هفته,  28 مارچ 2026ء
آپریشن غضب للحق سے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں65 فیصد کمی

کابل(روشن پاکستان نیوز) افغانستان میں رواں سال 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب دہشتگردوں کےخلاف آپریشن غضب للحق شروع ہونے کےبعد خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی آگئی۔

سرکاری دستاویز کے مطابق رواں سال آپریشن غضب للحق سے پہلےکے پی میں دہشتگردی کے 240 واقعات ہوئے جب کہ آپریشن کے بعد صوبے میں اب تک دہشتگردی کے 80 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور  دہشتگردی کے واقعات میں65 فیصد کمی آئی ہے۔

سرکاری دستاویز  میں بتایا گیا ہے کہ  آپریشن سے پہلے رواں سال کےنویں ہفتے دہشتگردی کے سب سے زیادہ 48 واقعات رپورٹ ہوئے جو آپریشن کےبعد رواں سال کے بارہویں ہفتے میں کم ہوکر12 رہ گئے۔

دستاویز کے مطابق رواں سال کے دسویں ہفتے دہشتگردی کے 42 اور گیارہویں ہفتے 29 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ صوبے میں رواں سال مجموعی طور پر دہشتگردی کے 323 واقعات رپورٹ ہوئے۔

آپریشن غضب للحق جاری ہے، اب تک طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 زخمی ہوئے: ڈی جی آئی ایس پی آر

اس حوالے سے  وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جیونیوز سے بات چیت میں بتایا کہ افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے دہشتگردی میں کمی آئی ہے، ملک سے ہر صورت دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

 ان کا کہنا تھا کہ آپریشن غضب للحق میں اسلام آباد اور بنوں سمیت ملک میں دہشتگردی حملوں میں ملوث ماسڑ مائنڈ مارے گئے ہیں،  آپریشن کے دوران پاکستان پرحملوں کےلیے افغان سرزمین استعمال کرنے والے کئی خطرناک دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے ہیں،افغانستان کی عبوری حکومت کو کالعدم دہشتگرد تنظیم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی تھی۔

دوسری جانب جیو نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر مثبت اثرات پڑے ہیں، دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، دہشتگردی کے واقعات میں کمی پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عمدہ کارکردگی کی بدولت ہوئی۔

مزید خبریں