٹ کئی دہائیوں سے قائم ہے اور اسلام آباد و راولپنڈی میں اخبارات کی ترسیل سے وابستہ سینکڑوں ہاکرز، ایجنٹس اور تقسیم کاروں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کو اچانک سیل کرنے سے نہ صرف اخبارات کی تقسیم متاثر ہوئی ہے بلکہ محنت کش طبقے کے معاشی مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یونین کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر مارکیٹ کو متبادل جگہ فراہم کیے بغیر اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سیل کیا گیا ہے تو یہ انتظامی ناانصافی ہے۔ انہوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سی ڈی اے کے اقدام پر نظرثانی کی جائے۔
دوسری جانب ہاکرز اور اخبار فروشوں نے آبپارہ چوک پر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ مظاہرین نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں پریس کلب اور سی ڈی اے ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔
کینیڈا سے پاکستان منتقل ہونے والے میاں بیوی کی پُراسرار موت : پولیس کا اہم انکشاف
اخبار مارکیٹ ہاکرز یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مارکیٹ کو فوری طور پر ڈی سیل کرکے ضبط شدہ اخبارات واپس نہ کیے گئے تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں اخبارات کی سپلائی مکمل طور پر معطل کر دی جائے گی، جس سے دونوں شہروں میں اخبارات کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ادھر تاجر تنظیموں اور یونین کے وکلا نے سی ڈی اے کی کارروائی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ دہائیوں سے قائم مارکیٹ کو مبینہ طور پر پیشگی نوٹس دیے بغیر سیل کرنا غیر قانونی ہے۔
تاحال سی ڈی اے کا اس معاملے پر باضابطہ مؤقف سامنے آنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔











