جمعه,  27 مارچ 2026ء
امتحانات میں نیا سسٹم نافذ! میٹرک اور انٹر کے طلبا کے لیے بڑی خبر آگئی
Technical, agriculture groups proposed at matric level

کراچی (روشن پاکستان نیوز) سندھ حکومت نے امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے جدید واٹر مارکنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا، کراچی میں نویں کے تمام اور میٹرک کے صرف 2 پیپر ای مارکنگ کے ذریعے لئےجائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے امتحانات میں شفافیت برقرار رکھنے اور نقل کی روک تھام کے لیے انقلابی اقدامات کا فیصلہ کیا۔

صوبائی وزیر برائے جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نئے تعلیمی سال کے امتحانات کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کراچی میں ‘میرا سلطان’ سیریز چل رہی ہے ،ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار

اسماعیل راہو نے اعلان کیا کہ امسال امتحانی پرچوں پر جدید واٹر مارکنگ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے، جس کی مدد سے پیپر آؤٹ کرنے والے شخص یا مرکز کا فوری سراغ لگایا جا سکے گا۔

سکھر اور شہید بینظیر آباد ڈویژن تمام امتحان ای مارکنگ کےتحت لیں گے، جبکہ لاڑکانہ بورڈ نویں تا 12 ویں جماعت تک فی الحال 8 پیپر اور کراچی میں نویں کے تمام اور میٹرک کے صرف 2 پیپر ای مارکنگ کے ذریعے لئےجائیں گے۔

وزیر تعلیمی بورڈز سندھ نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر سندھ بھر میں امتحانات اپنی مقررہ تاریخوں پر ہی ہوں گے۔

محمد اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں آئندہ ماہ 7 اپریل سے نویں تا بارہویں جماعت کے 13 لاکھ 53 ہزار 258 طلبہ امتحانات میں حصہ لیں گے ، جس کے لئے سندھ بھر میں 16 سو سے زائد امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کراچی میں 11ویں تا 12ویں کے امتحانات 25 اپریل اور نویں تا دسویں جماعت کے 7 اپریل سے شروع ہوں گے جبکہ سسکھر ڈویژن میں نویں تا دسویں30مارچ،اور گیارہویں تا بارہویں جماعت کے امتحان 15 اپریل سے شروع ہوں گے۔

وزیر تعلیمی بورڈز سندھ نے کہا کہ تمام امتحانی سینٹرز پر موبائل فونز لانے پر پابندی، اور مراکز میں 144 نافذ کی جائے گی۔

صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ امتحانی مراکز میں پینے کے صاف پانی، فرنیچر اور بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کو خطوط لکھنے کی ہدایت کی تاکہ امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کی جائے تاہم شکایات کے ازالے کے لیے سیکریٹری بورڈز کے دفتر میں خصوصی صوبائی شکایتی سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں سیکریٹری جامعات عباس بلوچ اور تمام تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز نے شرکت کی، جنہیں اسماعیل راہو نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کہیں بھی پیپر لیک ہوا تو متعلقہ بورڈ چیئرمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

مزید خبریں